کووڈ 19 کو شکست دیکر 104 ویں سالگرہ منانے والا شخص

05 دسمبر 2020

ای میل

میجر ووٹن — فوٹو بشکریہ انسائیڈر
میجر ووٹن — فوٹو بشکریہ انسائیڈر

ایسا مانا جاتا ہے کہ نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کوود 19 معمر افراد کے لیے زیادہ خطرناک ہے، مگر حیران کن طور پر مختلف ممالک میں سو سال سے زائد عمر کے کئی لوگوں نے اس جان لیوا مرض کو شکست دینے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

ان میں سے ایک امریکا سے تعلق رکھنے والے میجر ووٹن بھی ہیں جنہوں نے کووڈ 19 کو شکست دینے کے ساتھ 104 ویں سالگرہ بھی منائی۔

امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق الاباما سے تعلق رکھنے والے میجر ووٹن میں کووڈ 19 کی تشخیص 23 نومبر کو ہوئی تھی اور اسی ہفتے ہسپتال میں داخل ہوئے۔

بیماری کو شکست دینے کے بعد میجر ووٹن اپنی پوتی ہولی ووٹں میکڈونلڈ اور ان کے خاندان کے ساتھ الاباما کے شہر میڈیسن کے ساتھ مقیم ہیں۔

اگرچہ یہ بزرگ فرد بیماری کے بدترین مرحلے سے گزر چکے ہیں مگر اب بھی انہیں تھکاوٹ اور دماغی دھند جیسی علامات کا سامنا ہے۔

ہولی ووٹن میکڈونلڈ نے بتایا 'جب لوگ اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں، تو یہ راتوں رات ختم نہیں ہوتی'۔

بیماری کو شکست دینے کے بعد 4 دسمبر کو اپنے خاندان کے ساتھ 104 ویں سالگرہ منائی۔

ہولی ووٹن کا کہنا تھا کہ ان کا خاندان کچھ عرصے سے کیک کے ساتھ سالگرہ کی خوشی منانے کی منصوبہ بندی کررہا تھا اور سالگرہ کے دن میجر ووٹن کھڑکی کے سامنے بیٹھ کر اپنی سالگرہ پر پریڈ کا مشاہدہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ لوگوں ہر زور دینا چاہتے ہیں کہ اپنے ہاتھوں کو دھوئیں، ماسک پہننا چاہیے اور ان تمام تدابیر پر عمل کرنا چاہیے جو ماہرین کی جانب سے بتائی جارہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا 'میرے خیال میں ہم متعدد بزرگوں کو کھوچکے ہیں، صرف کووڈ 19 کی وجہ سے نہیں بلکہ تنہائی کی وجہ سے، میں چاہتی ہوں کہ لوگ اپنے بزرگوں کا خیال رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ انہیں احساس ہو کہ آپ ان کے لیے وہ اہمیت رکھتے ہیں'۔

میجر ووٹن نے اپنی زنگی میں اسپینش فلو کی عالمی وبا کا سامنا کیا اور دوسری جنگ عظیم میں شکست بھی دی اور اب وہ کورونا وائرس کو شکست دینے والے معمر ترین افراد میں سے ایک ہیں۔

واضح رہے کہ نوجوان افراد میں اس وائرس سے موت کا خطرہ کم ہوتا ہے مگر ہوتا ضرور ہے جبکہ 65 سال سے زائد عمر کے افراد میں یہ خطرہ زیادہ ہوتا ہے، اسی طرح کسی بیماری جیسے نظام تنفس کے امراض، امراض قلب اورر ذیابیطس کے مریضوں میں بھی یہ امکان بڑھ جاتا ہے۔