ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی منظوری، 10 ریپبلکن ارکان کی حمایت

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2021

ای میل

امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی پر دستخط کر رہی ہیں - فوٹو:اے ایف پی
امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی پر دستخط کر رہی ہیں - فوٹو:اے ایف پی

واشنگٹن: امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کے بعد سزا سنانے کے لیے قرارداد سینیٹ کو ارسال کردی۔

مواخذے کی تحریک کے لیے 232 ووٹ حمایت جبکہ 197 ووٹ مخالفت میں ڈالے گئے جو تاریخی تھے کیونکہ اس نے ٹرمپ کو امریکی تاریخ کا پہلا صدر بنادیا تھا جن کے خلاف مواخذے کی 2 کارروائیاں ہوئیں اور اس مرتبہ حکومت پر حملہ کرنے کے لیے اکسانے پر ان کے خلاف یہ کارروائی ہوئی۔

10 ریپبلکن اراکین نے بھی اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ چار ری پبلکنز ووٹنگ کے عمل سے دور رہے۔

خیال رہے کہ 6 جنوری کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن کی عمارت پر ہونے والے حملے میں نہ صرف امریکی جمہوریت کی تضحیک کی گئی بلکہ دو پولیس اہلکاروں سمیت 6 افراد ہلاک بھی ہوئے۔

مواخذے کی قرارداد میں کہا گیا کہ 'صدر ٹرمپ نے امریکا اور اس کے سرکاری اداروں کی سلامتی کو خطرے سے دوچار کیا، انہوں نے جمہوری نظام کی سالمیت کو خطرات سے دوچار کیا اور اقتدار کی پرامن منتقلی میں مداخلت کی اور حکومت کی ایک جغرافیائی شاخ کو درہم برہم کردیا، اس طرح بطور صدر انہوں نے اعتماد کھویا اور امریکی عوام کے جذبات کو چوٹ پہنچائی'۔

مزید پڑھیں: ’ٹرمپ ہار تو گئے، لیکن بائیڈن کے لیے مشکلات کے پہاڑ کھڑے کر گئے‘

تاہم 6 ہاؤس ریپبلکنز نے گزشتہ ہفتے کے پرتشدد فسادات میں صدر ٹرمپ کے کردار کو روکنے کے لیے ایک قرار داد پیش کی اور یہ استدلال کیا کہ مواخذے کے اقدام کو سینیٹ میں کبھی بھی ووٹ نہیں مل پائیں گے۔

ہاؤس کی اسپیکر نینسی پیلوسی، جنہوں نے اس بحث کا آغاز کیا، نے کہا کہ انہیں اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ حملہ کرنے کے لیے ہجوم کو کس نے حوصلہ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم جانتے ہیں کہ امریکا کے صدر نے اس سرکشی، ہمارے ملک کے خلاف اس مسلح بغاوت کو اکسایا، انہیں ضرور جانا چاہیے، وہ قوم کے لیے واضح اور موجودہ خطرہ ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات، ایک ایسا انتخاب جس میں صدر ہار گئے تھے، کے بعد سے ٹرمپ نے نتائج کے بارے میں بار بار جھوٹ بولا ہے، جمہوریت کے بارے میں خود ساختہ شکوک و شبہات کا پیدا کیے ہیں اور غیر آئینی طور پر حقیقت کو ختم کرنے کے لیے ریاستی عہدیداروں کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے۔

6 جنوری کے حملے کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'اور پھر وہ دن آیا جب ہم سب نے تشدد دیکھا، صدر کو بے دخل کردیا جانا چاہیے اور مجھے یقین ہے کہ صدر کو سینیٹ کے ذریعے سزا ملنی چاہیے'۔

ریاست واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے رکن ڈین نیو ہاؤس پہلے ریپبلکن تھے جنہوں نے کہا کہ وہ مواخذے کے حق میں ووٹ دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'گزشتہ ہفتے دارالحکومت کو خطرہ تھا اور اس نے اسے روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا، اس لیے دل پر پتھر رکھ کر میں مواخذے کے ان مضامین پر ہاں میں ووٹ دوں گا'۔

اس اعلان پر ڈیموکریٹس کی جانب سے زبردست تالیاں بجائی گئیں۔

اسی ریاست سے تعلق رکھنے والی ایک اور ریپبلکن رکن جیمی بیوٹلر نے کہا کہ وہ بھی مواخذے کے حق میں ووٹ دیں گی حالانکہ انہیں خدشہ ہے کہ ایسا کرنے پر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ 'صدر کے خلاف مواخذے کے حق میں ووٹ دینا خوف پر مبنی فیصلہ نہیں، میں سچ کا انتخاب کر رہی ہوں، خوف کو شکست دینے کا یہ واحد راستہ ہے'۔

'سنگین جرائم'

مواخذے کے آرٹیکل میں صدر ٹرمپ پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ 'امریکا کے خلاف تشدد کو ہوا دے کر سنگین جرائم اور بدعنوانیوں میں ملوث ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: آرنلڈ شوازنیگر نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ناکام، تاریخ کا بدترین صدر قرار دے دیا

اس دلیل کی حمایت کرنے کے لیے آرٹیکل میں 6 جنوری کو ہونے والے حملے، ٹرمپ کے انتخابی دھوکا دہی کے جھوٹے دعووں اور جارجیا کے سیکریٹری برائے خارجہ بریڈ رافنسپرجر کو ایک فون کال کا حوالہ دیا گیا جس میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ نتائج کو ختم کرنے کے لیے ووٹ 'تلاش' کریں۔

آرٹیکل میں نوٹ کیا گیا ہے کہ حامیوں سے خطاب کے دوران ٹرمپ نے 'جان بوجھ کر بیانات دیے جس کے نتیجے میں دارالحکومت میں غیر قانونی کارروائی کی حمایت ہو جیسے کہ 'اگر آپ نہیں لڑتے تو آپ کو آئندہ کاؤنٹی نہیں ملے گا'۔

اس سے قبل منگل کی رات ایوان نے ایک قرار داد پر 223-205 ووٹ دیئے جس میں نائب صدر مائیک پینس سے کہا گیا کہ وہ صدر ٹرمپ کو ہٹانے کے لیے 25 ویں ترمیم کے سیکشن چار کا استعمال کریں۔

تاہم مائیک پینس نے ایسا کرنے سے انکار کردیا ہے۔

مائیک پینس کے اس اعلان کے بعد واشنگٹن میں سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ 20 جنوری سے قبل صدر کو اقتدار سے ہٹانا مشکل ہوگا۔