پیٹرول ڈیلرز کا ملک بھر میں کل سے ہڑتال کا اعلان، اسٹیشنز پر لوگوں کا رش

اپ ڈیٹ 25 نومبر 2021
—فوٹو: پی پی آئی
—فوٹو: پی پی آئی
ڈیلرز نے حکومت پر مطالبات پورے نہ کرنے کا الزام عائد کیا—فائل/فوٹو: اے پی پی
ڈیلرز نے حکومت پر مطالبات پورے نہ کرنے کا الزام عائد کیا—فائل/فوٹو: اے پی پی

آل پاکستان پیٹرول پمپس ڈیلرز ایسوسی ایشن(پی پی ڈی اے) نے حکومت کی ڈیلرز کے منافع کا مارجن بڑھانے میں ناکامی پر ملک بھر میں ہڑتال اور تمام اسٹیشنز کل (جمعرات) سےبند رکھنے کا اعلان کردیا، جس کے بعد مختلف شہروں میں پیٹرول پمپس پر رش لگ گیا۔

پی پی ڈی اے کی جانب سے جاری بیان میں ہڑتال کے دورانیے کے حوالے سے کوئی وضاحت نہیں دی گئی ہے کہ یہ ہڑتال کتنے دنوں تک جاری رہے گی۔

مزید پڑھیں: ڈیلرز کا 25 نومبر کو ملک بھر میں احتجاجاً پیٹرول پمپس بند رکھنے کا اعلان

ڈان ڈاٹ کام کو پی پی ڈی اے کے چیئرمین عبدالسمیع خان نے واضح جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ کل (جمعرات کو) کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہڑتال کل صبح 6 بجے سے شروع ہوگی’۔

دوسری جانب ترجمان پیٹرولیم ڈویژن نے کہا کہ پیٹرولیم ڈویژن نے ڈیلرز کا مارجن بڑھانے کےلیے معاملہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو بھجوا دیا ہے اور منظوری کا انتظار ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیز اور ڈیلرز مارجن میں مناسب اضافے کےلیے کوشاں ہیں اور وفاقی کابینہ کے جانب سے 10 روز میں فیصلے کا امکان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کل ملک میں تمام پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)، شیل، ٹوٹل اور دیگر کمپنیوں کے پیٹرول پمپ کھلے رہیں گے۔

ترجمان نے کہا کہ آئل سپلائی میں تیزی کےلیے ٹینکر روانہ کردیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئل اینڈ گیس ریگیولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ڈیلرز کے مارجن میں پیٹرول پمپس پر تیل کی فراہمی بلاتعطل جاری رکھنے کے لیے نوٹس لیا ہے۔

اوگرا نے بیان میں کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ریٹیل پر تیل کی بلاتعطل فراہمی جاری رکھی جائے اور اوگرا کی ٹیمیں بھی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے میدان میں موجود ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ تیل کی فراہمی میں رکاؤٹ ڈالنے یا عوام کو مشکل میں ڈالنے میں کوئی ملوث ہوا تو ان کے خلاف اوگرا قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

'حکومتی وعدے تاحال پورے نہیں ہوئے'

پیٹرول ڈیلرز کا لاہور کے مقامی ہوٹل میں اجلاس ہوا جہاں آل پاکستان پیٹرول پمپس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری اطلاعات خواجہ عاطف نے نشان دہی کی کہ حکومت نے تین سال قبل ڈیلرز کے منافع کا مارجن بڑھانے کا وعدہ کیا تھا۔

جاری بیان میں کہا گیا کہ ‘وعدہ تاحال پورا نہیں کیا گیا، اب کیونکہ مہنگائی بڑھ رہی ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں تو ڈیلرز کے لیے اسٹیشنز چلانا مشکل ہو رہا ہے’۔

ہڑتال کے حوالے سے کہا گیا کہ ڈیلرز نے اس سے قبل 5 نومبر سے ہڑتال کی کال دی تھی لیکن وزیر توانائی حماد اظہر کی قیادت میں حکومتی ٹیم کی ملاقات کے بعد واپس لی گئی تھی جہاں 3 نومبر کو انہوں نے مطالبات پورے کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات پر اضافی ٹیکس: حکومت سے ایک ہفتے میں جواب طلب

ڈان کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں سیکریٹری پیٹرولیم ڈاکٹر ارشد محمود کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی، جس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ کی جانب سے 15 نومبر تک منافع کے مارجن میں اضافے کی منظوری کے معاہدے پر عمل درآمد یقینی بناے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کو بھی شامل کیا گیا تھا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ اجلاس میں ‘حکومت نے منافع مارجن 6 فیصد تک بڑھانے پر اتفاق کیا اور فیصلے پر عمل درآمد کے لیے 17 نومبر تک وقت دینے کا کہا گیا تھا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ڈیلرز عوام کے مفاد میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی جاری رکھی ہوئی ہے لیکن 17 نومبر تک مطالبات ماننے کے بعد 5 دن گزرنے کے باوجود تاحال حکومتی نمائندے سنجیدہ نظر نہیں آرہےہیں’۔

’ہماری بقا کا دارومدار ہے’

آل پاکستان پیٹرول پمپس ڈیلرز ایسوسی ایشن بہاولپور کے سربراہ محمد یاسین نے اپنے بیان میں تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تمام اسٹیشنز صبح 6 بجے سے بند رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایمبولینس اور ریسکیو 1122 کے علاوہ تمام گاڑیوں کو ہڑتال کے دوران پٹرول فراہم نہیں کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت گزشتہ تین برس کی بلند ترین سطح پر

ہڑتال کو ‘بقا کی جنگ سے’ تعبیر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت تاحال ایسے مخصوص اقدامات نہیں کیے، جس سےپیٹرول ڈیلرز کے مطالبات پورے ہو رہے ہوں اور اس حوالے سے کوئی نتیجہ بھی نہیں دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کاروبار بند کرنا ہماری مجبوری بن گئی ہے، پاکستان بھر میں پیٹرول ڈیلرز کے ساتھ معاہدہ تھا کہ منافع کا مارجن بڑھانے کی ضروت ہے جیسا کہ اخراجات میں اضافے کی وجہ سے اسٹیشنز چلانا مشکل ہوچکا ہے۔

انہوں نے ڈیلرز پر زور دیا کہ وہ اسٹیشنز کے باہر رکاوٹیں کھڑی کریں، پیٹرولیم مصنوعات جمع کرنا روک دیں اور کسی بھی طرح لوگوں کو پیٹرول کی فراہمی نہ کریں۔

محمد یاسین نے کہا کہ بہاولپور میں ہڑتال کی نگرانی کے لیے ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔

قبل ازیں آل پاکستان پیٹرول پمپس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری اطلاعات نعمان علی بٹ نے ہڑتال کی کال کی تصدیق کی تھی۔

تبصرے (0) بند ہیں