کورونا وائرس میں آنے والی تبدیلیوں سے اسکی بیمار کرنے کی صلاحیت نہیں بڑھی، تحقیق

اپ ڈیٹ 30 نومبر 2020

ای میل

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو

نوول کورونا وائرس میں جینیاتی طور تبدیلیوں سے اس کی لوگوں کو آسانی سے بیمار کرنے کی صلاحیت میں اضافہ نہیں ہوا۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

طبی جریدے جرنل نیچر کمیونیکشن میں شائع تحقیق میں 99 ممالک سے حاصل کیے گئے 46 ہزار سے زائد جینیاتی سیکونس کے نمونوں میں تبدیلیوں کو دریافت کیا گیا۔

تاہم ان تبدیلیوں سے وائرس کے افعال پر کوئی خاص اثرات مرتب نہیں ہوئے۔

برطانیہ کی لندن کالج یونیورسٹی کی اس تحقیق میں شامل ماہرن کا کہنا تھا کہ ہم نے دریافت کیا کہ نئے کورونا وائرس میں آنے والی تبدلیوں سے اس کے پھیلاؤ کی صلاحیت میں اضافہ نہیں ہوا۔

تحقیق میں کورونا وائرس کی اس قسم کا بھی جائزہ لیا گیا جس کے بارے میں متعدد ماہرین کا ماننا ہے کہ وہ وائرس کو زیادہ آسانی سے لوگوں کو بمار کرنے میں مدد دیتی ہے، تاہم تحقیق میں اس خیال کو مسترد کردیا گیا۔

تحقیق کے مطابق درحقیقت کورونا کی یہ قسم ڈی 614 جی سے وائرس کی لوگوں کو بیمار کرنے کی صلاحیت پر کچھ خاص اثرات مرتب نہیں ہوئے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ دریافت کیا کہ ڈی 614 جی اس وائرس کو تیزی سے پھیلنے میں مدد نہیں ملی۔

ان کا کہنا تھا کہ اصل میں یہ قسم وبا کے آغاز میں ابھری تھی اور اب زیادہ تر افراد میں اسے دریافت کیا جاتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ ایسا نظر آتا ہے کہ یہ قسم پھیلاؤ کی رفتار بڑھانے کی بجائے کامیاب ورثے کے باعث توجہ کا مرکز بن گئی۔

تحقیق کے مطابق جب لوگوں کو ویکسین دی جانے لگے گی تو حالات بدل جائیں گے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ تمام وائرسز میں تبدیلیاں آتی ہیں اور آر این اے وائرسز (جس میں کورونا وائرسز بھی شامل ہیں) دیگر کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے جینیاتی طور پر بدلتے ہیں۔

ایسا وائرس کی نقول میں ہونے والی غلطیوں کے باعث ہوتا ہے، تاہم کورونا وائرس میں دیگر آر این اے وائرسز کے مقابلے میں کم رفتار سے تبدیلیاں آتی ہیں جس کی وجہ ان میں بلٹ ان پروف ریڈر کی موجودگی ہے۔

مریض بھی وائرس مں تبدیلی کا باعث بنتا ہے کیونکہ مدافعتی ردعمل کے نتجے مں آر این اے بدلتا ہے۔

اس تحقیق کے مطابق کورونا میں آنے والی بیشتر تبدلیاں مریضوں کے مدافعتی ردعمل کا ہی نتیجہ نظر آتی ہیں اور غیرجانبدار قسم کی ہیں، یعنی ان سے نہ تو وائرس کو کوئی مدد ملتی ہے اور نہ ہی کوئی نقصان۔

اس سے قبل نومبر کے شروع میں امریکا کی ٹیکساس یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ اس بیماری میں ایسی جینیاتی تبدیلیاں آئی ہیں، جس نے اسے ممکنہ طور پر زیادہ متعدی بنایا۔

طبی جریدے جرنل ایم بائیو میں شائع تحقیق میں کورونا کی اس تبدیلی کو ڈی 614 جی کہا گیا ہے، جو اسپائیک پروٹین میں ہوئی جو وائرس کو انسانی خلیات میں داخل ہونے میں مدد دیتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ وائرس میں یہ میوٹیشن ایک قدرتی عمل ہے جس میں وائرس کی جینیاتی تبدیلیاں ہوتی ہیں اور ہمارے مدافعتی نظام پر دباؤ بڑھتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ کورونا وائرس کی پہلی لہر کے دوران ہیوسٹن کے 71 فیصد مریضوں میں وائرس کی اس قسم کو دریافت کیا گیا تھا جبکہ دوسری لہر میں یہ شرح 99.9 فیصد تک پہنچ گئی۔

یہ رجحان دنیا بھر میں دیکھنے میں آیا ہے۔

جولائی میں امریکا کے لا جولا انسٹیٹوٹ فار امیونولوجی کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ نوول کورونا وائرس کی نئی قسم پہلے سے زیادہ متعدی ہے مگر وہ پرانی قسم کے مقابلے میں لوگوں میں کووڈ 19 کی شدت میں اضافہ نہیں کررہی۔

لا جولا انسٹیٹوٹ فار امیونولوجی کی تحقیق میں شامل محقق ایریکا اولیمن شیپری کا کہنا تھا 'یہ نئی قسم اب وائرس کی نئی شکل ہے'۔

جریدے جرنل سیل میں شائع تحقیق اس تحقیقی ٹیم کے سابقہ کام پر مبنی تھی جو کچھ عرصے پہلے پری پرنٹ سرور میں شائع کی گئی تھی، جس میں جینیاتی سیکونس کے تجزیے کے بعد عندیہ دیا گیا تھا کہ ایک نئی قسم نے دیگر پر سبقت حاصل کرلی ہے۔