ریکوڈک لیز کیس: پاکستان پر عائد 6 ارب ڈالر جرمانے پر حکم امتناع

18 ستمبر 2020

ای میل

عالمی عدالت نے جولائی 2019 میں پاکستان پر جرمانہ کردیا تھا—فائل/فوٹو:عبدالرزاق
عالمی عدالت نے جولائی 2019 میں پاکستان پر جرمانہ کردیا تھا—فائل/فوٹو:عبدالرزاق

پاکستان کو ریکوڈک معاملے پر انٹرنیشنل سینٹر فارسیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹ (اکسیڈ) میں اہم کامیابی ملی ہے جہاں عالمی بینک کے ثالثی فورم اکسیڈ نے 6ارب ڈآلر جرمانے پر حکم امتناع جاری کردیا۔

اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق ریکوڈک معاملے پر یہ پاکستان اور اس کی قانونی ٹیم کی بڑی کامیابی ہے۔

مزید پڑھیں:ریکو ڈیک لیز کیس: پاکستان کا 5 ارب 80 کروڑ ڈالر جرمانے میں ریلیف کا مطالبہ

جولائی 2019 میں اکسیڈ ٹریبونل نے آسٹویلوی کمپنی ٹیتھیان کے حق میں فیصلہ دیا تھا اور پاکستان کو 6 ارب ڈالر آسٹریلوی کمپنی کو ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

اٹارنی جنرل آفس کا کہنا تھا کہ 2019 میں ہی پاکستان نے 6 ارب ڈالر جرمانہ کالعدم قرار دلانے کے لیے قانونی کارروائی شروع کی تھی۔

بیان میں کہا گیا کہ اکسیڈ نے پاکستان کی درخواست پر 6 ارب ڈالر جرمانے کی ادائیگی روکنے کا عبوری حکم امتناع دیا تھا اور اپریل 2020 میں حکم امتناع مستقل کرنے کی سماعت ویڈیو لنک پر ہوئی تھی۔

اٹارنی جنرل کے دفتر کے مطابق 16ستمبر کو اکیسڈ نے پاکستان کے حق میں حکم امتناع کو مستقل کرنے کا حکم دے دیا.

بیان میں کہا گیا کہ انٹرنیشنل سینٹر فارسیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹ میں ریکوڈک کے معاملے پر حتمی سماعت مئی 2021 میں ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:ریکوڈک کیس میں 6 ارب ڈالر جرمانہ، پاکستان نے امریکی عدالت سے رجوع کرلیا

خیال رہے کہ اٹارنی جنرل کے دفتر کی جانب سے مارچ 2020 میں ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ 8 نومبر 2019 کو انہوں نے پاکستان پر تیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کو جرمانہ ادا کرنے کے 'آئی سی ایس آئی ڈی' کے 12 جولائی 2019 کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔

منسوخی کی درخواست کے ساتھ ساتھ پاکستان نے اسے عارضی طور پر روکنے کی درخواست بھی دائر کی تھی جسے 18 نومبر 2019 کو منظور کرلیا گیا تھا۔

اس سے قبل پاکستان نے رواں برس جنوری میں ریکوڈک کیس میں عائد 6 ارب ڈالر کے جرمانے کو روکنے کے لیے امریکی وفاقی عدالت سے رجوع کیا تھا۔

پاکستان نے گزشتہ ہفتے بین الاقوامی ٹریبیونل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ آسٹریلوی کمپنی کو 5 ارب 80 کروڑ ڈالر جرمانے ادا کرنے کا فیصلہ واپس لیں کیونکہ اس ادائیگی سے کورونا سے نمٹنے میں رکاؤٹ پیدا ہوگی۔

یاد رہے کہ ٹیتھیان کاپر کمپنی کی انتظامیہ نے 11 ارب 43 کروڑ روپے کے نقصانات کا دعویٰ کیا تھا۔

مزید پڑھیں:ریکوڈک کیس میں پاکستان حکم امتناع برقرار رکھے جانے کا خواہاں

کمپنی کی جانب سے یہ دعویٰ بلوچستان حکومت کی جانب سے کمپنی کے لیے لیزنگ درخواست مسترد ہونے کے بعد 'آئی سی ایس آئی ڈی' میں 2012 میں دائر کیا گیا تھا۔

جس کے بعد پاکستانی حکومت اور عالمی کمپنی کے درمیان یہ کیس 7 سال تک جاری رہا تھا۔

ٹی سی سی نے کیس 12 جنوری 2012 میں دائر کیا تھا جبکہ 'آئی سی ایس آئی ڈی' نے اس کے لیے ٹریبیونل 12 جولائی 2012 کو قائم کیا تھا۔

واضح رہے کہ ریکو ڈک جس کا مطلب بلوچی زبان میں 'ریت کا ٹیلہ' ہے، بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ایک چھوٹا گاؤں ہے جو ایران اور افغانستان سرحد کے قریب واقع ہے۔

ریکوڈک دنیا میں سونے اور تانبے کے پانچویں بڑے ذخائر کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ریکوڈک پر لگنے والے جرمانے کا ذمہ دار کون؟

جولائی 1993میں اُس وقت کے وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی نے ریکو ڈک منصوبے کا ٹھیکہ آسٹریلوی کمپنی پی ایچ پی کو دیا تھا۔

بلوچستان کے 33 لاکھ 47 ہزار ایکڑ پر واقع اس منصوبے کا معاہدہ صرف ڈرلنگ کے لیے ہوا تھا لیکن آسٹریلوی کمپنی نے حکومت بلوچستان کو اعتماد میں لیے بغیر مزید کام کرنے کے لیے اطالوی کمپنی ٹیتھیان سے معاہدہ کرلیا تھا۔

آسٹریلوی کمپنی نے کوشش کی تھی کہ گوادر پورٹ کے ذریعے ریکوڈک کا سونا اور تانبہ کینیڈا، اٹلی اور برازیل کو فروخت کرے جس سے بلوچستان کو مجموعی آمدنی کا صرف 25 فیصد حصہ ملنا تھا۔

تاہم بلوچستان حکومت نے پی ایچ پی کی جانب سے بے قاعدگی کے بعد معاہدہ منسوخ کردیا تھا، بعد ازاں صوبائی حکومت نے 2010 میں یہ بھی فیصلہ کیا تھا کہ صوبائی حکومت اس منصوبے پرخود کام کرے گی۔

علاوہ ازیں جنوری 2013 میں اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بلوچستان حکومت اور آسٹریلوی مائننگ کمپنی کے درمیان ریکوڈک معاہدے کو ملکی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا تھا۔