دوران حمل کورونا وائرس ماں اور بچے میں پیچیدگیوں کا باعث نہیں بنتا، تحقیق

اپ ڈیٹ 24 ستمبر 2020

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

حمل کے دوران کورونا وائرس سے متاثر ہونے والی خواتین اور بچوں میں پیچیدگیوں کا امکان بہت کم ہوتا ہے تاہم ایسی ماؤں میں ہائی بلڈ پریشر اور اعضا کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ بات سوئیڈن میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

کیرولینسکا انسٹیٹوٹ اور کیرولینسکا یونیورسٹی ہاسپٹل کی اس تحقیق میں دوران حمل کووڈ 19 سے متاثر ہونے والی خواتین اور ان کے نومولود بچوں میں پیچیدگیوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ لگ بھگ ہر 3 میں سے 2 حاملہ خواتین میں اس بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں جبکہ بچے کی پیدائش کا نومولود میں بھی مسائل کا امکان زیادہ نہیں ہوتا۔

اس تحقیق کے دوران 25 مارچ سے 24 جولائی 2020 کے دوران کیرولینسکا یونیورسٹی ہاسپٹل میں بچوں کو جنم دینے والی 26 سو سے زائد خواتین کا ڈیٹا جائزہ لیا گیا۔

محققین نے دیکھا کہ کووڈ 19 کی تشخیص سے ماں اور بچے کی صحت پر کس قسم کے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ان نتائج کا موازنہ ان ماؤں سے کیا گیا جو کووڈ 19 کی شکار نہیں تھیں۔

ان دونوں گروپس کی عمروں، تعلیم، پیدائش کے ملک، تمباکو نوشی کی عادت اور حمل سے قبل کی طبی عادات کا جائزہ بھی لیا گیا۔

مجموعی طور پر 156 خواتین (5.8 فیصد) میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی اور ان میں سے 65 فیصد میں علامات ظاہر نہیں ہوئیں اور ایسا دیگر کچھ تحقیقی رپورٹس میں بھی ثابت ہوچکا ہے کہ حاملہ خواتین میں کووڈ 19 کی علامات ظاہر ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔

محققین نے دریافت کیا کہ کووڈ سے محفوظ یا اس کی شکار حاملہ خواتین میں بچے کی پیدائش کے عمل میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا جبکہ بچے کا پیدائشی وزن بھی لگ بھگ یکساں ہوتا ہے۔

تاہم کووڈ سے متاثر خواتین میں ہائی بلڈ پریشر اور دیگر اعضا کو نقصان پہنچانے کا باعث بننے والے عارضے preeclampsia کا امکان صحتمند خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہے کہ preeclampsia اور کووڈ متعدد اعضا پر اثرات مرتب کرتے ہیں اور علامات بھی ملتی جلتی ہوتی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کووڈ 19 سے متاثر حاملہ خواتین کی اکثریت میں علامات ظاہر نہ ہونے سے تحقیق کے نتائج متاثر ہوسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی حاملہ خواتین کی تعداد بہت کم ہوتی ہے جن میں علامات ظاہر ہوتی ہیں اور ان سے ہی اندازہ ہوسکتا ہے کہ کیسی پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔

محققین کے مطابق ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ کورونا کے باعث سنگین حد تک بیمار ہونے والی خواتین کو زیادہ نقصان کا سامنا ہوا ہے اور اس حوالے سے بڑے پیمانے پر تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ علم ہوسکے کہ علامات والی خواتین میں علامات کس حد تک مختلف ہوسکتی ہیں

تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ کورونا وائرس کی شرح ایسی حاملہ خواتین میں زیادہ ہوتی ہے جو کم تعلیم یافتہ ہوتی ہیں۔