پنجاب میں محکمہ ٹریفک پولیس میں 7 کروڑ 74 لاکھ روپے کے غبن کا انکشاف

اپ ڈیٹ 28 ستمبر 2020

ای میل

آئی جی نے ملوث اہلکاروں کے خلاف مقدمے کے اندراج کے لیے معاملہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل کو ارسال کردیا ۔ فوٹو بشکریہ پنجاب پولیس ویب سائٹ
آئی جی نے ملوث اہلکاروں کے خلاف مقدمے کے اندراج کے لیے معاملہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل کو ارسال کردیا ۔ فوٹو بشکریہ پنجاب پولیس ویب سائٹ

لاہور: ٹریفک ڈپارٹمنٹ مالی غبن کے لیے پرکشش سیکٹر نظر آرہا ہے جہاں 7 کروڑ 74 لاکھ روپے مالیت کا ایک اور میگا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس بدعنوانی کا علم محکمے کے اکاؤنٹس سے لگایا گیا جسے 18-2017 کے دوران اکاؤنٹنٹ جنرل آفس کے عہدیداروں کی ملی بھگت سے مبینہ طور پر سر انجام دیا گیا تھا۔

اس وقت 21 گریڈ کے پولیس آفیسر فاروق مظہر محکمے کے سربراہ تھے جو اس وقت پولیس کی ایلیٹ فورس کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ڈان کے پاس دستیاب ایک سرکاری تحقیقاتی رپورٹ میں سنگین بے ضابطگیاں، پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قواعد کی خلاف ورزیوں، بے قاعدہ ادائیگیوں، الاؤنسز سے زیادہ اور دوگنا وصولی اور چھٹی کے بدلے پیسے لینے کا انکشاف کیا گیا۔

مزید پڑھیں: پنجاب پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کا آغاز

پولیس انسپکٹر جنرل (آئی جی پی) نے ملوث اہلکاروں کے خلاف مقدمے کے اندراج کے لیے معاملہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (اے سی ای) کے ڈائریکٹر جنرل کے پاس بھیج دیا ہے۔

تقریبا دو مہینوں میں محکمہ میں یہ دوسرا بدعنوانی کا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔

اس سے قبل اے سی ای نے کیس درج کیا تھا کہ 19-2018 کے اکاؤنٹس میں 2 کروڑ 20 لاکھ روپے کے غبن کا انکشاف ہوا ہے۔

اس وقت کے آئی جی پی شعیب دستگیر نے فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کی رپورٹ کو بدعنوانی میں ملوث اہلکاروں کے خلاف مقدمے کے اندراج کے لیے اے سی ای کو بھیج دی تھی۔

اس وقت کے 20 گریڈ کے آفیسر ڈاکٹر اختر عباس ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کی حیثیت سے ٹریفک پولیس کی سربراہی کررہے تھے۔

اس اسکینڈل کے بعد تفتیشی افسران کے ایک پینل نے آئی جی پی کو یہ بھی سفارش کی تھی کہ وہ ڈاکٹر اختر عباس کے خلاف کارروائی شروع کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد کو کیس ارسال کریں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فاروق مظہر کی ہدایت پر، جب وہ دوسری بار اضافی آئی جی ٹریفک پولیس کے طور پر تعینات تھے، 2 کروڑ 20 لاکھ روپے کے غبن کی تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق سابق آئی جی پی کی ہدایت پر پولیس کے انٹرنل آڈٹ برانچ نے یکم جولائی 2017 سے 30 جون 2018 تک ڈپٹی انسپکٹر جنرل ٹریفک کے اکاؤنٹس کا آڈٹ کیا تھا۔

انکوائری رپورٹ کے مطابق 'آڈیٹرز نے دھوکہ دہی، غبن کے حوالے سے سرکاری خزانے کو 7 کروڑ 74 لاکھ روپے تک پہنچنے والے نقصانات سے متعلق 22 آڈٹ پیرا اٹھائے تھے'۔

یہ بھی پڑھیں: سی سی پی او لاہور سے اختلافات: آئی جی پنجاب تبدیل، انعام غنی کو ذمہ داری سونپ دی گئی

4 کروڑ 69 لاکھ روپے کا غبن پیٹرولیم، تیل اور لبریکنٹس (پی او ایل) کے تحت بتایا گیا جبکہ دیگر میں آفس اسٹیشنری کی خریداری، پرنٹنگ اور اشاعت، ٹرانسپورٹ کی مرمت، مشینری، سازو سامان، فرنیچر کی خریداری اور چھٹی کے بدلے رقم کو دوبارہ وصول کرنا شامل ہے۔

2018-19 کی انکوائری رپورٹ میں بھی چھٹی کے بدلے دو مرتبہ رقم وصول کرنے کی نشاندہی کی گئی تھی۔

انکوائری رپورٹ میں سابق اکاؤنٹنٹ، وینڈرز اور اکاؤنٹنٹ جنرل آفس کے افسران سمیت ٹریفک پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی۔

رپورٹ کو منظوری کے بعد آئی جی پی نے انسداد بدعنوانی کے سربراہ کو مقدمہ کے اندراج اور ملزم افسران کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے بھیج دیا۔