مشرف کی سزا پر ردعمل: فروغ نسیم خصوصی عدالت کے خلاف اپنے الفاظ پر نادم

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2021

ای میل

فروغ نسیم نے عدالت میں پیشی کے موقع پر اپنے الفاظ پر ندامت کا اظہار کیا— فائل فوٹو: ڈان نیوز
فروغ نسیم نے عدالت میں پیشی کے موقع پر اپنے الفاظ پر ندامت کا اظہار کیا— فائل فوٹو: ڈان نیوز

پشاور: وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے بدھ کے روز پشاور ہائی کورٹ کو بتایا کہ وہ تمام عدالتوں کا بہت احترام کرتے ہیں اور سنگین غداری کے مقدمے میں سابق فوجی حکمران جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو 2019 میں موت کی سزا سنانے والی خصوصی عدالت کے سربراہ پر تلخ تنقید کرنے پر نادم ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جسٹس روح الامین خان چمکانی اور جسٹس محمد ناصر محفوز پر مشتمل بینچ نے وزیر کو مزید حکم تک ذاتی حیثیت میں پیش ہونے سے استثنی دے دیا، یہاں واضح رہے کہ سابق آرمی چیف کے خلاف فیصلے کے بعد توہین عدالت کرنے پر فروغ نسیم کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم کے موجودہ معاون خصوصی مرزا شہزاد اکبر اور سابق معاون فردوس عاشق اعوان کو دو یکساں درخواستوں میں نامزد کر کے طلب کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: جج کیخلاف نازیبا ریمارکس: پشاور ہائی کورٹ کا وفاقی وزرا کو توہین عدالت کا نوٹس

چونکہ شہزاد اکبر اور فردوس اعوان حاضر نہیں ہوئے، تو بینچ نے انہیں تازہ نوٹس جاری کرتے ہوئے اگلی سماعت پر ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت کی۔

بیرسٹر فروغ نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کا اس معاملے میں کوئی کردار نہیں تھا کیونکہ خصوصی عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد انہوں نے کوئی ہدایت نامہ جاری نہیں کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وہ تمام عدالتوں اور ججوں کا احترام کرتے ہیں اور انہیں بدنام کرنے کے بارے میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتے۔

انہوں نے کہا کہ اپنی باتوں پر انہیں افسوس ہے اور اب چونکہ خصوصی عدالت کے صدر جسٹس وقار احمد سیٹھ اب اس دنیا میں نہیں رہے لہذا وہ ان کے لیے دعا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کا جسٹس وقار سیٹھ کےخلاف سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان

مذکورہ بینچ آئین کے آرٹیکل 204 کے ساتھ پڑھے جانے والے توہین عدالت آرڈیننس 2003 کے تحت وکلا ملک اجمل خان اور سید عزیزالدین کاکاخیل کی دو ایک جیسی درخواستوں کی سماعت کررہا تھا۔

دونوں درخواست گزار ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہوئے جبکہ بیرسٹر فروغ کے ہمراہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاضی بابر ارشاد بھی موجود تھے۔

اگرچہ وزیر اعظم عمران خان بھی ان درخواستوں میں جواب دہ ہیں لیکن ہائی کورٹ نے ابھی تک اس معاملے میں ان کا جواب نہیں مانگا ہے۔

ملک اجمل کی درخواست میں جواب دہندگان میں فروغ نسیم، شہزاد اکبر اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان شامل ہیں جبکہ ان تینوں کے علاوہ سید عزیزالدین کی درخواست میں وفاقی وزیر فواد چوہدری اور سابق اٹارنی جنرل انور منصور بطور مدعا علیہ شامل ہیں۔

درخواست گزار عزیزالدین نے مبینہ پر توہین عدالت کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کے علاوہ عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ وزیر اعظم اور دیگر جواب دہندگان کو توہین عدالت کے جرم میں کسی بھی عوامی عہدے پر فائز ہونے کے لیے نااہل قرار دیں۔

مزید پڑھیں: پرویز مشرف کی سزائے موت پر عملدرآمد ہونا چاہیے، سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ

درخواست گزاروں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف شکایت درج کرنے کے بعد خصوصی عدالت تشکیل دی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ الزام 18 فروری 2014 کو پرویز مشرف کے خلاف لگایا گیا تھا اور وہ مقدمے سے بچنے کے لیے بعد میں ملک چھوڑ گئے تھے۔

درخواست گزاروں نے کہا کہ پرویز مشرف کو سماعت کے لیے پیش کرنے کے لیے دیے گئے بہت سارے مواقع سے فائدہ نہ اٹھانے کے بعد انہیں مجرم قرار دیا گیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کارروائی کے بعد سابق فوجی حکمران کی سزا اور سزائے موت پر 17 دسمبر 2019 کو کارروائی ہوئی۔

درخواست گزاروں نے کہا کہ وزیر اعظم کے علاوہ دیگر جواب دہندگان نے خصوصی عدالت کے صدر مرحوم جسٹس وقار احمد سیٹھ پر مختلف الزامات لگائے تھے جو ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے اور انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سنگین غداری کیس فیصلہ: پیرا 66 لکھنے والے جج کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، اٹارنی جنرل

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ افراد وزیر اعظم کے ماتحت تھے اور رولز آف بزنس کے تحت وہ انہیں جوابدہ تھے لیکن انہوں نے نہ تو ان کے خلاف کوئی کارروائی کی اور نہ ہی انہوں نے اس سلسلے میں کوئی وضاحت جاری کی جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ بھی ان کے ساتھ توہین عدالت میں شامل ہیں۔

درخواست گزاروں نے کہا کہ اس مضمون کو پڑھنا مجرم لوگوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کے لیے کافی ہے۔