وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال میں کورونا وائرس کی تصدیق

اپ ڈیٹ 14 اکتوبر 2020

ای میل

وزیراعلیٰ نے خود ٹوئٹ میں ٹیسٹ مثبت آنے کی تصدیق کی—فائل فوٹو: ڈان نیوز
وزیراعلیٰ نے خود ٹوئٹ میں ٹیسٹ مثبت آنے کی تصدیق کی—فائل فوٹو: ڈان نیوز

کوئٹہ: صوبہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی، جس کے بعد انہوں نے خود کو گھر میں قرنطینہ کرلیا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں انہوں نے بتایا کہ ان کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آگیا ہے۔

دوسری جانب صحت حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے خود کو گھر میں قرنطینہ کرلیا ہے جبکہ انہیں ضروری علاج فراہم کیا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا سے بچاؤ کیلئے کپڑے کے ماسک کا استعمال اس احتیاط کے بغیر نہ کریں

خیال رہے کہ جام کمال الیانی کوئی پہلے سیاست دان نہیں جو اس عالمی وبا سے متاثر ہوئے ہیں۔

فروری 2020 سے ملک میں کورونا وائرس کے پہلے کیس کے بعد سے اب تک کئی سیاسی و سماجی شخصیات، کرکٹر، فلمی ستاروں و دیگر افراد اس عالمی وبا کا شکار ہوئے ہیں۔

ان میں سے زیادہ تر افراد قرنطینہ میں رہنے اور ضروری طبی علاج کے بعد صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ کچھ کا انتقال بھی ہوا ہے۔

سیاستدانوں کی بات کی جائے تو قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر ریلوے شیخ رشید احمد، گورنر سندھ عمران اسمٰعیل، مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز، پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما و سندھ کے وزیر سعید غنی ان سیاستدانوں میں شامل تھے، جنہیں کورونا وائرس کی تشخصی ہوئی تاہم یہ تمام لوگ صحتیاب ہوگئے۔

اس کے علاوہ بھی دیگر سیاسی شخصیات بھی کورونا وائرس کا شکار ہوکر صحتیاب ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس کے علاج کے لیے ایک عام دوا دریافت

تاہم اس عالمی وبا کے باعث پاکستان میں جو سیاست دان جانبر نہ ہوسکے ان میں بلوچستان کے سابق گورنر سید فیصل آغا، پی ٹی آئی پنجاب کی رکن اسمبلی شاہین رضا، سندھ کے صوبائی وزیر غلام مرتضیٰ بلوچ، رکن قومی اسمبلی منیر خان اورکزئی اور پی ٹی آئی کے جمشیدالدین کاکاخیل، پی ٹی آئی گلگت بلتستان کے صدر سید جعفر شاہ و دیگر شامل ہیں۔

یاد رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کو تقریباً 8 ماہ کا عرصہ گزرچکا ہے اور اب تک اس عالمی وبا نے پاکستان میں 3 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد کو متاثر اور 6 ہزار 600 کے قریب افراد انتقال کرچکے ہیں۔

تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ ان مجموعی مریضوں میں سے 95 فیصد یعنی 3 لاکھ 4 ہزار سے زائد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔