سندھ کے بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے سے متعلق دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ

اپ ڈیٹ 26 اکتوبر 2020

ای میل

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی — فوٹو: بشکریہ سپریم کورٹ
چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی — فوٹو: بشکریہ سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے سندھ کے بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے سے متعلق متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے فریقین سے ایک ہفتے میں تحریری معروضات طلب کر لی ہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔

مزید پڑھیں: وڈیرہ ذہنیت بلدیاتی نظام نہیں چاہتی، کراچی کو اے ٹی ایم مشین بنا دیا ہے، وسیم اختر

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سندھ اور لوکل گورنمنٹ کے درمیان تنازع کے درمیان عدالت نہیں آئے گی۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ ہم قانون بنانے والوں کے اختیار میں مداخلت نہیں کریں گے، صوبائی قوانین کو آئین کے تناظر میں پرکھنا ہائی کورٹس کا کام ہے۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ ہم تمام صوبوں کو سنے بغیر ایسا فیصلہ کیسے دے دیں جس کا اطلاق پورے ملک میں ہوتا ہے جبکہ صوبے اور لوکل گورنمنٹ کے درمیان کارکردگی کی بنیاد بارگیننگ ہوسکتی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کا یہ کام نہیں کہ وہ یہ دیکھے کہ کس سیاسی جماعت کو کتنے ووٹ ملے، آئین کے آرٹیکل 140 کے تحت لوکل گورنمنٹ مالی، انتظامی اور سیاسی کام کر سکتی ہے۔

جسٹس اعجازالحسن نے ایم کیو ایم کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ چاہتے ہیں کہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو ہی خلاف قانون قرار دے کر کالعدم قرار دے دیں جبکہ اس کیس میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا فریق ہی نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر بلدیات سندھ کو ایڈمنسٹریٹرز کی تعیناتی کے اختیارات سونپ دیے گئے

انہوں نے ریمارکس دیے کہ ہم سطحی چیزوں کی طرف نہیں جائیں گے، شہر کے بنیادی کام جن میں واٹر سپلائی، بلڈنگ کنٹرول اور ٹاؤن پلاننگ، سیوریج کے کام لوکل گورنمنٹ کے ذمہ ہوتے ہیں اگر یہ تمام کام لوکل گورنمنٹ کے ہیں تو قانون سازی بھی اس حساب سے ہونی چاہیے۔

ایم کیو ایم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، ٹاؤن پلاننگ کا اختیار سندھ حکومت کے پاس ہے، سیوریج سسٹم، پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بھی حکومت سندھ کے پاس ہے۔

اٹارنی جنرل نےکہا کہ پوری دنیا میں بلدیاتی حکومتوں کے ذریعے عوام کے مسائل حل کیے جاتے ہیں، اس معاملے پر مل بیٹھ کر حل نکالنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس وقت بلدیاتی حکومتیں ہوتیں تو ان کو مکالمہ کے لیے کہا جاسکتا تھا، اگر قانون سازی سے کسی طبقے کو یہ محسوس ہوا کہ اس کا حق متاثر ہوا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت کا تیسرا سال ہے لیکن قومی سطح پر ابھی تک کوئی گائیڈ لائنز نہیں دی جاسکیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی بلدیاتی حکومتوں کا شہریوں سے کوئی رابطہ نہیں، یو این ڈی پی

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے دوران سماعت کہا کہ درخواست گزار کی خواہش ہے کہ ان کو یہ بھی دیں وہ بھی دیں۔

عدالت عظمیٰ نے بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے سے متعلق ایم کیو ایم کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے فریقین کو معاملے پر اپنی معروضات ایک ہفتے میں جمع کرانے کا حکم دے دیا۔