لاہور ہائیکورٹ: ‘کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے’ نعرے کے خلاف درخواست پر سماعت

اپ ڈیٹ 28 اکتوبر 2020

ای میل

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے درخواست پر سماعت کی—فائل فوٹو: لاہور ہائی کورٹ ویب سائٹ
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے درخواست پر سماعت کی—فائل فوٹو: لاہور ہائی کورٹ ویب سائٹ

لاہور ہائی کورٹ میں ’کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے‘ کے نعرے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی اور عدالت نے وفاقی سیکریٹری مذہبی امور اور اطلاعات کو طلب کرلیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے درخواست پر سماعت کی اور وفاقی حکومت کے وکیل سے استفسار کیا کہ معاملہ کابینہ کو بھجوانے کے لیے کیا اقدامات کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس قاسم خان نے کہا کہ وفاقی اداروں کے افسران کو کہیں نوکریاں چھوڑ دیں یا پھر کام کریں۔

مزید پڑھیں: 'کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے' کے استعمال پر غور کیلئے معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سپرد

حکومت کے وکیل نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) نے ’کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے‘ کے نعرے کو استعمال کر نے سے روک دیا تھا اور نیا نعرہ جاری کرنے کے لیے معاملہ کابینہ کو بھجوانے کی سفارش کی تھی۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی تجاویز کو کابینہ کے سامنے کیوں نہیں رکھا گیا، حیرت ہے15روز گزرنے کے بعد بھی کچھ نہیں ہوا۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت کے مذکورہ نعرے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست مقامی وکیل نے دائر کی تھی۔

چیف جسٹس قاسم خان نے وفاقی سیکریٹری مذہبی امور اور وفاقی سیکریٹری اطلاعات کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے کارروائی ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ رواں برس فروری میں ملک میں کورونا کے کیسز سامنے آنے کے بعد حکومت کی جانب سے مختلف سطح پر آگاہی مہم شروع کی گئی تھی اور ذرائع ابلاغ میں 'کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے' کا نعرہ استعمال کیا جارہا تھا۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپریل میں کورونا وائرس کے باعث کیے گئے لاک ڈاؤن سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے ایک ٹیلی تھون میں معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے بھی ان الفاظ پر بات کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: اجتماعی عبادت سے متعلق ایس او پیز پر عملدرآمد علما کی ذمہ داری ہے، عمران خان

انہوں نے کہا تھا کہ 'یہ آسمانی آفت ہے اس سے لڑنا نہیں بلکہ اس کا علاج کرکے اللہ کو عاجزی دکھانی ہے اور اپنا سر سجدے میں رکھ کر رونا ہے، اس سے ہم لڑ نہیں سکتے ہیں، اس لفظ کو اپنی زبان سے نکال دیں، چاہے دل میں کوئی تکبر نہ ہو لیکن یہ لفظ اللہ کو پسند نہیں ہے'۔

بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ میں سلمان ادریس ایڈووکیٹ نے اس نعرے کے خلاف درخواست دائر کی تھی اور مؤقف اپنایا تھا کہ اخبارات، ٹی وی چینلز اور سرکاری ذرائع ابلاغ میں غیر اخلاقی اور غیر اسلامی الفاظ کا استعمال کیا جارہا ہے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس قاسم خان نے درخواست پر سماعت کی تھی اور 'کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے' کے الفاظ پر غور کے لیے معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوا دیا تھا۔

انہوں نےسرکاری وکیل سے پوچھا تھا کہ کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے کے الفاظ استعمال کرنے سے قبل اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے لی گئی ہے یا نہیں، جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا تھا کہ مجھے پتا کرنا پڑے گا کہ کس محکمے نے یہ الفاظ استعمال کیے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: اسلامی نظریاتی کونسل نے حکومتی اقدامات کی حمایت کردی

چیف جسٹس نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل آئندہ اجلاس میں ان الفاظ پر غور کرکے بتائے کہ کیا یہ الفاظ درست ہیں اور اسلامی نظریاتی کونسل اپنی رائے سے صدر مملکت، وزیراعظم اور لاہور ہائی کورٹ کو آگاہ کرے جبکہ وفاقی حکومت مذکورہ معاملے پر تفصیلی تحریری جواب بھی جمع کروائے۔

اس سے قبل 2 اپریل کو اسلامی نظریاتی کونسل نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر حکومتی اقدامات کی تائید کرتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ گھروں میں نماز ادا کریں تاکہ میل جول میں فاصلے کو یقینی بنایا جا سکے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ کونسل اجتماعی و عبادات کے بارے میں حکومتِ وقت کے اقدامات کی تائید کرتی ہے کیونکہ انسانی جان کی حرمت مقاصدِ شریعت میں اہم حیثیت رکھتی ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ کونسل عوام سے توقع رکھتی ہے کہ وہ حکومتی اداروں اور صحت کے ماہرین کی ہدایات اور علمائے کرام کے 25 مارچ کے اعلامیے کی روشنی میں نمازیں گھروں پر ادا کریں گے تاکہ میل جول میں فاصلوں کو یقینی بنایا جائے۔