اسرائیل: اقوام متحدہ کے 2 عہدیدار 'نازیبا ویڈیو' سامنے آنے پر معطل

اپ ڈیٹ 04 جولائ 2020

ای میل

اقوام متحدہ نے ویڈیوسامنے آنے کے بعد تفتیش شروع کردی تھی—فائل/فوٹو:ڈان
اقوام متحدہ نے ویڈیوسامنے آنے کے بعد تفتیش شروع کردی تھی—فائل/فوٹو:ڈان

اقوام متحدہ نے اسرائیل میں دفتر کی گاڑی میں مبینہ جنسی تعلق کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد 2 عہدیداروں کو بغیر تنخواہ کے چھٹی پر بھیج دیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک کا کہنا تھا کہ 'مجھے ویڈیو کی وجہ سے افسوس ہوا اور مضطرب ہوں'۔

خیال رہے گزشتہ ماہ تل ابیب میں اقوام متحدہ کی گاڑی کے اندر جنسی تعلق کی ویڈیو سامنے آئی تھی جو سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی تھی۔

مزید پڑھیں:اسرائیل: اقوام متحدہ کی گاڑی میں 'جنسی تعلق' کی ویڈیو وائرل ہونے پر تحقیقات کا آغاز

اقوام متحدہ نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا تھا۔

تفتش کے آغاز کے بعد اب اقوام متحدہ کا کہنا ہے ویڈیو میں دکھائے گئے عہدیدار کی شناخت ہوچکی ہے اور وہ اسرائیل میں تعینات اقوام متحدہ کے نگرانی کے ادارے (یو این ٹی ایس او) اور ملٹری مبصرین کا رکن ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ 2 عہدیداروں کو تفتیش مکمل ہونے تک بغیر تنخواہ کے معطل کردیا گیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کی داخلی سطح پر ہونے والی تفتیش تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔

ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے کہا کہ دونوں عہدیداروں کی معطلی الزامات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بالکل صحیح ہے جو بین الاقوامی سرکاری ملازم سے قواعد پر عمل کرنے کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 'یو این ٹی ایس او نے اپنے عہدیداروں کو اقوام متحدہ کے قواعد و ضواط کے مطابق عائد ذمہ داریوں کی یاد دہانی کے لیے آگاہی مہم دوبارہ شروع کردی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ اپنے عہدیداروں کو جنسی تعلقات رکھنے کے معاملات پر سختی سے پیش آتا ہے۔

اقوام متحدہ کے قواعد کے مطابق کوئی عہدیدار اگر قواعد کی خلاف ورزی کرتا ہے تو انہیں برطرف کیا جاسکتا ہے یا اقوام متحدہ کے امن عمل میں شامل ہونے پر پابندی بھی لگائی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پناہ گزین بچوں کو جنسی تعلقات کے بدلے خوراک کی فراہمی کا انکشاف

تاہم ان عہدیداروں کے خلاف مزید قانونی کارروائی کرنے کی ذمہ داری ان کے ملک کی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند برس میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں شامل فوجیوں اور دیگر عملے پر جنسی نوعیت کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اسٹاف پر 2019 میں جنسی استحصال اور بدسلوکی پر مبنی کُل 175 الزامات لگے تھے، ان الزامات میں سے 16 کو ناقابل ضمانت جبکہ 15 ناقابل سماعت قرار دیا گیا تھا اور دیگر کے بارے میں ابھی تفتیش جاری ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اقوام متحدہ کی صفوں کے اندر جنسی تعلقات کے حوالے سے بلکل رعایت نہ دینے کا رویہ اپنانے کا وعدہ کر چکے ہیں۔