دنیا بھر میں 2020 میں 50 صحافیوں کو قتل کیا گیا، آر ایس ایف

اپ ڈیٹ 29 دسمبر 2020
صحافیوں کی تنظیم نے تحقیقی صحافت کو بدستور خطرناک شعبہ قرار دیا —فائل/فوٹو:اے ایف پی
صحافیوں کی تنظیم نے تحقیقی صحافت کو بدستور خطرناک شعبہ قرار دیا —فائل/فوٹو:اے ایف پی

رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) کے مطابق 2020 میں 50 صحافی اور میڈیا کارکنوں کو ان کے کام کی بنیاد پر قتل کیا گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا کہ بیشتر صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کو ایسے خطوں میں قتل کیا گیا جہاں جنگ نہیں چل رہی تھی۔

مزید پڑھیں: رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے آزادی اظہار رائے کے ایوارڈ کیلئے 'ڈان' نامزد

نگران تنظیم نے بتایا کہ یہ اعداد و شمار منظم جرائم، بدعنوانی یا ماحولیاتی امور کی تحقیقات کرنے والے نامہ نگاروں کو ہدف بنانے میں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

آر ایس ایف کی رپورٹ میں میکسیکو، بھارت اور پاکستان میں صحافیوں کے قتل پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا کہ 2019 میں 63 فیصد کے مقابلے میں امسال ہلاک ہونے والوں میں سے 68 فیصد کو اپنے کام کی وجہ ’جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا‘۔

آر ایس ایف کے چیف ایڈیٹر پاولین اڈیس میول نے کہا کہ ’کئی برسوں سے رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ تحقیقی صحافی ریاستوں یا کارٹیلز کی کارروائی کا ہدف بنتے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر میں 2019 میں 49 صحافیوں کو قتل کیا گیا، آر ایس ایف

رپورٹ میں کہا گیا کہ میکسیکو سب سے خطرناک ملک تھا جہاں 8 صحافی یا میڈیا ورکرز کو نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’منشیات اسمگلروں اور سیاستدانوں کے مابین روابط باقی ہیں اور جو صحافی ان سے متعلقہ معاملات سے پردہ ہٹانے کی ہمت کرتے ہیں انہیں قتل کردیا جاتا ہے‘۔

آر ایس ایف نے مزید کہا کہ 1995 سے میکسیکو کے کسی بھی قاتل کو ابھی تک سزا نہیں دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنگ زدہ افغانستان میں 5 صحافی مارے گئے۔

آر ایس ایف نے حکومت اور طالبان کے مابین امن مذاکرات کے تناظر میں کہا کہ حالیہ مہینوں میں میڈیا کارکنوں پر حملوں میں اضافہ ہو اہے۔

رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کی رپورٹ میں ایرانی حزب اختلاف کے رہنما روح اللہ زام کے معاملے پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صحافتی اداروں کیلئے مشکل ملک

خیال رہے کہ روح اللہ زام نے سوشل میڈیا چینل چلایا تھا جس میں حکومت کے خلاف مخالفین کو بھڑکانے کا الزام تھا اور انہیں دسمبر میں پھانسی دی گئی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ 'پھانسی سے ایران ایک ایسے ملک کی حیثیت سے نمایاں ہوا جس نے گزشتہ نصف صدی میں باضابطہ طور پر سب سے زیادہ صحافیوں کو موت کے گھاٹ اتارا‘۔

ضرور پڑھیں

کراچی کی بہتری کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟

کراچی کی بہتری کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟

کراچی میں اگر امن وامان، دیانت داری، فرض شناسی اور ذمہ داری کا احساس کرنے والی قیادت منتخب ہو جائے تو عوام کو اچھی سڑکیں، اسپتال، اسکول اور پانی تو نصیب ہوگا۔

تبصرے (0) بند ہیں