طیارے میں کووڈ کے پھیلاؤ کا خطرہ کیسے کم کیا جاسکتا ہے؟

15 اپريل 2021
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

طیاروں کی درمیانی نشستوں یا مڈل سیٹس کو خالی رکھ کر مسافروں کو کورونا وائرس سے زیادہ تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ طیارے میں مڈل سیٹس کو خالی رکھ کر کورونا سے متاثر کسی فرد سے وائرس کے پھیلاو کا خطرہ 23 سے 57 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

اس تحقیق میں فضائی کمپنیوں پر زور دیا گیا کہ وہ طیاروں میں محدود تعداد میں مسافروں کی موجودگی کی حکمت عملی پر عملدرآمد جاری رکھیں، تاہم امریکا میں فضائی کمپنیوں میں اب تمام نشستوں پر بکنگ کی جارہی ہے۔

ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ فلٹرز اور ہوا کے بہاؤ کے نظام مسافروں کے فیس ماسکس پہننے پر طیاروں کو وائرس کے پھیلاؤ سے روکتے ہیں۔

یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن (سی ڈی سی) اور کنساس اسٹیٹ یونیورسٹی کی اس تحقیق میں تخمینہ لگایا گیا کہ ہوا سے وائرس کے ذرات طیارے کے اندر کس حد تک پھیل سکتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے محققین نے طیارے کے کیبن جیسے ماحول میں پتلوں کا استعمال کرکے وائرل ذرات کے پھیلاؤ کی جانچ پڑتال کی۔

تاہم اس تحقیق میں فیس ماسک کے استعمال کو مدنظر نہیں رکھا گیا تھا اور نہ ہی مسافروں کی ویکسینیشن کے پہلو کو زیرغور رکھا گیا۔

سی ڈی سی نے کچھ دن پہلے اپنی سفارشات میں کہا تھا کہ ویکسین استعمال کرنے والے افراد میں وائرس کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے تاہم انہیں غیرضروری سفر کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

تحقیق میں کہا گیا کہ طیارے میں مسافروں کے درمیان سماجی دوری لوگوں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ کم کرتی ہے۔

تحقیق میں کورونا وائرس کے خطرے اور طیاروں میں لوگوں کی قربت کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا۔

محققین نے کہا کہ طیاروں کو مکمل بھرنے کی بجائے درمیانی نشستوں کو خالی رکھ کر مسافروں میں بیماری کا خطرہ 23 سے 57 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق اگر ایک مسافر کووڈ کے شکار کسی فرد کے ساتھ ایک ہی قطار میں ہوں مگر 2 نشست دور ہو تو بیماری کا خطرہ 23 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

جب 120 مسافروں کے کیبن میں اس منظرنامے کا اطلاق کیا گیا تو بیماری کا خطرہ 35 سے 39.4 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ 57 فیصد خطرہ اس صورت میں کم ہوتا ہے جب کووڈ کے مریض اور صحت مند فرد کے درمیان 3 نشستوں کا فاصلہ ہو۔

تبصرے (0) بند ہیں