چین میں کورونا ویکسین کی لاکھوں افراد میں کامیاب آزمائش

09 ستمبر 2020

ای میل

چین کی ایک تجرباتی ویکسین — رائٹرز فوٹو
چین کی ایک تجرباتی ویکسین — رائٹرز فوٹو

چین میں لاکھوں شہریوں کو 2 تجرباتی کورونا وائرس ویکسینز کا استعمال کرایا گیا اور اب تک کووڈ 19 کا کوئی کیس یا مضر اثرات سامنے نہیں آئے۔

چین کی سرکاری ویکسین کمپنی چائنا نیشنل بائیوٹیک گروپ (سی این بی جی) کے زاؤ سونگ نے چائنا نیشنل ریڈیو کو بتایا کہ اب تک لاکھوں شہریوں کو کمپنی کی 2 تجرباتی ویکسینز دی گئیں، جو اس وقت کلینکل ٹرائلز کے تیسرے مرحلے سے گزر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا 'ویکسین استعمال کرنے والے کسی بھی فرد میں کوئی مضر اثر نظر نہیں آیا اور نہ ہی کوئی کووڈ سے متاثر ہوا'۔

یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین کا ٹرائل معطل کردیا گیا ہے جس کی وجہ ایک رضاکار میں مضر اثرات کی تصدیق ہونا ہے۔

یہ ویکسین اس وقت ٹرائل کے آخری مرحلے سے گزر رہی ہے اور توقع کی جارہی تھی کہ بہت جلد اسے متعارف کرایا جاسکتا ہے۔

چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن (این ایچ سی)کے سربراہ زینگ زونگائی نے اگست میں بتایا تھا کہ جولائی سے اہم ورکرز کو لگ بھگ ایک ماہ سے تجرباتی کورونا وائرس ویکسین کا استعمال کرایا جارہا ہے تاکہ وہ کووڈ 19 سے محفوظ رہ سکیں۔

اس وقت انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے افراد کو یہ ویکسین استعمال کرائی گئی یا کونسی ویکسین کو استعمال کیا جارہا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ طبی عملے اور سرحدی حکام کو یہ ویکسین دی گئی ہے۔

مگر اب اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ سی این بی جی کی 2 تجرباتی ویکسینز میں سے کوئی ایک ہوسکتی ہے۔

چین کی جانب سے اگست میں کورونا وائرس سے زیادہ متاثر ممالک میں جانے والے کاروباری افراد کو بھی ویکسین کا استعمال کرایا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ چین میں 8 کورونا ویکسینز پر کام ہورہا ہے جن میں سے 4 کلینیکل ٹرائل کے حتمی مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں، جن سے میں 3 کو ایمرجنسی سویلین استعمال کی منظوری دیئے جانے کا امکان ہے۔

ایک ویکسین فوج کے لیے مختص کی جائے گی۔

زاؤ سونگ نے چائنا ریڈیو کو بتایا کہ ویکسین سے ایک فرد کو ممکنہ طور پر 3 سال تک کورونا وائرس سے تحفظ مل سکے گا۔

ان کا کہنا تھا 'جانوروں پر ہونے والے تجربات کے نتائج اور دیگر تحقیقی نتائج سے یہی عندیہ ملتا ہے کہ ویکسین سے ملنے والا تحفظ ایک سے 3 سال تک برقرار رہ سکتا ہے'۔

انہوں نے مزید بتایا 'ہم نے ابتدائی 180 رضاکاروں کی مانیٹرنگ جاری رکھی، جن کو 5 ماہ پہلے ویکسینز استعمال کرائی گئی تھی اور کورونا وائرس کے لیے اینٹی باڈیز کی سطح کو تاحال مستحکم سطح پر دریافت کیا گیا اور کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ ویکسین وائرس کی تمام اقسام کے خلاف موثر ثابت ہوگی۔

ان کے بقول 'کووڈ 19 کا مرکزی جین سیکونس اور پروٹین لیول میں بنیادی طور پر کوئی تبدیلی نہیں آئی اور آئندہ برسوں میں وائرس میں آنے والی تبدیلیوں سے ویکسین کی افادیت متاثر نہیں ہوگی'۔

واضح رہے کہ اگست میں چین نے کہا تھا کہ کووڈ 19 کی روک تھام کے لیے ویکسینز کی منظوری اسی صورت میں دی جائے گی جب ان کی افادیت کی شرح کم از کم 50 فیصد اور کورونا وائرس کے خلاف قوت مدافعت 6 ماہ تک برقرار رکھ سکے گی۔

چین کے سینٹر فار ڈرگ ایولوشن (سی سی ڈی ای) کا تجویز کردہ مسودہ سامنے آیا ہے جس میں کورونا ویکسین کے حوالے سے ضوابط دیئے گئے ہیں۔

مسودے کے مطابق ویکسینز کے ہنگامی استعمال کے لیے کم از کم افادیت کی شرح رکھی گئی ہے اور ان میں ایسی ویکسین بھی شامل ہوگی جس کا کلینیکل ٹرائل مکمل نہ ہوا ہو مگر افادیت کو دیکھتے ہوئے اس کے استعمال کی منظوری دے دی جائے گی۔

ویکسین کی افادیت کے حوالے سے چینی گائیڈلائنز میں عالمی ادارہ صحت اور یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی ہدایات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔

یہ گائیڈلائنز اس وقت سامنے آئیں جب چین میں 4 کورونا ویکسینز کلینیکل ٹرائلز کے آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں۔