کراچی: دارالسکون کی انچارج سسٹر روتھ لیوس کورونا وائرس سے انتقال کرگئیں

اپ ڈیٹ 21 جولائ 2020

ای میل

سسٹر روتھ لیوس کی عمر 77 برس تھی اور ان کا انتقال پیر (20 جولائی) کی رات کو ہوا— فوٹو: بشکریہ دارالسکون ویب  سائٹ
سسٹر روتھ لیوس کی عمر 77 برس تھی اور ان کا انتقال پیر (20 جولائی) کی رات کو ہوا— فوٹو: بشکریہ دارالسکون ویب سائٹ

کراچی میں ذہنی اور جسمانی معذور افراد کا علاج کرنے اور بے گھر افراد کو رہائش فراہم کرنے والے ادارے دارالسکون کی انچارج سسٹر روتھ لیوس آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں کورونا وائرس سے انتقال کرگئیں۔

اس حوالے سے دارالسکون نے ایک بیان میں کہا کہ سسٹر روتھ لیوس کی عمر 77 برس تھی اور ان کا انتقال پیر (20 جولائی) کی رات کو ہوا۔

دارالسکون کے ہیومن ریسورسز مینیجر طارق سیموئیل نے کہا کہ سسٹر روتھ لیوس 9 جولائی سے ہسپتال میں داخل تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دارالسکون میں 21 بچے کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے لیکن سسٹر روتھ لیوس ان کی خدمت کرتی رہیں۔

مزید پڑھیں: ملتان: نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کورونا وائرس کے باعث انتقال کرگئے

ہیومن ریسورسز مینیجر نے کہا کہ 8 جولائی کو ان کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا اور ایک روز بعد انہیں ہسپتال لے جایا گیا تھا جہاں انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا۔

دارالسکون کے فیس بک پیج پر جاری ایک بیان میں انتظامیہ نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ 'ہمارے تمام بچے، راہبائیں اور عملہ دکھی ہے کیونکہ ہم نے اپنا ایک بہت بڑا حصہ کھو دیا ہے'۔

دارالسکون کے بیان میں کہا گیا کہ براہ کرم ان بچوں کے لیے دعا کریں جن کے لیے وہ ایک ماں کا درجہ رکھتی تھیں، ان راہبوں کے لیے دعا کریں جن کے لیے وہ ایک بہن تھیں اور متاثر کن شخصیت تھیں اور تمام عملے کے لیے جو ان سے محبت کرتا ہے اور ہر دن ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرے گا۔

ایک اور پوسٹ میں دارالسکون نے کہا کہ 'انسانیت کے لیے بڑے پیمانے پر، بے سہارا شدید معذور بچوں اور بوڑھوں، معاشرتی طور پر بے گھر لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے ان کی خدمات قابل ذکر ہیں، ان کی خدمت کا عرصہ تقریباً 51 سال پر محیط ہے۔     دارالسکون کی انتظامیہ، جو معذور افراد کو مکانات اور رہائش مہیا کرتی ہے ، نے مشکل وقت میں ہمیشہ مدد کرنے پر پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں: حیدرآباد میں کورونا وائرس سے ایک اور ڈاکٹر جاں بحق   بیان میں مزید کہا گیا کہ حکومت سندھ نے سسٹر روتھ لیوس کے علاج کے اخراجات برداشت کیے اور کورونا سے متاثرہ بچوں کے لیے دارالسکون میں قائم قرنطینہ وارڈز کے ساتھ تعاون بھی کررہی ہے۔   اس کے ساتھ ہی بیان میں کہا کہ حکومت سندھ نے فوری طور پر پرسنل پروٹیکٹو ایکوئپمنٹ (پی پی ای) اور ادویات کے ساتھ فوری طور پر ڈھائی لاکھ روپے کی گرانٹ بھی فراہم کی ہے۔

 دوسری جانب حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے بھی سسٹر روتھ لیوس کے انتقال کی تصدیق کی اور لوگوں کے لیے ان کی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا۔

مزید پڑھیں: کراچی میں کورونا وائرس سے ایک اور ڈاکٹر کی موت

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہمارے معاشرے کے لیے ان کی بے لوث خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کی قدر کی جائے گی۔

 ترجمان حکومت سندھ نے سسٹر روتھ لیوس کے اہل خانہ، دارالسکون کے عملے اور تنظیم کے رہائشی بچوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔

دارالسکون کے فیس بک پیج کے مطابق، سسٹر روتھ لیوس، 1969 میں سسٹر گیرٹروڈ لیمنس میں قیام کے وقت سے خدمات سرانجام دے رہی تھیں تاکہ مختلف امراض میں مبتلا لوگوں کو خدمت کی جاسکے۔