پولیس پر حملہ کیس: صحافی اسد کھرل کے جسمانی ریمانڈ میں 2 روز کی توسیع

اپ ڈیٹ 25 جولائ 2021
اسد کھرل کو مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا—فائل/فوٹو: ٹوئٹر
اسد کھرل کو مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا—فائل/فوٹو: ٹوئٹر

لاہور کی مقامی عدالت نے پولیس پر میبنہ طور پر حملے کے کیس میں گرفتار صحافی اسد کھرل کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 2 روز کی توسیع کردی۔

پولیس نے اسد کھرل کو جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر ماڈل ٹاؤن کچہری میں پیش کیا اور مؤقف اپنایا کہ ملزم سے سرکاری رائفل برآمد کرنی ہے اور مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ میں 8 روز کی توسیع کی جائے۔

مزید پڑھیں: ٹی وی اینکر اسد کھرل پولیس پر فائرنگ کے الزام میں گرفتار

عدالت میں دیئے گئے بیان میں پولیس نے کہا کہ ملزم اسد کھرل کافی ہوشیار اور چالاک ہے، تفتیش کے دوران ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے۔

مجسٹریٹ نے پولیس اور ملزم کا مؤقف سننے کے بعد اسد کھرل کا مزید دو دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔

اس موقع پر اسد کھرل کے وکیل نے کہا کہ اسد کھرل صحافی ہیں اور سپریم کورٹ کے حکم پر انہیں سیکیورٹی ملی جبکہ پولیس نے چار دن کے ریمانڈ میں ملزم پر تشدد کیا۔

انہوں نے کہا کہ اسد کھرل کے سیل میں پانی کھڑا تھا اور وہ سو نہیں سکے، ایک حساس انسان کے ساتھ پولیس نے ایسا سلوک کیا۔

وکیل کا کہنا تھا کہ اسد کھرل کے کپڑے اتروا کر سیل میں کھڑا رکھا گیا اور پوری پولیس فورس اس ایک انسان کے خلاف لگی ہوئی ہے۔

عدالت میں سماعت مکمل ہونے پر پولیس حکام اسد کھرل کو لے کر عدالت سے واپس روانہ ہو گئے۔

یاد رہے کہ 23 جولائی کو لاہور کی پولیس نے ٹی وی اینکر اسد کھرل کو پولیس افسر اور ایک کانسٹیبل کو یرغمال بنانے، ان پر فائرنگ اور سرکاری اسلحے کو چھیننے کے الزام میں گرفتار کیا تھا جبکہ اسد کھرل نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: اسد کھرل رینجرز کی تحویل میں

پولیس نے متعدد سنگین الزامات کے تحت اسد کھرل کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی تھی اور پولیس کمانڈوز کی مدد سے انہیں ان کی ویلنسیا ٹاؤن میں واقع رہائش گاہ سے حراست میں لیا تھا۔

بعد ازاں پولیس نے ملزم کو مقامی عدالت میں پیش کرکے ان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا۔

پولیس ہیڈ کانسٹیبل اشفاق احمد کی شکایت پر درج ایف آئی آر میں کہا گیا کہ اینکر پرسن نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا، انہیں اپنے گھر میں یرغمال بنایا، سرکاری اسلحہ چھینا، ان پر فائرنگ بھی کی جس کے نتیجے میں ایک کانسٹیبل زخمی ہوگیا۔

پولیس نے مقدمے میں تعزیرات پاکستان (پی پی سی) کی دفعہ 392 بھی شامل کی، جس میں ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم نے ڈکیتی کے جرم کا بھی ارتکاب کیا ہے۔

اسد کھرل کے خلاف لگائی گئی دفعات میں پی پی سی کی دفعہ 353 (کسی سرکاری ملازم کو اس کی ذمہ داری سے روکنے کے لیے حملہ یا اقدامات کرنا)، 342 (کسی شخص کو حبس بے جا میں رکھنا)، 324 (اقدام قتل) اور دفعہ 186 (سرکاری ملازمین کو عوامی خدمات سے روکنا) شامل ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں