2 مختلف کووڈ ویکسینز کا امتزاج محفوظ اور مؤثر قرار

19 مئ 2021
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

دنیا کے مختلف ممالک میں کووڈ 19 ویکسینز کے امتزاج کا تجربہ کیا جارہا ہے تاکہ جانچا جاسکے کہ ان کی 2 خوراکیں کس حد تک محفوظ ہوسکتی ہیں۔

اس حوالے سے اسپین میں ہونے والی ایک تحقیق کے نتائج سامنے آئے ہیں۔

تحقیق میں فائزر/بائیو این ٹیک اور ایسٹرازینیکا ویکسین کا امتزاج کیا گیا اور اسے محفوظ اور مؤثر قرار دیا گیا۔

اسپین کے کارلوس 3 ہیلتھ انسٹیٹوٹ کی اس تحقیق کے ابتدائی مرحلے میں پہلی خوراک کے طور پر ایسٹرازینیکا ویکسین استعمال کرنے والے افراد کو دوسری خوراک میں فائزر ویکسین دی گئی۔

تحقیق میں 2 مختلف ویکسینز استعمال کرنے والے میں آئی جی جی اینٹی باڈیز کی سطح کو ایسٹرازینیکا ویکسین کی ایک خوراک استعمال کرنے والے گروپ کے مقابلے میں 30 سے 40 گنا زیادہ دریافت کیا گیا۔

اسی طرح 2 مختلف ویکسین استعمال کرنے والے افراد میں وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی سطح دوسرے گروپ سے 7 گنا زیادہ تھی۔

تحقیق میں 18 سے 59 سال کی عمر کے 670 رضاکاروں کو شامل کیا گیا تھا جن کو ایسٹرازینیکا ویکسین کی ایک خوراک استعمال کرائی جاچکی تھی۔

ان 670 میں سے 450 کو ایسٹرازینیکا کی جگہ فائزر ویکسین کا استعمال دوسری خوراک کے طور پر پر کرایا گیا۔

محققین نے بتایا کہ محض 1.7 فیصد افراد کو مضر اثرات کا سامنا ہوا جن میں سردرد، مسلز میں تکلیف اور عدم اطمینان قابل ذکر تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان علامات کو سنگین تصور نہیں کیا جاسکتا۔

اس سے قبل برطانیہ میں مکس اینڈ میچ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ایسٹرازینیکا اور فائزر ویکسین کا امتزاج استعمال کرنے والے افراد کو معمولی یا معتدل علامات جیسے سردرد یا ٹھنڈ لگنے کا سامنا ہوا۔

برطانوی تحقیق میں شامل افراد کے مدافعتی ردعمل کے نتائج آنے والے مہینوں میں جاری کیے جائیں گے۔

اسپین میں اس تحقیق کا آغاز ایسٹرازینیکا ویکسین کا استعمال 60 سال سے زائد عمر کے افراد تک محدود کیے جانے کے بعد ہوا تھا، کیونکہ کم عمر لوگوں میں بلڈ کلاٹ کا خطرہ تھا۔

محققین نے بتایا کہ ابتدائی نتائج سے لوگوں کو 2 مختلف ویکسینز استعمال کرنے کے امکان کو تقویت ملتی ہے، مگر اس کا فیصلہ ہم نے نہیں کرنا۔

برطانیہ میں جاری اس طرح کی تحقیق میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ ویکسین کی دونوں خوراکیں 4 ہفتوں کے وقفے سے دینا زیادہ مؤثر ہے یا 12 ہفتوں کا وقفہ اس کی افادیت کو بڑھاسکے گا۔

3 فروری کو آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں عندیہ دیا گیا تھا کہ اگر ویکسین کی خوراکوں کے درمیان وقفہ زیادہ ہوا تو اس کی افادیت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

برطانوی وزیر ندیم زاہوی نے بتایا کہ نئے ٹرائل سے دونوں ویکسینز کے مختلف انداز سے استعمال کرنے پر تحفظ کے حوالے سے اہم شواہد مل سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک محققین اور ریگولیٹر اس طریقہ کار کے محفوظ اور مؤثر ہونے کے حوالے سے پراعتماد نہیں ہوں گے اس وقت تک اس پر عمل نہیں ہوگا۔

تبصرے (0) بند ہیں