تنہا ترین ہاتھی قرار دیا جانے والا 'کاون' کمبوڈیا پہنچ گیا

اپ ڈیٹ 30 نومبر 2020

ای میل

کاون کے استقبال کے لیے گلوکارہ چیر بھی موجود تھیں—فوٹو: اے ایف پی
کاون کے استقبال کے لیے گلوکارہ چیر بھی موجود تھیں—فوٹو: اے ایف پی
سفر کے دوران ہاتھی کھارہا تھا، وہ پریشان نہیں تھا—فوٹو: اے ایف پی
سفر کے دوران ہاتھی کھارہا تھا، وہ پریشان نہیں تھا—فوٹو: اے ایف پی

دنیا کا 'تنہا ترین' ہاتھی قرار دیا جانے والا 'کاون' 35 برس کا طویل عرصہ گزارنے کے بعد روس کے خصوصی چارٹرڈ کارگو طیارے کے ذریعے پاکستان سے کمبوڈیا پہنچ گیا۔

برطانوی خبررساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق کمبوڈیا کے دوسرے بڑے شہر سیئم ریئپ کے ایئرپورٹ پر کاون کے استقبال کے لیے امریکی گلوکارہ چیر بھی موجود تھیں۔

انہوں نے کاون کے ساتھ آنے والے ویٹس کی ٹیم سے ملاقات بھی کی۔

فور پاز کے مطابق کاون کو 90 منٹ کی مزید ڈرائیو کے بعد رات گئے پناہ گاہ لے جایا جائے گا اور اسے کل (منگل کو) سورج کی روشنی میں آزاد کیا جائے گا۔

ڈاکٹر عامر خلیل نے کہا کہ سفر کے دوران کاون کھارہا تھا، وہ پریشان نہیں تھا بلکہ سو بھی رہا تھا۔

مزید پڑھیں: نایاب ہاتھی کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے، اسلام آباد ہائی کورٹ

سفر کے دوران کاون کو مصروف رکھنے کے لیے 200 کلو خوراک ساتھ لے جائی گئی تھی جس میں کیلے اور تربوز شامل تھے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ کی جانب سے بھی کاون کے کمبوڈیا پہنچنے سے متعلق آگاہ کیا گیا۔

ٹوئٹ میں کہا گیا کہ کاون باحفاظت کمبوڈیا پہنچ گیا اور گلوکارہ چیر بھی اس کے استقبال کے لیے موجود تھیں۔

قبل ازیں فرانسیسی خبررساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کمبوڈیا کے نائب ماحولیاتی وزیر نیتھ پیاکٹرا نے کہا تھا کہ 'کمبوڈیا کاون کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہے'۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد: 'کاون' کمبوڈیا روانگی کیلئے تیار

نائب ماحولیاتی وزیر نے کہا تھا کہ 'ہم مقامی ہاتھیوں کے ساتھ کاون کی افزائش نسل کی توقع کررہے ہیں، یہ جینیٹک فولڈ کے تحفظ کی کوشش ہے'۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ کاون کی پناہ گاہ میں 3 ہتھنیاں بھی موجود ہیں۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

آسٹریلیا میں جانوروں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی تنظیم فور پاز کے ویٹس اور ماہرین کی ٹیم کاون کو اس سفر کے لیے تیار کرنے میں مہینوں کام کیا جو اس کے حجم اور دوران سفر کھانے کی مقدار کی وجہ سے ایک پیچیدہ عمل ہے۔

ہاتھی کو اس لوہے کے بڑے پنجرے میں لے جانے کا طریقہ بھی سکھایا گیا تھا جسے 7 گھنٹے طویل پرواز کے لیے کارگو طیارے میں رکھا گیا تھا۔

فور پاز کے ویٹرینیرین ڈاکٹر عامر خلیل نے ایک بیان میں کہا تھا کہ 'کاون نے تیزی سے ہم پر اعتماد کیا اور مختصر وقت تیزی سے سیکھا'۔

—فوٹو:رائٹرز
—فوٹو:رائٹرز

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اتوار (29 نومبر) کا دن جانوروں سے متعلق عالمی فلاحی تنظیم فور پاز کے لیے ایک مصروف دن تھا، ان کے ویٹرینیرینز نے صبح میں کاون کو خصوصی پنجرے میں منتقل کرنے کے لیے نیم بے ہوش کیا جس میں اسے کمبوڈیا کے لیے روانہ کیا گیا۔

— فرینڈز آف اسلام آباد زو
— فرینڈز آف اسلام آباد زو

یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان سے کسی جانور کو آرام اور صحتیابی کے لیے بیرون ملک لے جایا گیا اور یہ بھی پہلا موقع تھا کہ فور پاز نے 4.8 ٹن وزنی ہاتھی کو طیارے کے ذریعے ایک اور ملک میں پناہ گاہ میں منتقل کیا۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کا واحد ہاتھی کمبوڈیا جانے کیلئے آزاد

فور پاز کے ترجمان ہانا بیکر نے ڈان کو بتایا کہ آپ ویٹس کی بڑی ٹیم دیکھ سکتے ہیں جنہوں نے ہاتھی کو نیم بے ہوش کیا اور اس کی نگرانی کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں فور پاز نے اکثر بڑی بلیاں اور ریچھ منتقل کیے ہیں۔

امریکی گلوکارہ چیر اور ان کی تنظم فری دی وائلڈ نے کاون کی آزادی کی مہم چلائی جبکہ صحافی اور لکھاری ایرک مارگولس نے اسے منتقل کرنے کے اخراجات پورے کرنے کے لیے فور پاز کو 4 لاکھ ڈالر عطیہ کیے۔

سفر سے قبل 4 ماہ تک کاون کی خصوصی دیکھ بھال کی گئی اور اسے بہتر خوراک جیسا کہ پھل اور سبزیاں کھلائی گئیں جس سے ہاتھی کا وزن 200 کلو تک کم کرنے میں مدد ملی۔

فور پاز کی ٹیم کا کہنا تھا کہ کاون کے پاؤں کا زخم ٹھیک ہونے کی ضرورت ہے اور اس کی بیرونی جلد کو بھی علاج کی ضرورت ہے، اس کی صحت کو لاحق خطرات کو نظرانداز کیا گیا تو وہ مزید بڑھ جائیں گے۔

— فوٹو: اے ایف پی
— فوٹو: اے ایف پی

کمبوڈیا میں واقع پناہ گاہ میں کاون کو آہستہ آہستہ نئی زندگی کی طرف لے جایا جائے گا، اسے ابتدائی طور پر 10 ایکڑ کے علاقے میں رکھا جائے گا جہاں وہ دیگر ہاتھیوں کو دیکھ سکے گا اور اپنی سونڈ سے انہیں چھوسکے گا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کو بطور تحفہ ملنے والا ہاتھی کمبوڈیا کے حوالے کیوں کیا جارہا ہے؟

A photo posted by Instagram (@instagram) on

انہوں نے کہا کہ کاون کو 25 ہزار ایکڑ کی پناہ گاہ میں آزادی سے گھومنے کی اجازت دینے سے قبل اسے گھاس اور میدانی علاقے سے مانوس کیا جائے گا۔

ہانا نے کہا کہ قید میں ایشیائی ہاتھی 80 برس سے زائد عمر تک جی سکتے ہیں لیکن کاون کی زندگی مشکل تھی، ہم صرف امید کرسکتے ہیں کہ صحیح دیکھ بھال سے وہ زیادہ عرصہ جی سکے۔

کاون، اسلام آباد کے چڑیا گھر میں 3 دہائیوں سے زائد عرصے تک لوگوں کو محظوظ کرنے والا واحد ایشیائی ہاتھی ہے جبکہ معاون خصوصی امین اسلم نے کہا کہ کاون کو 35 برس بعد ریٹائر کرنے کا فیصلہ افسوسناک لیکن درست ہے۔

خیال رہے کہ یہ ہاتھی سری لنکا نے 1985 میں تحفے کے طور پر پاکستان کو دیا تھا اور اس وقت اس کی عمر محض ایک سال تھی۔

کاون کو اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر میں رکھا گیا تھا اور انہیں چھوٹے جنگلے اور انتہائی محدود جگہ میں قید کردیا گیا تھا، جس وجہ سے ماہرین نے اس ہاتھی کی ذہنی و جسمانی صحت پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

کاون کے ساتھی کو بھی سری لنکا سے 1995 میں پاکستان منتقل کیا گیا تھا مگر وہ ہاتھی 2012 میں ہلاک ہوگیا تھا، جس کے بعد انسانی حقوق کے رہنماؤں نے کاون کے رہائی کے لیے جدوجہد شروع کی تھی۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

کاون کو مرغزار چڑیا گھر سے نکالنے کے لیے گزشتہ دور حکومت کے دوران جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے دنیا بھر کے رہنماؤں نے ایک آن لائن پٹیشن پر 2 لاکھ کے قریب دستخط کرکے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ کاون کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے۔

اسے محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی پٹیشن کو اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو دیا گیا تھا مگر اس پر عمل نہیں ہوا تو 2016 میں ایک بار پھر عالمی رہنماؤں نے دوسری پٹیشن پر دستخط کرکے حکومت سے دوبارہ ہاتھی کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

تاہم اس وقت ایسا نہ ہوسکا، جس کے بعد نجی فلاحی تنظیم وائلڈ لائف منیجمنٹ نے مرغزار چڑیا گھر کے جانوروں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور عدالت نے تقریباً 2 سال تک کیس کی سماعت کرنے کے بعد 21 مئی 2020 کو تمام جانوروں کو 60 دن جبکہ کاون کو 30 دن میں محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

جس کے بعد اسے 29 نومبر کو رات گئے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے خصوصی روسی طیارے کے ذریعے کمبوڈیا منتقل کیا گیا۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on