الیکشن کمیشن سے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی براہ راست سماعت کی درخواست

اپ ڈیٹ 27 جنوری 2021
درخواست کی نقل سماعت میں شرکت کرنے والے پی ٹی آئی کے نمائندوں کو بھی دی گئی —فائل فوٹو: اے ایف پی
درخواست کی نقل سماعت میں شرکت کرنے والے پی ٹی آئی کے نمائندوں کو بھی دی گئی —فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف الیکشن کمیشن میں دائر فارن فنڈنگ کیس اس وقت دلچسپ موڑ اختیار کر گیا جب درخواست گزار اکبر ایس بابر نے اس کیس کی سماعت شفافیت کے لیے وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق لائیو نشر کرنے کی درخواست کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک علیحدہ درخواست میں انہوں نے وزیراعظم کی پیشکش کے تناظر میں کمیٹی کی جانب سے پی ٹی آئی کا مالیاتی ریکارڈ بشمول 23 بینک اسٹیٹمنٹس خفیہ رکھنے کے فیصلے کو چیلنج کیا۔

درخواست گزار نے اسکروٹنی کمیٹی کے 2 دسمبر 2019 کو دیے گئے فیصلے کا حوالہ دیا جس میں پی ٹی آئی کا ریکارڈ یہ کہتے ہوئے فراہم کرنے سے انکار کیا گیا تھا کہ 'درخواست گزار کے وکیل کو بتایا گیا ہے کہ فریق (پی ٹی آئی) کی جمع کروائے گئے دستاویز اس موقع پر اس لیے فراہم نہیں کیے جاسکتے کہ فریق نے اس کی سختی سے مخالفت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فارن فنڈنگ کیس کی کھلی سماعت نہیں ہو سکتی، الیکشن کمیشن

درخواست میں دہرایا گیا کہ پی ٹی آئی کی تمام مالی دستاویزات کی نقول فراہم کرنا پولیٹک پارٹیز آرڈر 2002 اور الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 203 کے تحت، الیکشن کمیشن کے 30 مئی 2018 اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے 4 دسمبر 2019 کے فیصلے کے مطابق درخواست گزار کا قانونی حق ہے۔

درخواست گزار کے وکیل سید احمد حسن شاہ نے ریکارڈ کے لیے چند حقائق کا ذکر کیا کہ جس کے نتیجے میں ای سی پی اسکروٹنی کمیٹی کے اراکین گزشتہ سماعت میں واک آؤٹ کر گئے تھے۔

احمد حسن شاہ نے کہا کہ جب تک درخواست گزار کے شفافیت کے حوالے سے حقیقی اور قانونی تحفظات دور نہیں کیے جائیں گے، بشمول پی ٹی آئی کی تمام مالی دستاویزات کمیٹی کے ساتھ شیئر کرنے کے، وہ احتجاجاً اسکروٹنی کمیٹی کے عمل میں حصہ لیں گے۔

مزید پڑھیں: فارن فنڈنگ کیس کی سماعت ٹی وی پر براہ راست دکھائی جائے، وزیراعظم

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے معاملات خفیہ رکھنے کو ختم کرنے کی حالیہ پیشکش کی روشنی میں تمام دستاویزات شیئر کرنے کے مطالبات کی درخواست کی نقل سماعت میں شرکت کرنے والے پی ٹی آئی کے نمائندوں کو بھی دی گئی۔

ذرائع نے کہا کہ دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب پی ٹی آئی کے نمائندوں نے درخواست کی نقل وصول کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا، اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پی ٹی آئی اس درخواست پر آئندہ سماعت میں جواب جمع کروائے گی۔

بعدازاں پی ٹی آئی کی جانب سے سینئر وکیل شاہ خاور کی عدم حاضری کے تناظر میں سماعت ملتوی کرنے کی درخواست پر مزید کوئی کارروائی کیے بغیر سماعت ملتوی کردی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد فارن فنڈنگ کیس کی کھلی سماعت ہوگی، الیکشن کمیشن

بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اکبر ایس ایس بابر نے کہا کہ سچ جاننا قوم کا حق ہے، ہم نے وزیراعظم کی جانب سے معاملات کی رازداری ختم کرنے کی پیشکش کو جانچنے کے لیے درخواست دائر کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اس دن سے سچ چھپانا شروع کردیا تھا جب انہوں نے اسکروٹنی کے عمل کو دیگر بہانوں یا احتساب سے بچنے کے لیے اسکروٹنی کے عمل کو کچلنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی تھیں۔

تبصرے (0) بند ہیں