عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں سزاؤں کے خلاف نواز شریف کی درخواستیں نمٹا دیں

اپ ڈیٹ 17 ستمبر 2020

ای میل

اس معاملے میں مزید سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کردی گئی ہے—فائل فوٹو: اے پی
اس معاملے میں مزید سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کردی گئی ہے—فائل فوٹو: اے پی

اسلام آباد ہائیکورٹ عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی حاضری سے متعلق بنیادی ضروریات پوری کرنے کے بعد العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت شروع کرے گا۔

عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی اپیل کی سماعت کے لیے درخواست خارج کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ 'فوجداری طریقہ کار کوڈ (سی آر پی سی) کی دفعہ 423 کے تحت میرٹ پر اپیل کنندہ کی درخواست کو نمٹانے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا جب اپیل کنندہ کی حاضری مکمل ہوگی۔

مزید پڑھیں: العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو 7 سال قید، فلیگ شپ ریفرنس میں بری

منگل کو جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل آئی ایچ سی کے ڈویژن بینچ نے نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے تھے۔

تفصیلی فیصلے میں بینچ نے وفاقی حکومت کو 'برطانیہ میں ہائی کمیشن آف پاکستان کے ذریعے' وارنٹ پر عملدرآمد کرنے کی ہدایت کی۔

اس معاملے میں مزید سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کردی گئی ہے۔

منگل کو ہونے والی سماعت میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیا جس میں پرویز مشرف سے متعلق فیصلہ بھی شامل تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ غیر معمولی حالات میں وکیل کو پیش ہونے کی اجازت دی جا سکتی ہے، سنگین غداری کیس میں بھی پرویز مشرف کے اشتہاری ہونے کے باوجود ٹرائل چلایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایون فیلڈ ریفرنس میں شریف خاندان کی سزا معطلی کے خلاف نیب کی اپیل خارج

خواجہ حارث نے کہا تھا کہ نواز شریف کو 'جان لیوا بیماری' کی وجہ سے اپنے علاج کے لیے بیرون ملک سفر کرنا پڑا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپیل کنندہ اپنی حالت کی وجہ سے پاکستان واپس اور عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے لہذا اپیل میں اس کی نمائندگی کرنے کے لیے ان کی طرف سے مقرر کردہ وکیل کی سماعت پر اپیل کا فیصلہ میرٹ پر کیا جائے۔

اپنے دفاع میں وکیل نے سی آر پی سی کی دفعہ 423 کے ساتھ اس موضوع پر کیس کے قانون پر انحصار کیا۔

خواجہ حارث نے نواز شریف کے معالج ڈاکٹر ڈیوڈ لارنس کے جاری کردہ سرٹیفکیٹ کی تفصیلات بھی عدالت میں پیش کیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ اپیل کنندہ نے میرٹ کے معاملے پر اس حقیقت کی روشنی میں فیصلہ طلب کیا ہے کہ وہ سی آر پی سی کی دفعہ 423 کے پیش نظر اپیل پر فیصلے کے لیے طے ہونے والی تاریخوں پر عدالت میں پیش ہونے سے قاصر تھے۔

عدالت نے ریمارکس دے کہ 'پس منظر کی خاطر یہ ذکر کیا جاتا ہے کہ اپیل کنندہ کو احتساب عدالت نمبر ایک نے سزا سنائی، 6 جولائی 2018 کے فیصلے کے تحت انہوں نے فوری اپیل دائر کی اور اسی کے ساتھ ہی آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ایک درخواست بھی سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی کے لیے دائر کی، مذکورہ درخواست کو متعلقہ عدالت نے 19 ستمبر 2018 کے فیصلے کے تحت اجازت دی تھی'۔

مزید پڑھیں:ایون فیلڈ ریفرنس: شریف خاندان کی سزا کے خلاف اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ 'اس کے بعد اپیل کنندہ (نواز شریف) نومبر 2019 میں برطانیہ چلے گئے اور اب بھی مبینہ طور پر ان کی عدم دلچسپی کی وجہ سے وہیں موجود ہیں علاوہ ازیں توشہ خانہ ریفرنس میں 9 ستمبر 2020 خے حکم نامے کے تحت اپیل کنندہ کو احتساب عدالت نمبر III کی جانب سے مجرم قرار دیا گیا'۔

عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی ریمارکس دیے کہا کہ 'قانون کے تحت جب ایک شخص عدالت سے اشتہاری قرار دے دیا جائے تو وہ اپیل کا حق کھو دیتا ہے'۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ 'چونکہ منسلک درخواست میں اپیل کنندہ کی منظور شدہ ضمانت ختم ہوگئی تھی لہذا عدالت میں ان کی حاضری اور پیشی کے لیے حکم نامہ منظور کرلیا گیا تھا'۔

فیصلے کے مطابق نواز شریف کو آئی ایچ سی کی جانب سے اپنی ضمانت منظور ہونے کے بعد عدالت کے سامنے پیش ہونا چاہیے۔


یہ خبر 17 ستمبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی