ڈاکٹر فیصل سلطان وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت مقرر

اپ ڈیٹ 03 اگست 2020

ای میل

ڈاکٹر فیصل سلطان—فائل فوٹو: فیس بک
ڈاکٹر فیصل سلطان—فائل فوٹو: فیس بک

وزیراعظم عمران خان نے ڈاکٹر فیصل سلطان کو معاون خصوصی برائے صحت مقرر کردیا۔

اس حوالے سے دفتر وزیراعظم سے جاری ایک اعلامیے میں بتایا گیا کہ وزیراعظم نے ڈاکٹر فیصل سلطان کو معاون خصوصی برائے قومی صحت سروسز، ریگولیشنز اور کوآرڈینیشن مقرر کیا ہے، جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔

مزید پڑھیں: 'مختلف معاملات پر تنقید'، معاونین خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا، تانیہ ایدروس مستعفی

ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ گیا کہ ڈاکٹر فیصل سلطان کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر ہوگا۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر فیصل سلطان وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے کووڈ 19 کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر فیصل سلطان کو ڈاکٹر ظفر مرزا کے معاون خصوصی برائے صحت کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد یہ عہدہ دیا گیا ہے۔

نئے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان وزیراعظم عمران خان کے قائم کردہ خیراتی ہسپتال شوکت خاتم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سینٹر کے چیف ایگزیکٹو افسر ہیں۔

تاہم ان کے بطور چیف ایگزیکٹو افسر شوکت خانم ہسپتال سے متعلق وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور شہباز گل نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر فیصل سلطان معاون خصوصی بننے سے قبل اس عہدے کو چھوڑ چکے ہیں۔

یاد رہے کہ شوکت خاتم میموریل کینسل ہسپتال اور ریسرچ سینٹر کی ویب سائٹ کے مطابق ادویات اور متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر فیصل سلطان نے 1987 میں لاہور کے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کیا۔

اس کے علاوہ وہ ڈپلومیٹ امریکن بورڈ آف انٹرنل میڈیسن (1992) اور ڈپلومیٹ امریکن بورڈ آف انفیکشیس ڈیزیز (1994) کی پوسٹ گریجویٹ کی ڈگریاں بھی رکھتے ہیں۔

ادھر ان کے تقرر پر سابق معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا نے لکھا کہ 'میں ڈاکٹر فیصل سلطان کے بطور معاون خصوصی برائے صحت تقرر پر بہت خوش ہوں، وہ وفاقی وزیر کے طور پر وہ فیصلے لینے کے اہل ہوں گے جو اہم ہیں'۔

انہوں نے ڈاکٹر فیصل سلطان کو دنیا کو اچھے سے دیکھنے کی سمجھ رکھنے کے ساتھ ایک قابل پیشہ شخص قرار دیا، ساتھ ہی انہیں ایک اچھا دوست کہتے ہوئے اس نئے کردار میں ان کی کامیابی کی دعا کی۔

اس سے قبل وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ ڈاکٹر ظفر مرزا کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی دعوت دی گئی تھی تاکہ گزشتہ کچھ ماہ کے دوران کووڈ 19 کے خلاف قومی حکمت عملی میں ان کی خدمات کا اعتراف کیا جائے۔

اسد عمر نے ظفر مرزا کی جانب سے پیش کردہ خدمات پر ان کا شکریہ ادا کیا اور مستقبل کے کاموں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

یاد رہے کہ 29 جولائی کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے ذریعے اپنے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا تھا کہ میں نے وزیراعظم کے معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ میں وزیراعظم عمران خان کی خصوصی دعوت پر عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) چھوڑ کر پاکستان آیا تھا، میں نے محنت اور ایمانداری سے کام کیا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کے 4 معاونین خصوصی دوہری شہریت کے حامل

ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خدمت کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، میں مطمئن ہوں کہ ایسے وقت میں عہدہ چھوڑ رہا ہوں جب قومی کوششوں سے پاکستان میں کورونا وائرس میں کمی آچکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ معاونین خصوصی کے کردار سے متعلق منفی بات چیت اور حکومت پر تنقید کے باعث استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔

بعدازاں کابینہ ڈویژن نے وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا استعفیٰ منظور ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔