دنیا کو بھارتی مظالم دکھانے والی کشمیری خاتون صحافی کو ایوارڈ سے نواز دیا گیا

اپ ڈیٹ 25 ستمبر 2020

ای میل

پیٹر میکلر ایوارڈ کی ورچوئل تقریب میں انہوں نے کہا کہ میری تصاویر کشمیر میں موجود لوگوں کی روزمرہ کی جدوجہد کی جھلک پیش کرتی ہیں—فائل فوٹو: انادولو ایجنسی
پیٹر میکلر ایوارڈ کی ورچوئل تقریب میں انہوں نے کہا کہ میری تصاویر کشمیر میں موجود لوگوں کی روزمرہ کی جدوجہد کی جھلک پیش کرتی ہیں—فائل فوٹو: انادولو ایجنسی

مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے مظالم پوری دنیا کو دکھانے والی کشمیر کی بہادر خاتون صحافی مسرت زہرا کو اعلیٰ ترین صحافتی ایوارڈ پیٹر میکلر سے نواز دیا گیا۔

خیال رہے کہ پیٹر میکلر ایوارڈ کا قیام 2008 میں لایا گیا تھا اور مسرت زہرا سمیت مذکورہ ایوارڈ دنیا بھر کے 12 صحافیوں کو دیا جا چکا ہے۔

گزشتہ ماہ اگست میں وادی کشمیر کی بہادر فوٹوجرنلسٹ مسرت زہرا کو صحافیوں کے عالمی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز اور فرانسیسی خبر رساں ادارے ایجنسی فرانس پریس (اے ایف پی) کے تعاون سے چلنے والی تنظیم گلوبل میڈیا فورم ٹریننگ گروپ (جی ایم ایف ٹی جی) نے ایوارڈ دینے کا اعلان کیا تھا۔

مزید پڑھیں: کشمیر میں بھارتی مظالم دنیا کو دکھانے والے فوٹوگرافرز نے ایوارڈ جیت لیا

عالمی تنظیم پیٹر میکلر ایوارڈ ہر سال نمایاں مسائل کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو دیتی ہے۔

ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبررساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق ایوارڈ کی ورچوئل تقریب کے دوران 26 سالہ صحافی نے کہا کہ ' اس انڈسٹری میں کام کرنے کا مطلب سچ سامنے لانا ہے'۔

مسرت زہرا کی تصاویر میں ان خواتین کی کہانیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے جنہیں ورنہ جنوبی ایشیا میں بھلادیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ میری تصاویر کشمیر میں موجود لوگوں کی روزمرہ کی جدوجہد کی جھلک پیش کرتی ہیں۔

مسرت زہرا نے کہا کہ یہ(تصاویر) تنازع کے ذریعے خاموش کروائے گئے لوگوں کی آواز بنتی ہیں۔

خیال رہے کہ مسرت زہرا کو اپنے کام کے لیے کچھ کشمیریوں کے عدم اعتماد کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے جو ان پر بھارتی انٹیلی جنس کے لیے کام کرنے کا الزام عائد کرنے کے ساتھ ساتھ بھارتی حکام کی طرف سے ہراساں کرنے اور گمراہ کن معلومات پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔

رواں برس جون میں سری نگر میں قابض بھارتی انتظامیہ نے 'نئی میڈیا پالیسی' کا اعلان کیا تھا جو انسانی حقوق کے گروہوں کے مطابق سنسرشپ اور صحافیوں پر ظلم ستم کی اجازت دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج کے مظالم دنیا کے سامنے پیش کرنے پر کشمیری خاتون صحافی کیلئے ایوارڈ

مسرت زہرا نے کہا کہ ایک مسلمان عورت ہونے کی وجہ سے اس طرح کے حالات میں کام کرنے والی ایک صحافی کی حیثیت سے اپنی پریشانی کو 'تقویت بخشی ' ہیں لیکن ان کی شناخت بھی ان کے کام کو آگے بڑھاتی ہے۔   گلوبل میڈیا فورم ٹریننگ گروپ کی صدر اور ایوارڈ کی بانی کیتھرین انٹون نے کہا کہ مسرت زہرہ میں وہ خصوصیات موجود ہیں جنہیں میرے مرحوم شوہر پیٹر میکلر نے نئی نسل کے رپورٹرز میں فروغ دیا اور جس کے راستے پر وہ چلے۔

انہوں نےکہا کہ خطرات سے قطع نظر رپورٹنگ کے لیے مسرت زہرا کی مکمل لگن، ان کی ذہنی بے خوفی اور کسی بھی میڈیم کے استعمال کے دنیا کا آگاہ کرنے کے ان کے تخلیقی انداز نے ایوارڈ کے لیے ہمارا انتخاب آسان بنادیا۔