خیبرپختونخوا: کورونا کیسز میں کمی کے بعد 89 علاقوں سے لاک ڈاؤن ہٹادیا گیا

اپ ڈیٹ 04 جولائ 2020

ای میل

مردان میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے علاقوں سے گزشتہ 6 روز سے کوئی کیس سامنے نہیں آیا  —فائل فوٹو: اے ایف پی
مردان میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے علاقوں سے گزشتہ 6 روز سے کوئی کیس سامنے نہیں آیا —فائل فوٹو: اے ایف پی

خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کے فوکل پرسن ڈاکٹر افتخار الدین نے کہا ہے کہ کورونا وائرس ہاٹ اسپاٹس میں کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی کے بعد صوبے کے 89 علاقوں سے اسمارٹ لاک ڈاؤن ہٹادیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پشاور کے 8، مردان کے 5، نوشہرہ کے 15، باجوڑ کے 8، ایبٹ آباد کے 8، لوئر دیر کے 5، بونیر اور چارسدہ کے 4،4، ہری پور، سوات اور مالاکنڈ کے 3، 3، اپر چترال کے 2، اپر دیر اور بنوں کے ایک، ایک علاقے سے لاک ڈاؤن ہٹادیا گیا۔

فوکل پرسن نے کہا کہ حکومت کی 'اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی' سے کورونا وائرس کے کیسز میں 80 فیصد کمی آئی۔

مزید پڑھیں: پاکستان 'اسمارٹ لاک ڈاؤن' متعارف کرانے والوں میں سے ہے، وزیر اعظم

انہوں نے کہا کہ مردان میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے علاقوں سے گزشتہ 6 روز سے کوئی کیس سامنے نہیں آیا جبکہ ضلع نوشہرہ میں 21 جون کو سامنے آنے والے 31 کیسز کے مقابلے میں گزشتہ روز صرف ایک کیس سامنے آیا۔

اس حوالے سے تفصیلات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضلع مانسہرہ سے صرف ایک کیس سامنے آیا جبکہ 22 جون کو 32 کیسز سامنے آئے اور باجوڑ میں 16 جون کو سامنے آنے والے 12 کیسز کے مقابلے میں گزشتہ روز 3 کیسز رپورٹ ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سوات اور پشاور سے سامنے آنے والے کیسز کی تعداد میں 70 فیصد کمی آئی۔

صوبے میں 50 فیصد سے زائد مریض صحتیاب

خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس سے صحتیابی کی 48.08 فیصد شرح کے مقابلے می خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے 50 فیصد سے زائد مریض شفایاب ہوچکے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ایک رپورٹ میں کہا کہ صوبے میں 27 ہزار 506 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے جن میں سے 15 ہزار 52 یعنی 50.42 فیصد صحتیاب ہوئے۔

خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے ڈین پروفیسر ضیا الحق نے ڈان کو بتایا کہ نئی ہدایات کے باعث صحتیاب مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا بحران میں صحیح سمت کیلئے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تدبیر پر فخر ہے، عمران خان

انہوں نے کہا کہ وائرس سے کلیئرنس کی تصدیق اور آئسولیشن سے ڈسچارج کی اجازت کے لیے ابتدائی سفارشات میں مریض کے کلینیکلی صحتیاب ہونے اور 24 گھنٹے کے فرق سے لیے گئے 2 آر ٹی-پی سی آر کے منفی نتائج کی ضرورت ہوتی ہے۔

پروفیسر ضیاالحق نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کی ہدایات اور حالیہ تحقیق کے مطابق اگر کسی مریض میں کم از کم 10 روز بعد کورونا وائرس کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی اور بغیر کوئی ادویات لیے 72 گھنٹے تک اس میں کوئی علامات یا بخار ظاہر نہیں ہوتا تو اسے صحتیاب افراد کی فہرست میں شامل کردیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: ملک کے مختلف صوبوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن سے متعلق معلومات جاری

انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر اگر مریض میں 2 دن تک علامات ظاہر ہوئیں تو علامات ظاہر ہونے کی تاریخ سے لے کر 13 دن بعد اسے آئسولیشن سے ڈسچارج کیا جاسکتا ہے، 14 روز تک علامات ظاہر کرنے والے مریض کو 17 روز بعد، 30 روز تک علامات ظاہر کرنے والے مریض کو علامات کے آغاز سے لے کر 33 دن بعد ڈسچارج کیا جاسکتا ہے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا نے 23 جون کو نئی ہدایت اپنائیں جس کے تحت کورونا وائرس کے مریضوں سے فون پر رابطہ کرکے علامات سے متعلق پوچھا جاتا اور اگر ان میں علامات ظاہر نہیں ہوئیں تو انہیں صحتیاب قرار دے دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قبل ازیں مریض ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار کرتے تھے جس کے باعث صحتیاب اور کورونا ٹیسٹ منفی ڈکلیئر کرنے میں طویل وقت لگتا تھا۔