موٹروے ریپ: مرکزی ملزم عابد کے مزید 5 رشتے دار زیر حراست

اپ ڈیٹ 18 ستمبر 2020

ای میل

مرکزی ملزم تاحال قانون کی گرفت میں نہیں آسکا—فائل فوٹو: ٹوئٹر
مرکزی ملزم تاحال قانون کی گرفت میں نہیں آسکا—فائل فوٹو: ٹوئٹر

لاہور: پنجاب پولیس نے موٹروے گینگ ریپ میں مرکزی ملزم عابد مالی کے 5 مزید رشتے داروں کو حراست میں لے لیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے ضلع قصور کے گاؤں میں بڑے پیمانے پر 'سرچ آپریشن' کیا اور مفرور ملزم عابد کے مزید 5 رشتے داروں کو حراست میں لیتے ہوئے 'پوچھ گچھ' کے لیے انہیں لاہور منتقل کردیا۔

پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی)، کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (سی آئی اے) کے اہلکاروں کی بڑی تعداد جبکہ لاہور اور قصور پولیس نے راؤ خان والا گاؤں میں آپریشن میں حصہ لیا، ملزم کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔

ایک سینئر پولیس افسر نے ڈان کو بتایا کہ یہ کارروائی تب کی گئی جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عابد مالہی کی قصور میں اپنے رشتے داروں کو کی گئی کالز کا سراغ لگایا تھا۔

مزید پڑھیں: موٹروے ریپ کیس: مرکزی ملزم عابد کی اہلیہ زیر حراست، ابتدائی بیان ریکارڈ

انہوں نے بتایا کہ اس کے فوری بعد لاہور سے قصور کے لیے پولیس ٹیمیں روانہ ہوئیں اور گاؤں کے 2 کلومیٹر کے دائرے میں بھاری نفری تعینات کی۔

پولیس عہدیدار کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران پولیس نے عابد مالہی کے 2 کزن، ایک خاتون اور 2 دیگر رشتے داروں کو حراست میں لے لیا، بعد ازاں ان تمام افراد کو پوچھ گچھ کے لیے سخت سیکیورٹی میں لاہور لایا گیا۔

اس سے قبل پولیس نے پنجاب کے مختلف شہروں سے ملزم کے بھائی، والد، اہلیہ اور ایک کم سن بیٹی کو بھی 'پکڑ' لیا تھا۔

تاہم کچھ پولیس افسران نے شناخت چھپانے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ موجودہ پولیس کی قیادت مجرمانہ کیس میں مطلوب شخص کے رشتے داروں کو اٹھانے کے 'پرانے طریقے' کو استعمال کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بدنام زمانہ طریقہ کار، جس کی ماضی میں بھی مختلف فارمز پر مذمت کی گئی، اس کے تحت پولیس مطلوب ملزمان کے گھروالوں، رشتے داروں اور دوستوں کو ہراساں کر رہی ہے تاکہ ان پر دباؤ رکھیں یا مطلوب افراد کی گرفتار کے لیے ان نے حاصل معلومات کا استعمال کرسکیں۔

ساتھ ہی انہوں نے اس پر افسوس کا اظہار کیا کہ یہاں تک کہ پولیس نے عابد مالہی کی کم سن بیٹی کو بھی حراست میں لے لیا، جس کا اس کیس سے کوئی لینا دینا نہیں۔

موٹروے ریپ کیس میں اب تک کیا ہوا؟

خیال رہے کہ 9 ستمبر کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر گجرپورہ کے علاقے میں 2 مسلح افراد نے ایک خاتون کو اس وقت گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا جب وہ وہاں گاڑی بند ہونے پر اپنے بچوں کے ہمراہ مدد کی منتظر تھی۔

واقعے کی سامنے آنے والی تفصیل سے یہ معلوم ہوا تھا کہ لاہور کی ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی کی رہائشی 30 سال سے زائد عمر کی خاتون اپنے 2 بچوں کے ہمراہ رات کو تقریباً ایک بجے اس وقت موٹروے پر پھنس گئیں جب ان کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا تھا۔

اس دوران خاتون نے اپنے ایک رشتے دار کو بھی کال کی تھی، جس نے خاتون کو موٹروے ہیلپ لائن پر کال کرنے کا کہا تھا جبکہ وہ خود بھی جائے وقوع پر پہنچنے کے لیے روانہ ہوگیا تھا۔

تاہم جب خاتون مدد کے لیے انتظام کرنے کی کوشش کر رہی تھیں تب 2 مرد وہاں آئے اور انہیں اور ان کے بچوں (جن کی عمر 8 سال سے کم تھی) بندوق کے زور پر قریبی کھیت میں لے گئے، بعد ازاں ان مسلح افراد نے بچوں کے سامنے خاتون کا ریپ کیا، جس کے بعد وہ افراد جاتے ہوئے نقدی اور قیمتی سامان بھی لے گئے۔

اس واقعے کے بعد جائے وقوع پر پہنچنے والے خاتون کے رشتے دار نے اپنی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ بھی تھانہ گجرپورہ میں درج کروایا تھا۔

تاہم اس واقعے کے بعد سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے ایک ایسا بیان دیا تھا جس نے تنازع کھڑا کردیا اور عوام، سول سوسائٹی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ مسلم لیگ (ن) نے ان کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔

سی سی پی او نے کہا تھا کہ 'خاتون رات ساڑھے 12 بجے ڈیفنس سے گوجرانوالہ جانے کے لیے نکلیں، میں حیران ہوں کہ تین بچوں کی ماں ہیں، اکیلی ڈرائیور ہیں، آپ ڈیفنس سے نکلی ہیں تو آپ جی ٹی روڈ کا سیدھا راستہ لیں اور گھر چلی جائیں اور اگر آپ موٹروے کی طرف سے نکلی ہیں تو اپنا پیٹرول چیک کر لیں'۔

یہ بھی پڑھیں: موٹروے پر مدد کی متلاشی خاتون کا 'ڈاکوؤں' نے 'گینگ ریپ' کردیا

بعدازاں انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس انعام غنی نے موٹروے پر اجتماع زیادتی کا شکار خاتون سے متعلق متنازع بیان پر کیپیٹل سٹی پولیس افسر لاہور عمر شیخ کو شوکاز نوٹس جاری کیا تاہم 14 ستمبر کو انہوں نے اپنے بیان پر معذرت کرلی تھی۔

یہی نہیں واقعے کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پایا گیا تھا جس پر حکومت بھی ایکشن میں آئی تھی اور آئی جی پنجاب پولیس نے مختلف تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی تھیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی صوبائی وزیرقانون راجا بشارت کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی بنائی تھی۔

علاوہ ازیں 12 ستمبر کو وزیراعلیٰ پنجاب نے آئی جی پنجاب انعام غنی و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ 72 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اصل ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

ساتھ ہی اس موقع پر بتایا گیا تھا کہ واقعے کے مرکزی ملزم کی شناخت عابد علی کے نام سے ہوئی اور اس کا ڈی این اے میچ کرگیا ہے جبکہ اس کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں، اس کے علاوہ ایک شریک ملزم وقار الحسن کی تلاش بھی جاری ہے۔

تاہم 13 ستمبر کو شریک ملزم وقار الحسن نے سی آئی اے لاہور میں گرفتاری دیتے ہوئے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کی تھی۔

14 ستمبر کو وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ خاتون کے ریپ میں ملوث ملزم شفقت کو گرفتار کرلیا ہے جس کا نہ صرف ڈی این اے جائے وقوع کے نمونوں سے میچ کرگیا بلکہ اس نے اعتراف جرم بھی کرلیا ہے۔

15 ستمبر کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سیالکوٹ موٹر وے پر دوران ڈکیتی خاتون سے زیادتی کے ملزم کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

اسی روز پولیس نے شریک ملزم شفقت علی کی جانب سے دوران تفتیش فراہم کی گئی معلومات پر تیسرا ملزم اقبال عرف بالا کو گرفتار کرلیا تھا۔

16 ستمبر کو پنجاب پولیس کی جانب سے مرکزی ملزم کو ملک چھوڑنے سے روکنے کے لیے کی جانے درخواست کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اس کا نام 'بلیک لسٹ' میں ڈال دیا تھا۔

17 ستمبر کو یہ بات سامنے آئی تھی کہ پولیس نے ملزم کی اہلیہ بشریٰ کو حراست میں لیا جس نے اپنے ابتدائی بیان میں کہا کہ اسے عابد کے بارے میں کچھ نہیں معلوم اور اس کا ان سے رابطہ نہیں ہوا۔