کووڈ 19 سے سننے کی حس کو بھی نقصان پہنچنے کا انکشاف

14 اکتوبر 2020

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

نوول کورونا وائرس کے نتیجے میں جسم کے مختلف حصے متاثر ہوسکتے ہیں مگر اب پہلی بار انکشاف ہوا ہے کہ اس سے سننے کی حس سے محرومی کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔

یہ انکشاف ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

طبی جریدے بی ایم جے کیس رپورٹس میں شائع تحقیق میں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ایک 45 سالہ شخص کے بارے میں بتایا گیا کہ جو کووڈ 19 کا شکار ہونے کے بعد سننے کی حس سے محروم ہوگیا۔

یہ برطانیہ میں کووڈ 19 سے متاثر کسی فرد میں اس نوعیت کا پہلا کیس ہے۔

اس شخص کو کووڈ 19 سے پہلے دمہ کا سامنا تھا اور اسے اچانک سننے کی محرومی کا سامنا ہوا اور 3 دن کے اندر اندرونی کان کو نقصان پہنچا۔

تحقیق میں شامل ڈاکٹروں کے مطابق اب تک دنیا بھر میں کووڈ 19 کے نتیجے میں سننے کی حس سے ہمیشہ کی محرومی کے صرف 5 کیسز سامنے آئے ہیں اور برطانیہ میں یہ پہلا کیس تھا۔

اس 45 سالہ شخص کو پہلے کووڈ 19 کی علامات 10 دن تک موجود رہی تھیں جن میں سانس لینے میں مشکل بھی شامل تھی، جس کے بعد وہ ہسپتال میں آئی سی یو میں زیرعلاج رہا۔

آئی سی یو پہنچنے کے بعد طبیعت بگڑنے پر اسے وینٹی لیٹر پر رکھا گیا۔

محققین کے مطابق یہ مریض 30 دن تک وینٹی لیٹر پر رہا اور اس دوران جسم میں نمونیا، پھیپھڑوں میں بلڈ کلاٹس، فشار خون اور خون کی کمی جیسے مسائل بھی پیدا ہوئے۔

ڈاکٹروں کی جانب سے اس مریض کے علاج کے لیے ریمیڈیسیور، اسٹرائیڈز اور پلازما کا استعمال کیا گیا، جس کے بعد اس کی حالت بہتر ہونے لگی۔

مگر وینٹی لیٹر سے نکالے جانے کے ایک ہفتے بعد مریض کو محسوس ہوا کہ وہ اپنے دونوں کانوں سے بیشتر آوازیں سن نہیں پاتا، جس کا تجربہ اسے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔

اس شخص نے ڈاکٹروں کو بتایا کہ اسے پہلے کبھی سننے کے مسائل کا سامنا نہیں ہوا تھا اور جب اس کے کانوں کا معائنہ کیا گیا، تو وہاں کسی قسم کے ورم یا انفیکشن کی علامات نظر نہیں آئی۔

مگر مختلف ٹیسٹوں کے مکمل ہونے پر دریفت کیا گیا کہ اس مریض کو سننے کی حس سے محرومی کا سامنا ہوا ہے۔

ڈاکٹروں کی جانب سے اس تشخیص کے بعد 7 دن تک اسٹرائیڈز ادویات دی گئیں، جس کے بعد اس کی سننے کی صلاحیت مخصوص فریکوئنسیز کے لیے بہتر ہوگئی مگر مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکی۔

اگرچہ ڈاکٹر یقین سے یہ کہنے سے قاصر ہیں کہ اس شخص کے سننے سے محرومی کی وجہ کورونا وائرس ہے مگر ان کے خیال میں یہ کووڈ 19 سے جڑی پیچیدگی ہے۔

ڈاکٹروں نے دیگر طبی ماہرین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کووڈ 19 کے مریضوں میں آغا میں ہی سننے سے محرومی کا ٹیسٹ کریں تاکہ وہ اس مسئلے سے محفوظ رہ سکیں اور بروقت ان کا علاج ہوسکے۔

خیال رہے کہ ویسے تو وبا کے آغاز سے ہی نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کو نظام تنفس کا مرض قرار دیا جارہا ہے مگر یہ جس کے مختلف اعضا پر بھی اثرات مرتب کرتا ہے۔

گزشتہ ہفتے ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ یہ بیماری آنکھوں کو بھی متاثر کرتی ہے، جس کے شواہد سامنے آئے تھے۔

چین سے تعلق رکھنے والی ایک مریضہ کووڈ 19 سے صحتیابی کے فوری بعد آنکھوں کے دائمی موتیا کے مرض کا شکار ہوگئی تھی۔

خاتون کے ڈاکٹر نے موتیا کے علاج کے لیے سرجری کی اور آنکھوں کے ٹشوز کے معائنے سے ان میں کورونا وائرس کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔

طبی جریدے جرنل جاما آپٹمالوجی کے آن لائن ایڈیشن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ اس کیس سے ثبوت ملتا ہے کہ نیا کورونا وائرس نظام تنفس کے ساتھ ساتھ آنکھوں کے ٹشوز کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔

یہ 64 سالہ مریضہ 31 جنوری کو کووڈ 19 کے نتیجے میں ہسپتال میں داخل ہوئی تھی اور 18 دن بعد علامات ختم ہوگئی تھیں اور پی سی آر ٹیسٹ نیگیٹو آیا تھا۔

ووہان کے جنرل ہسپتال سینٹرل تھیٹر کمانڈ کے ماہرین کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک ہفتے اس خاتون کی ایک آنکھ میں تکلیف اور بینائی ختم ہونے لگی تھی، جبکہ دوسری آنکھ میں کچھ دن بعد ایسا ہوا۔

یہ مریضہ ایک بار پھر ہسپتال میں داخل ہوئی جہاں دائمی موتیا کی تشخیص ہوئی اور ادویات آنکھوں کے دباؤ میں کمی لانے میں ناکام رہیں، تو سرجری کرکے ٹشوز کے نمونے حاصل کیے گئے۔

محققین نے بتایا کہ ان نمونوں کے ٹیسٹوں سے شواہد ملے کہ کورونا وائرس نے آنکھوں کے ٹشوز پر حملہ کیا تھا۔

اگرچہ یہ واضح نہیں کہ یہ وائرس مریضہ کی آنکھوں تک کیسے پہنچا، مگر ماہرین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اس کیس سے آنکھوں کے تحفظ کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔