تفتیش کار تاحال کراچی اسٹاک ایکسچینج کے حملہ آوروں کے بارے میں لاعلم

اپ ڈیٹ 15 ستمبر 2020

ای میل

30جون کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے میں ملوث چاروں دہشت گرد مارے گئے تھے— فائل فوٹو: اے ایف پی
30جون کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے میں ملوث چاروں دہشت گرد مارے گئے تھے— فائل فوٹو: اے ایف پی

پولیس نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کو بتایا ہے کہ ڈھائی ماہ گزرنے کے باوجود انہیں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت پر دہشت گرد حملے میں ملوث مجرموں اور سہولت کاروں کے حوالے سے کوئی علم نہیں۔

تاہم پولیس نے کہا کہ 30 جون کو ملک کے اہم تجارتی اور کاروباری مرکز پر حملے کے سہولت کاروں اور مجرموں کی شناخت اور ان کا پتا لگانے کی کوششیں جاری ہیں جہاں مذکورہ حملے میں ملوث چاروں حملہ آور مقابلے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

مزید پڑھیں: کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت پر حملہ، تمام 4 دہشت گرد ہلاک

اس حملے میں ایک پولیس سب انسپکٹر اور تین سیکیورٹی گارڈ بھی جاں بحق ہوئے تھے جبکہ مقابلے میں تین پولیس اہلکاروں سمیت 7 افراد زخمی ہوئے تھے۔

اس حملے کے ایک دن بعد وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مذکورہ حملے میں بھارت ملوث ہے۔

پولیس نے کہا کہ تین حملہ آوروں کی شناخت سلمان، تسلیم بلوچ اور سراج احمد کے طور پر ہوئی ہے لیکن ان کے چوتھے ساتھی کی شناخت کا ابھی تعین نہیں ہو سکا۔

اس بات کا انکشاف منگل کو انسداد دہشت گردی کی عدالت کے انتظامی جج کے پاس دائر ایک اے کلاس رپورٹ میں اس معاملے کے تفتیشی افسر نے کیا۔

یہ بھی پڑھیں: 'دہشت گرد گرینیڈ کی پن نکالنے والا تھا کہ اس کے سر پر گولی مار دی'

اے کلاس رپورٹس ان معاملات سے متعلق ہیں جن میں ملزم افراد نامعلوم ہیں یا ان تک رسائی ابھی تک ممکن نہیں ہو سکی۔

رپورٹ میں انسداد دہشت گردی کے محکمے کے تفتیشی افسر انسپکٹر چوہدری عارف حسین نے بتایا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت پر حملہ آوروں اور ان کے سہولت کاروں کا سراغ لگانے کی تمام کوششیں کی جارہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے چار حملہ آوروں کی شناخت کے لیے متعلقہ محکموں کو خطوط جاری کیے گئے تھے، ان کے خون کے نمونے ڈی این اے ٹیسٹنگ کے لیے بھیجے گئے تھے اور اس جرم میں ان کے استعمال کردہ اسلحے کو بیلسٹک معائنے کے لیے بھیجا گیا تھا، انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی ضلع کے سیکیورٹی منصوبے اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے حملے کے دعوے کی حقیقت کے تعین کے لیے متعلقہ حکام کو بھی خط جاری کیا گیا تھا۔

افسر نے حملے کے ڈھائی ماہ بعد جمع کرائی گئی رپورٹ میں مزید بتایا کہ حملہ آوروں کے زیر استعمال موبائل فون وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کو بھی بھیجے گئے تھے تاکہ ان کے سوشل میڈیا، انسٹاگرام اور دوسرے اکاؤنٹس چیک کیے جا سکیں لیکن بیشتر اطلاعات کا ابھی تک انتظار ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج

تحقیقاتی رپورٹ میں تفتیشی افسر نے مزید کہا کہ حالات اور دیگر شواہد کی روشنی میں ہلاک ہونے والے حملہ آوروں کے خلاف جرم مکمل طور پر ثابت ہوچکا ہے لیکن چونکہ وہ قانون نافذ کرنے والوں کے ساتھ مقابلے میں مارے گئے تھے لہٰذا اس کیس میں ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی ہے۔

تفتیشی افسر کے مطابق تفتیش کا مقررہ وقت ختم ہوگیا تھا لہٰذا فوجداری ضابطہ اخلاق کی دفعہ 173 کے تحت تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔

تفتیشی افسر نے انتظامی جج سے اے کلاس رپورٹ کو قبول کرنے کی درخواست کرتے ہوئے مزید کہا کہ اگر مستقبل میں حملے کے نامعلوم سہولت کاروں اور حملہ آوروں کو گرفتار کیا جاتا ہے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

انتظامی جج نے اے کلاس رپورٹ کو قبول کیا اور اس کے تصفیے کے معاملے کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 8 کے جج کو منتقل کردیا۔