او آئی سی مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی ختم کرنے کیلئے کام کرے، پاکستان

28 نومبر 2020

ای میل

شاہ محمود قریشی نائیجر کے شہر نیامے میں منعقدہ او آئی سی کونسل برائے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شریک ہوئے—فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان
شاہ محمود قریشی نائیجر کے شہر نیامے میں منعقدہ او آئی سی کونسل برائے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شریک ہوئے—فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان

اسلام آباد: پاکستان نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سے مسمانوں کے خلاف دانستہ اشتعال انگیزی اور نفرت انگیزی کے خلاف بین الاقوامی مہم شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈاں اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نائیجر کے شہر نیامے میں منعقدہ او آئی سی کونسل برائے وزرائے خارجہ (سی ایف ایم ) کے 47ویں اجلاس میں '15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے تدارک کے عالمی دن' کے طور پر منانے کی تجویز دی۔

انہوں نے او آئی سی ممالک سے اپیل کی کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کو مظالم سے روکنے کے لیے وہ اپنے سیاسی اور معاشی اثرورسوخ کا استعمال کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ مغرب اور دیگر مقامات پر مسلمانوں کے لیے نفرت اور اسلاموفوبیا میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے، 'حالیہ مذموم واقعات مثلاً قرآن پاک کی بے حرمتی اور گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت سے دنیا کے ایک ارب 80 کروڑ مسمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں مسئلہ کشمیر ایجنڈے کا حصہ نہ ہونے کا انکشاف

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ قبیح عمل آزادی اظہادی اظہار رائے کے نام پر کسی بھی طرح جائز قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی قرار دینا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ مختلف ممالک کے سیاسی دھارے میں دائیں بازو کی انتہا پسندی کے عروج نے مسلمانوں کے لیے معاندانہ ماحول بنادیا ہے اور اس نئے رجحان کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان دنیا کی 5ویں بڑی آبادی والا ملک ہونے کے باوجود کووڈ-19 وبا کے بدترین اثرات کو روکنے میں کامیاب رہا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمی خوشی ہے کہ کووڈ پر ہمارے ردعمل کو عالمی سطح پر کامیاب حکمت عملی کے طور پر سراہا گیا، اور کوئی بھی خطرے سے محفوظ نہیں ہے کیوں کہ اب ہم سب کورونا کی دوسری لہر کا سامنا کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں: او آئی سی اجلاس میں شرکت کیلئے وزیر خارجہ نائجر کا دو دوزہ دورہ کریں گے

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنا تجربہ مسلم ممالک سے شیئر کرنے کے لیے تیار ہے، اس کے علاوہ پاکستان عالمی وبا کے باعث سکڑتی ہوئی مالی گنجائش کے سبب ترقی پذیر ممالک کو درپیش چیلنجز پر کام کرنے اور انہیں اجاگر کرنے میں سب سے آگے رہا۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت میں ہندوتوا کی بڑھتی ہوئی لہر نہ صرف بھارتی مسلمانوں کے لیے بلکہ علاقائی امن کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت بھارت میں 18 کروڑ سے زائد مسلمانوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنارہی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 'ہمیں ان جرائم کا ادراک کرنا ہوگا ایسا نہ ہو کہ ہمیں بھارت کے مسلمانوں کا ایک اور قتل عام دیکھنا پڑے'۔

یہ بھی پڑھیں: مسئلہ کشمیر ہمارے ایجنڈے میں سرفہرست ہے، نمائندہ او آئی سی

ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں صورتحال سنگین ہے، بھارتی قابض فورسز سفاکانہ قوانین کے تحت آزادی کے ساتھ کشمیریوں کی آواز دبانے کے لیے ناقابل بیان مظالم کر رہی ہیں تاکہ کشمیریوں کی آواز کو خاموش کیا جاسکے اور ان کے ارادے کو توڑا جاسکے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جب پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اول میں تھا تو بھارت اس وقت پاکستان میں دہشت گردی کا جال بچھا رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ'بھارتی ریاست کی سرپرستی میں پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں معاونت کے حوالے سے ہم نے ایک ڈوزیئر تیار کیا ہے جس میں بین الاقوامی برادری کے لیے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں'۔

مزید پڑھیں: کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے او آئی سی کا وفد پاکستان میں موجود

انکا کہنا تھا کہ 'ہم امید کرتے ہیں او آئی سی اجتماعی طور اور مسلم ممالک انفرادی طور پر ہندوستان کو اس خطرناک راستے پر چلنے سے روکنے میں اپنا کردار ادا کریں گے'۔

انہوں نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حق کے لیے قانونی جدوجہد کی حمایت میں سب سے آگے رہنے پر او آئی سی کو سراہتے ہوئے کہا کہ 'مقبوضہ کشمیر کے محصور عوام اپنے دکھوں کے مداوے کے لیے پہلے سے زیادہ او آئی سی اور امہ کے منتظر ہیں۔'۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ سی ایف ایم کے لیے ناگزیر ہوگیا ہے کہ وہ بھارت سے اس کے یکطرفہ اور غیرقانونی کارروائیاں روکنےکا مطالبہ کرے'۔


یہ خبر 28 نومبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔