مطیع اللہ جان اغوا کیس: جے آئی ٹی کی پیشرفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

اپ ڈیٹ 26 اکتوبر 2020

ای میل

21 جولائی کو سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے اغوا کیا گیا تھا— فائل فوٹو: لنکڈ ان
21 جولائی کو سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے اغوا کیا گیا تھا— فائل فوٹو: لنکڈ ان

سینئر صحافی مطیع اللہ جان اغوا کیس میں انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تفتیش کی پیشرفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی۔

آج سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اغوا کی وڈیو میں نظر آنے والے اغوا کاروں کی شناخت ممکن نہیں اور نادرا نے ویڈیو میں نظر آنے والے اشخاص کی شناخت سے معذوری ظاہر کی ہے۔

مزید پڑھیں: ججز پر 'تنقید' کا معاملہ: صحافی مطیع اللہ جان کو عدالت عظمیٰ کا نوٹس جاری

انہوں نے مزید کہا کہ ویڈیو فوٹیج غیر معیاری کیمرے سے بنی ہے لہٰذا اغوا کاروں کی گاڑیوں کے نمبرز بھی معلوم نہیں ہو سکے۔

رپورٹ کے مطابق نادرا اور نیشل ہائی وے اتھارٹی نے تفتیشی ٹیم کے اگست میں لکھے خط پر ابھی تک جواب نہیں دیا، نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے تین ٹول پلازوں کی فوٹیج مانگی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ نادرا کو پانچ افراد کی تصاویر دے کر ایڈریس مانگے گئے تھے جو ابھی تک فراہم نہیں کیے گئے اور انٹیلی جنس بیورو کے جیو فینسنگ ایکسپرٹ نے واقعے کے وقت علاقے میں ایک لاکھ 21 ہزار موبائل نمبرز ٹریس کیے ہیں۔

اس سلسلے میں مزید بتایا گیا کہ واقعے کی جگہ پر سیف سٹی کا کوئی کیمرہ نصب نہیں تھا جبکہ واقعے کا کوئی چشم دید گواہ موجود نہیں اور کسی رہائشی نے اپنا بیان ریکارڈ نہیں کروایا۔

رپورٹ کے مطابق بیان ریکارڈ کرانے والوں میں صحافی کی اہلیہ اور اسکول میں پھینکا گیا موبائل واپس کرنے والی ٹیچر شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا مطیع اللہ جان کے اغوا کا نوٹس، پولیس سے رپورٹ طلب

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اغوا کاروں کے راستے پر سیف سٹی کیمروں میں 684 گاڑیوں اور 52 ڈبل کیبن گاڑیوں کی آمدوررفت ریکارڈ ہوئی، ان گاڑیوں کی نشاندہی کی کوشش جاری ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مطیع اللہ جان کے بیان کے بعد نادرا سے زرک خان نامی شخص کا ڈیٹا لیا گیا اور نادرا ریکارڈ کے مطابق ملک بھر میں 1236 افراد زرک خان کے نام سے رجسٹرڈ ہیں جبکہ زرک خان نامی افراد کے بارے میں تحقیق کی جارہی ہے۔

اس سلسلے میں کہا گیا کہ جے آئی ٹی اپنی تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ بدھ کو مطیع اللہ جان از خود نوٹس پر سماعت کرے گا۔

مطیع اللہ جان کا اغوا اور واپسی

واضح رہے کہ 21 جولائی کو سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے اغوا کیا گیا تھا۔

یہ اغوا دارالحکومت کے سیکٹر جی 6 میں ایک سرکاری اسکول کے باہر دن کی روشنی میں ہوا تھا۔

مطیع اللہ جان کی اہلیہ نے ڈان ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی گاڑی سیکٹر جی 6 میں اسکول کے باہر کھڑی تھی جس میں صحافی کا ایک موبائل فون بھی موجود تھا۔

علاوہ ازیں سوشل میڈیا پر ایک صحافی نے مطیع اللہ جان کے اغوا کی مبینہ سی سی ٹی وی فوٹیج شیئر کی تھی تاہم پولیس نے اس کی تصدیق کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔

اس 'جبری گمشدگی' نے نہ صرف صحافی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو آواز اٹھانے پر مجبور کیا بلکہ اس نے سیاسی جماعتوں اور سفارتی حلقوں میں بھی تحفظات کو جنم دیا تھا۔

ایمنسی انٹرنیشنل، انسانی حقوق کمیشن، وفاقی وزرا، اپوزیشن جماعتوں اور سیاست دانوں کے علاوہ صحافیوں اور صحافتی تنظیموں کی جانب سے مطیع اللہ جان کے 'اغوا' پر غم وغصے کا اظہار کیا اور فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: مطیع اللہ جان کا اغوا: کس کی اتنی ہمت ہے کہ پولیس کی وردی میں یہ کام کیا، عدالت

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مطیع اللہ جان کی رہائی اور بخیریت واپسی کے ٹرینڈز بھی نمایاں رہے۔

علاوہ ازیں جسٹس قاضی فائز عیسی اور ان کی اہلیہ نے بھی مطیع اللہ جان کے گھر کا دورہ کیا تھا اور ان کی اغوا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنی حمایت کی پیشکش کی تھی، وہ وہاں ان کے دونوں بھائیوں اور اہل خانہ کے دیگر لوگ سے ملے تھے، جس کے بعد انہیں بھائی کے گھر لے جایا گیا تھا جہاں مطیع اللہ جان کی اہلیہ اور بچے موجود تھے۔

یہی نہیں یہ معاملہ قومی اسمبلی میں بھی اٹھایا گیا تھا جہاں اپوزیشن جماعتوں اور صحافیوں کی جانب سے ایوان سے واک آؤٹ کیا گیا تھا۔

بعد ازاں مطیع اللہ جان اسلام آباد سے اغوا ہونے کے تقریباً 12 گھنٹے کے بعد منگل ہی کو رات گئے گھر واپس پہنچ گئے تھے۔

صحافی اعزاز سید نے ٹوئٹ میں مطیع اللہ جان کے ہمراہ تصویر شیئر کی تھی اور کہا تھا کہ 'میرے دوست کو خوش آمدید کہنے پر خوش ہوں، انہیں 12 گھنٹے بعد رہا کیا گیا'۔

مزید برآں 22 جولائی کی صبح سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں مطیع اللہ جان نے کہا تھا کہ میں باحفاظت گھر پہنچ گیا ہوں۔

سپریم کورٹ نے سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو ان کا بیان ریکارڈ کرنے اور پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔