اسلام آباد: سرکاری ملازمین نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دے دیا

اپ ڈیٹ 14 اکتوبر 2020

ای میل

پولیس نے مظاہرین کو ڈی چوک پر روکنے کی کوشش لیکن وہ ناکام رہی — فوٹو: ڈان نیوز
پولیس نے مظاہرین کو ڈی چوک پر روکنے کی کوشش لیکن وہ ناکام رہی — فوٹو: ڈان نیوز

دارالحکومت اسلام آباد میں ٹریڈ یونینز، مزدور اتحاد، ٹیچرز اور نرسوں کی مختلف تنظیموں کے ہزاروں کارکنوں نے مہنگائی، سستی اشیا کی فراہمی، تنخواہوں میں اضافے، سرکاری رہائش گاہوں سے ملازمین کی بے دخلی سمیت دیگر مطالبات کے حق میں ڈی چوک اور پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دے دیا۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ حکومت کمر توڑ مہنگائی پر قابو پائے، کھانے پینے کی اشیا سستی کرے جبکہ تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کی اشیائے ضروریہ کی ذخیرہ اندوزی،ناجائز منافع خوری کےخلاف کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت

علاوہ ازیں مظاہرین نے کہا کہ حکومت سرکاری رہائش گاہوں سے ملازمین کی بے دخلی سمیت دیگر مزدور دشمن پالیسیاں ترک کردے۔

اسلام آباد کے ڈی چوک پر اس وقت کشیدگی دیکھی گئی جب دن بھر مظاہرین سے مذاکرات کے لیے کوئی بھی حکومتی نمائندہ نہیں آیا تو مظاہرین احتجاجی کیمپ چھوڑ کر وزیر اعظم ہاؤس کی طرف مارچ کرنے لگے۔

تاہم پولیس نے انہیں ڈی چوک پر روکنے کی کوشش لیکن وہ ناکام رہی اور مظاہرین تمام رکاوٹیں توڑتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس تک پہنچ گئے۔

جس کے بعد مظاہرین کو محدود رکھنے کے لیے ریڈ زون میں کنٹینرز کی دیواریں بنادی گئیں جبکہ پولیس، رینجرز اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی بھاری نفری بھی ریڈ زون میں تعینات کردی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: ملک میں مزید ایک کروڑ افراد کے خطِ غربت سے نیچے جانے کا اندیشہ

مظاہرین میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور انہوں نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس میں سروس اسٹرکچر میں تبدیلی، پنشن، لائف انشورنس تفویض کرنے، تنخواہوں میں اضافے اور انسداد پولیو مہم کے عملے کو تحفظ دینے کے مطالبات درج تھے۔

بعد ازاں وزارت صحت کے ایک وفد نے لیڈی ہیلتھ ورکرز سے مذاکرات کیے تاہم لیڈی ہیلتھ ورکرز اور حکومتی کمیٹی میں مذاکرات کا پہلا دور ناکام ہوگیا۔

اس ضمن میں بتایا گیا کہ وزارت صحت نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مطالبات متعلقہ صوبے پورا کریں گے۔

ہیلتھ ورکرز کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ صوبے ہمارے مسائل حل نہیں کر رہے، اگر صوبے مسائل حل کردیتے تو وفاق میں دھرنا دینے نہیں آتے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاق اگر مسائل حل نہیں کر سکتا تو وہ کس چیز کی علامت ہے۔

مزید پڑھیں: 2020 میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح دنیا میں بلند ترین نہیں، اسٹیٹ بینک کی وضاحت

ہیلتھ ورکرز کی مذاکراتی کمیٹی نے واضح کیا کہ جب تک مسائل حل نہیں ہوتے ہم وزیر اعظم ہاؤس کے باہر ہی احتجاج جاری رکھیں گے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے لیڈی ہیلتھ ورکرز سمیت دیگر سرکاری ملازمین کی حمایت کی ہے۔

انہوں نے تحریک انصاف کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مظاہرین کے تمام حقیقی مطالبات تسلیم کرے۔

پی پی پی کے چیئرمین نے اپنے بیان میں کہا کہ واجبات، مناسب پنشن اور مساوی مراعات وفاقی حکومت کے ملازمین کے حقیقی حقوق ہیں اور پیپلز پارٹی اسلام آباد میں پرامن احتجاج کرنے والوں کے جمہوری حق کی حمایت کرتی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کے ملازمین سے بھی اظہار یکجہتی کیا۔