جی 20 ممالک قرضوں میں نرمی میں ایک سال کی توسیع دیں، وزیراعظم

اپ ڈیٹ 29 ستمبر 2020

ای میل

وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے معاملے پر تبصرہ کیا— فوٹو: ڈان نیوز
وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے معاملے پر تبصرہ کیا— فوٹو: ڈان نیوز

وزیر اعظم عمران خان نے کورونا سے متعلق اقوام متحدہ کے تحت اجلاس میں جی 20 ممالک کی جانب سے قرضوں میں نرمی میں کم از کم ایک سال کی توسیع پر زور دیا ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے ورچوئل اجلاس میں کہا کہ قرضوں کی واپسی میں نرمی کی توسیع سے کریڈٹ سے متعلق ریٹنگ متاثر نہیں ہونی چاہیے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں مددگار اسپرے کی تیاری

عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے کورونا کے سدباب، متاثرہ خاندانوں اور معیشت کو سہارا دینے کے لیے 8 ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی جو ملک کی جی ڈی پی کا بڑا حصہ ہے۔

وزیراعظم نے عالمی برداری پر زور دیا کہ امیر ممالک، غریب ملکوں کے لیے 500 ارب ڈالر کا خصوصی فنڈ قائم کریں۔

انہوں نے مختلف تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ کووڈ 19 سے متاثرہ ترقی پذیر ممالک کے لیے سالانہ 15 کھرب ڈالر اکٹھے کرنے کے لیے یو این انفرااسٹرکچر کے طرز کی ’انویسٹمنٹ فیسلیٹی‘ بنائی جائے تاکہ وہ سرمایہ کاری اور مستحکم انفرااسٹرکچر معاشی بحالی میں نمایاں کردار ادا کر سکیں۔

عمران خان نے امید ظاہر کی کہ کورونا وائرس سے پوری دنیا متاثر ہوئی ہے اس لیے کورونا ویکسین کی تیاری جلد کرلی جائے گی۔

انہوں نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کا حوالہ دے کر کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو کووڈ 19 کے بحران سے نکلنے کے لیے تقریباْ 2.5 ٹریلین ڈالر درکار ہوں گے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کے علاج کے لیے ’مؤثر‘ چینی ہربل دوا کا کلینیکل ٹرائل جاری

انہوں نے تجویز دی کہ ایسے قلیل مدتی اقدامات یا پلاننگ پر مشتمل حکمت عملی اختیار کی جائے جس میں سرکاری اور نجی کریڈیٹرز بھی شامل ہوسکیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ صحت، ماحول اور ایس ڈی چیز کو بھی مذکورہ پروگرام میں شامل کیا جائے۔

واضح رہے کہ دنیا کی معیشت کو متاثر کرنے والی، سفارتی تعلقات کشیدہ اور بھارت کی کچی بستیوں سے لے کر نیویارک شہر تک کو لپیٹ میں لینے والی وبا کورونا وزئرس کے پھیلاؤ کے نتیجے میں دنیا بھر میں انتقال کر جانے والوں کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

پہلی مرتبہ چین کے شہر ووہان میں سامنے آنے والے وائرس کے بعد 9 ماہ کے عرصے میں اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے متعدد اقدامات کیے گئے جن میں اسکولز، کاروباری مراکز، تفریحی تقریبات اور بین الاقوامی سفر کو معطل کرتے ہوئے سختی سے گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

اگر بات کی جائے پاکستان میں کورونا وائرس کے حوالے سے موجودہ صورتحال کی تو ملک میں کورونا وائرس کی مجموعی صورتحال بہتر ہے تاہم کچھ روز سے چند مقامات پر کیسز میں اضافے کے بعد فعال کیسز کی تعداد کچھ حد تک بڑھ گئی ہے۔

مزید پڑھیں: 'سندھ میں تعلیمی اداروں میں 303 کورونا کیسز مثبت آئے'

ملک میں اب تک اس عالمی وبا کے مجموعی کیسز کی تعداد 3 لاکھ 11 ہزار 516 ہے جس میں سے 2 لاکھ 96 ہزار 340 صحتیاب ہوئے ہیں جبکہ 6 ہزار 474 کا انتقال ہوا ہے۔

29 ستمبر کی صبح تک ملک میں کورونا وائرس کے 297 کیسز اور 5 اموات کا اضافہ ہوا جبکہ 318 مریض شفایاب ہوگئے۔

تاہم ان 297 کیسز میں بلوچستان کے 85 اور خیبرپختونخوا کے 26 کیسز وہ بھی تھے جو گزشتہ روز کے اعداد و شمار تھے لیکن رپورٹ آج ہوئے۔