حکومت حتمی تاریخ گزرنے کے باوجود 19 آئی پی پیز کو پہلی قسط ادا نہ کرسکی

اپ ڈیٹ 30 مارچ 2021

ای میل

فنانس ڈویژن کا نقطہ نظر یہ تھا کہ یہ ایک روٹین کی ادائیگیوں کا عمل ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
فنانس ڈویژن کا نقطہ نظر یہ تھا کہ یہ ایک روٹین کی ادائیگیوں کا عمل ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کی زیر التوا انکوائری کے سبب حکومت نے 28 فروری کو طے پانے والے معاہدے کے تحت 19 انڈیپینڈینٹ پاور پرچیزرز (آئی پی پیز) کو تقریباً 85 ارب روپے کی ادائیگی حتمی تاریخ گزر جانے کے باوجود نہیں کی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق آئی پی پی کے ایک نمائندے کا کہنا تھا کہ 'عملی طور پر یہ حکومت کی خامی ہے کیوں کہ اس نے وعدے کے مطابق وقت پر فنڈز فراہم نہیں کیے'۔

چنانچہ 1994 کی پاور پالیسی سے قبل لگائے گئے اور 1994 کی پالیسی سے قبل حبکو سے معاہدہ کرنے والے آئی پی پیز منگل کے روز حکومت کو ڈیفالٹ کے نوٹسز بھیجنے کے حق دار ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:وزارت خزانہ آئی پی پیز کو 2 اقساط میں واجبات ادا کرنے پر رضامند

فروری کے اواخر میں حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت حکومت کو نیپرا کے سیٹ اپ سے قبل اور حبکو کے حالیہ 19 آئی پی پیز کو 85 ارب روپے کی ادائیگی کرنی تھی۔

ہر آئی پی پی کے لیے رقم تصدیق شدہ اور آڈیٹڈ تھی اور اس میں کوئی عملی رکاوٹ حائل نہیں تھی، توانائی ڈویژن کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ عدم ادائیگی سود میں اضافہ کررہی ہے اور اسے اب کلیئر ہوجانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئی پی پیز کے ساتھ ہونے والا معاہدہ کابینہ کمیٹی برائے توانائی، اقتصادی رابطہ کمیٹی اور وفاقی حکومت کا مشترکہ فیصلہ تھا لیکن ایک سیاسی وراثت نے حتمی ادائیگیاں خراب کردیں۔

عہدیدار نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اپنے اقتدار کے خاتمے کے قریب 480 روپے کی ادائیگی کو حکمراں جماعت تنقید کا نشانہ بناتی رہی اور اپوزیشن پارٹیوں نے بھی حالیہ تصفیے کو اسی طرح تنقید کا نشانہ بنایا۔

مزید پڑھیں: '17 آئی پی پیز نے ٹیرف ڈسکاؤنٹ معاہدوں پر دستخط نہیں کیے'

انہوں نے کہا کہ افسران سے سیاست زدہ کمرشل معاملات کی ذمہ داری لینے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔

جس کے نتیجے میں پاور ڈویژن اپنے طور پر اتنی بڑی رقم جاری کرنے سے گریزاں ہے اور مشترکہ ذمہ داری کے لیے ای سی سی سے منظوری لی ہے کیوں کہ نیب نے نظرِ ثانی شدہ معاہدے کا جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے اور پاور ڈویژن اور متعلقہ اداروں سے سارا ریکارڈ منگوالیا ہے۔

دوسری جانب فنانس ڈویژن کا نقطہ نظر یہ تھا کہ یہ ایک روٹین کی ادائیگیوں کا عمل ہے جس کے تحت حکومت باقاعدگی سے ادائیگیاں کررہی ہے اور نیب انکوائریز کا حوالہ اس سمری میں شامل نہیں کرنا چاہیے تھا۔

اس کے باعث ای سی سی نے کوئی فیصلہ نہیں کیا اور ادائیگیاں اب تک نہ ہوسکیں۔

یہ بھی پڑھیں: نیب اور نیپرا، آئی پی پیز پر نظر رکھیں گے، وزیر توانائی

ترجمان نے کہا کہ ابھی سے یہ کہنا کہ معاہدہ اختتام کو پہنچ گیا ہے قبل از وقت ہوگا اور حکومت کسی بھی تنازع سے بچنے کے لیے عوامی پیسے کے استعمال میں شفافیت یقینی بنا رہی ہے۔

چنانچہ ادائیگیوں کے لیے تمام قانونی اور طریقہ کار کی ضروریات پوری کی جارہی ہیں اور اس معاملے کو ای سی سی سمیت تمام متعلقہ حکومتی اداروں کے ساتھ اٹھایا جاچکا ہے۔