آج اسلام آباد میں 'آل پاکستان لوٹ مار ایسوسی ایشن' اکٹھی ہے، شہباز گل

اپ ڈیٹ 20 ستمبر 2020

ای میل

انہوں نے کہا کہ جب سارے چور اکٹھے ہوجائیں تو سمجھ لیں کہ شہر میں کوئی ایماندار تھانیدار آگیا ہے—فوٹو: ڈان نیوز
انہوں نے کہا کہ جب سارے چور اکٹھے ہوجائیں تو سمجھ لیں کہ شہر میں کوئی ایماندار تھانیدار آگیا ہے—فوٹو: ڈان نیوز

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل نے آج اسلام آباد میں متوقع اپوزیشن جماعتوں کی کثیر الجماعتی کانفرنس کو 'آل پاکستان لوٹ مار ایسوسی ایشن' قرار دے دیا۔

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ آج پھر پیپلز پارٹی کے زیر قیادت 'آل پاکستان لوٹ مار ایسوسی ایشن' اکٹھی ہورہی ہے۔

مزید پڑھیں: اپوزیشن کی حکومت مخالف حکمت عملی کیلئے کثیر الجماعتی کانفرنس آج ہوگی

انہوں نے کہا کہ میں اپنی پریس کانفرنس میں اپوزیشن کا ماضی پیش کروں گا جس کی وجہ سے اپوزیشن کو 5 اے پی سیز کرنی پڑیں۔

معاون خصوصی نے کہا کہ اربوں روپے مالیت کے اثاثے بنانے والے ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف دست و گریباں تھے اور ایک دوسرے کے خلاف کیا کچھ نہیں بولتے تھے۔

شہباز گل نے دعویٰ کیا کہ کثیر الجماعتی کانفرنس کا مقصد صرف این آر او ہے اپوزیشن جماعتیں مل کر این ار او مانگ رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جب سارے چور اکٹھے ہوجائیں تو سمجھ لیں کہ شہر میں کوئی ایماندار تھانیدار آگیا ہے'۔

شہباز گل نے کہا کہ 'کثیر الجماعتی کانفرنس میں شریک ہونے والے افراد کی لسٹ کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ تھانے سے مطلوبہ افراد کی لسٹ نکلی جس میں سب سے اوپر سب بڑے چور کا نام ہے'۔

مزید پڑھیں: اے پی سی میں نواز شریف کا خطاب نشر ہوا تو قانونی آپشنز استعمال کریں گے، شہباز گل

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی پنجاب میں چند سیٹیں بھی نہیں ہیں، مسلم لیگ (ن) جو خود کو پنجاب کا فرعون سمجھ چکی تھی اور دوسری سیاسی پارٹیوں کا مزاق اڑاتی تھی آج پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی بارگاہ میں موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کہتے تھے جب بھی مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو حکومت ملی ملک کنگال ہوگیا۔

معاون خصوصی نے کہا کہ اپوزیشن کو منی لانڈرنگ سے متعلق قانون سازی پر اتنا مسئلہ کیوں ہے کیونکہ مسئلہ تو ان لوگوں کو ہوتا ہے جو اسمگلر ہو یا کرپٹ ہوں۔

شہباز گل نے 2011 میں نواز شریف کا پیپلز پارٹی کے خلاف جاری بیان پڑھ کر سنایا کہ 'او زرداری! اغیار کے آگے جھوٹا ہے، اغیار سے بھیک مانگتا ہے، اسلام آباد میں بیٹھے علی بابا اور چالیس چور بھاگنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ہم انہیں بھاگنے نہیں دیں گے'۔

انہوں نے کہا کہ 'آج دوڑ اس بات کی ہے کہ 41 ویں چور کی کرسی پر کس نے بیٹھنا ہے'۔

پھر شہباز گل نے سابق صدر آصف علی زرداری کے نواز شریف کے خلاف دیے گئے بیان پڑھ کر سنائے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ 'نواز شریف نے پاکستان کا کیا حشر کردیا کہ لوگ مہنگائی کی چکی میں پستے رہے ہیں گے'۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر نواز شریف اور ان کے اہلخانہ کی جانب سے متعدد کیسز اور منی لانڈرنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں الزام لگاتی ہیں کہ ہماری حکومتوں سے زیادہ پی ٹی آئی کی حکومت نے قرضہ لیا جبکہ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ 'گزشتہ ادوار میں سود پر حاصل کرنے والے قرضوں کی ادائیگی میں ہمیں قرضہ لینا پڑا یعنی یہ قرضہ سابقہ حکومت کے سود کو اتارنے کے لیے حاصل کیے گئے'۔

خیال رہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے زیرقیادت آج کثیر الجماعتی کانفرنس ہوگی جس کا مقصد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت میں موجود اتحادی حکومت کے خاتمے کے لیے حکمت عملی مرتب کرنا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق فائیو اسٹار ہوٹل میں ہونے والی اس کثیرالجماعتی کانفرنس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہوگئی ہے کیونکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف لندن سے بذریعہ ویڈیو لنک شرکا سے خطاب کریں گے۔

یہ یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی ایک سال سے زائد عرصے کے بعد یہ پہلی سیاسی واپسی ہے۔

مزید پڑھیں: اے پی سی میں تمام جماعتیں حکومت سے نجات کا راستہ تلاش کریں گی، قمر زمان کائرہ

نواز شریف کے علاوہ سابق صدر اور پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری بھی بذریعہ ویڈیو لنک ابندائیہ خطاب کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں کیونکہ ان کی صحت کی خرابی کے باعث وہ جسمانی طور پر کانفرنس میں شرکت نہیں کرسکتے۔

خیال رہے کہ نواز شریف جو علاج کی غرص سے لندن میں موجود ہیں اور جنہیں رواں ماہ کے آغاز میں احتساب عدالت نے توشہ خانہ گاڑیوں کے ریفرنس میں اشتہاری قرار دے چکی ہے اور قومی احتساب بیورو کو ہدایت کی ہے کہ انٹروپول کے ذریعے ان کی گرفتاری یقینی بنائیں، وہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے ان سے ٹیلی فونک رابطے اور باضابطہ دعوت دینے کے بعد کثیر الجماعتی کانفرنس سے خطاب کے لیے آمادہ ہوئے۔