سیف گیمز 2023 کی میزبانی کے امکانات روشن ہیں، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن

اپ ڈیٹ 16 جنوری 2021

ای میل

جنرل(ر) عارف حسن نے کہا کہ گیمز کے ذریعے پاکستان کا مثبت تشخص کو اجاگر کریں گے— فائل/فوٹو: اے ایف پی
جنرل(ر) عارف حسن نے کہا کہ گیمز کے ذریعے پاکستان کا مثبت تشخص کو اجاگر کریں گے— فائل/فوٹو: اے ایف پی

وزیر اعظم عمران خان کی منظوری کے بعد پاکستان کے ساؤتھ ایشین (سیف) گیمز کے میزبان بننے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور وفاقی وزارت کھیل گیمز کی میزبانی کرے گی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹننٹ جنرل (ر) سید عارف حسن نے میڈیا کو بتایا کہ وزیراعظم نے اسلام آباد میں ایسوسی ایشن اور وفاقی وزارت کھیل کی جانب سے چند دن قبل دی گئی تفصیلی بریفنگ کے بعد سیف گیمز 2023 کی میزبانی کی منظوری دی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں کھیلوں کی تاریخ کا نیا باب

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی بریفنگ میں شرکت کی اور گیمز کے لیے مکمل تعاون کا یقین دلایا، پاکستان اس سے قبل دو مرتبہ 1989 اور 2004 میں بھی گیمز کی میزبانی کرچکا ہے۔

جنرل (ر) سید عارف حسن کا کہنا تھا کہ بریفنگ کے بعد وزیر اعظم کا جواب حوصلہ افزا اور غیر معمولی تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وزیراعظم نے کہا کہ خطے کے کھیلوں کی میزبانی سے پاکستان کا تشخص یقینی طور پر بہتر ہوگا اور گیمز میں پاکستان کی کارکردگی یقینی طور پر غیر معمولی ہونی چاہیے'۔

انہوں نے کہا کہ سیف گیمز 2023 تک دولت مشترکہ گیمز، اولمپکس اور دنیا کے دیگر بڑے مقابلے مکمل ہوجائیں گے تو پاکستان گیمز میں اپنی بہترین کارکردگی دکھا پائے گا اور وزیراعظم کی خواہش کے مطابق ہم بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے پرامید ہیں۔

جنرل (ر) عارف حسن نے کہا کہ 'پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے صرف اسلام آباد کے بجائے چار مختلف شہروں میں گیمز کے انعقاد کی تجویز دی تھی، تجویز دی تھی کہ لاہور سیف گیمز کا مرکز جبکہ فیصل آباد، گوجرانوالا اور سیالکوٹ میں چند کھیل ہوسکتے ہیں'۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقابلوں کے مراکز کے حوالے سے حتمی فیصلہ تقریباً ہوگیا ہے اور اسلام آباد میں وفاقی وزارت کھیل کے ساتھ اگلے اجلاس میں سیف گیمز کے انعقاد کے حوالے سے دیگر کئی اہم فیصلے کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: سال 2020: کھیلوں کے میدان میں کورونا کو شکست

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ ہوگا کہ چار مختلف شہروں میں بیک وقت کھیلوں کا انعقاد ہوگا، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن گیمز سے قبل متعلقہ مقامات میں آزمائشی طور پر بین الصوبائی یا نیشنل یوتھ گیمز جیسے مقامی مقابلے کا انعقاد کرے گی۔

جنرل (ر) عارف حسن کا کہنا تھا کہ 'پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے ساتھ شامل پاکستان آرمی نے 1989 اور 2004 میں سیف گیمز کی میزبانی میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اور ایک مرتبہ پھر گیمز کے کامیاب انعقاد کے لیے اپنا وہی کردار ادا کرے گی'۔

انہوں نے کہا کہ گیمز کے ذریعے تاریخ، ثقافت اور تہواروں سے متعلق پاکستان کی بہترین تصویر اجاگر کرنے کے لیے ایک خصوصی پروگرام بھی ترتیب دیا جائے گا۔

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا تھا کہ ایسوسی ایشن، گیمز کے انعقاد کے لیے حکومت سے ملنے والے فنڈز کے علاوہ مارکیٹنگ سے بھی مزید فنڈ اکٹھا کرے گی۔