کورونا کی برطانوی قسم سے ہسپتال میں داخلے کا خطرہ بڑھنے کا انکشاف

27 فروری 2021
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

فروری 2021 میں جاری ہونے والے ڈیٹا میں بتایا گیا تھا کہ برطانیہ میں دریافت ہونے والی کورونا وائرس کی نئی قسم نہ صرف زیادہ متعدی ہے بلکہ یہ پرانی قسم کے مقابلے میں زیادہ جان لیوا بھی ہے۔

اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس نئی قسم سے متاثر ہونے والے مریضوں کی اکثریت کا ہسپتال پہنچنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

یہ دعویٰ ڈنمارک میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

سیرم انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کورونا کی اس نئی اور زیادہ متعدی قسم سے بیمار ہونے والے افراد کے ہسپتال میں داخلے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

بی 117 نامی اس برطانوی قسم سے متاثر ہونے والے 2155 افراد کو اس تحقیق کا حصہ بنایا گیا تھا، جن میں سے 128 کو شدید بیماری کے باعث ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔

تحقیق کے مطابق یہ شرح دیگر اقسام سے متاثر ہونے والے افراد کے مقابلے میں 64 فیصد زیادہ ہے۔

برطانیہ میں گزشتہ سال ستمبر میں دریافت ہونے والی یہ قسم اب ڈنمارک میں سب سے زیادہ پھیل جانے والی قسم بن چکی ہے اور لگ بھگ دوتہائی نئے کیسز میں اس کی تشخیص ہوئی ہے جو 2021 کے آغاز میں 5 فیصد سے بھی کم تھی۔

تحقیق میں کہا گیا کہ نتائج رواں ماہ برطانیہ میں جاری ہونے والے ڈیٹا سے مطابقت رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ برطانوی حکومت کے سائنسدان کئی ماہ سے اس نئی قسم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کے لیے کام کررہے ہیں۔

سائنسدانوں نے جنوری 2021 میں کہا تھا کہ ایسا ممکن ہے کہ یہ نئی قسم نہ صرف زیادہ متعدی ہے بلکہ یہ زیادہ جان لیوا بھی ہوسکتی ہے۔

فروری میں ان کی جانب سے جاری ایک نئی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ اس نئی قسم سے ہسپتال میں داخلے اور موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

برطانوی حکومت کی جانب سے ان نئے انکشافات کو عوامی سطح پر جاری نہیں کیا گیا جو متعدد تحقیقی رپورٹس پر مبنی ہے۔

اس نئی قسم بی 1.1.7 کے حوالے سے نئی تفصیلات کو برطانوی حکومت کی ویب سائٹ پر ایک دستاویز کی شکل میں جاری کیا گیا۔

اس نئی قسم کے نتیجے میں اموات کی شرح میں اضافے کی وجوہات کو مکمل طور پر واضح نہیں کیا گیا، کچھ شواہد سے عندیہ ملتا ہے کہ بی 1.1.7 سے متاثر افراد میں وائرل لوڈ زیادہ ہوتا ہے، جس کے باعث وائرس نہ صرف زیادہ تیزی سے پھیل سکتا ہے بلکہ مخصوص طریقہ علاج کی افادیت کو بھی ممکنہ طور پر متاثر کرسکتا ہے۔

مگر سائنسدانوں کی جانب سے یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی کہ اس نئی قسم کے نتیجے میں موت کا خطرہ کس حد تک بڑھ سکتا ہے۔

برطانیہ میں یہ نئی قسم سب سے پہلے ستمبر میں سامنے آئی تھی اور اس کی دریافت کا اعلان دسمبر 2020 میں کیا گیا تھا، جو اب تک کم از کم 82 ممالک تک پہنچ چکی ہے اور امریکا میں یہ دیگر اقسام کے مقابلے میں 35 سے 45 فیصد زیادہ آسانی سے پھیل رہی ہے۔

امریکی حکام کا تخمینہ ہے کہ یہ نئی قسم رواں سال مارچ میں امریکا میں سب سے زیادہ پھیل جانے والی قسم ہوگی۔

برطانوی حکومت کے سائنسی مشیر اور وبائی امراض کے ماہر نیل فرگوسن نے بتایا کہ 'مجموعی تصویر سے عندیہ ملتا ہے کہ اس نئی قسم سے کسی فرد میں ہسپتال میں داخلے اور موت کا خطرہ 40 سے 60 فیصد تک بڑھ جاتا ہے'۔

برطانیہ میں اس نئی قسم کے بیشتر کیسز میں مریضوں کی ہلاکت نہیں ہوئی اور حکومتی سائنسدانوں نے مجموعی اموات کے چھوٹے مجموعے کے تجزیے پر مبنی تحقیقی رپورٹس پر انحصار کیا گیا۔

سائنسدانوں کو اس قسم سے متاثر افراد میں پہلے سے موجود امراض کی موجودگی کے بارے میں جاننے کے لیے بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

ان کا تحقیقی کام زیادہ تر ایسے افراد تک محدود ہے جن میں کمیونٹی ٹیسٹنگ سائٹس میں وائرس کی موجودگی کی تشخیص ہوئی، کیونکہ ہسپتالوں میں ریپڈ ٹیسٹوں میں نئی قسم کے جینز کی شناخت نہیں ہوپاتی۔

مجموعی طور پر برطانوی حکومت کے سائنسدانوں کا تخمینہ ہے کہ اس نئی قسم سے ممکنہ طور پر موت کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، تاہم انہیں اس دریافت پر 55 سے 75 فیصد اعتماد ہے۔

اس نئی قسم سے لاحق ہونے والا سب سے بڑا خطرہ اس کا زیادہ تیزی سے پھیلنا ہی ہے، ایک اندازے کے مطابق یہ پرانی اقسام کے مقابلے میں 30 سے 50 فیصد زیادہ متعدی ہے، تاہم کچھ سائنسدانوں کے خیال میں یہ شرح اس سے زیادہ ہوسکتی ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں