آخر ہم نے کراچی کی پرانی بسوں کو کیوں بھلا دیا؟

05 جولائ 2022
لکھاری کراچی میں مقیم ایک محقق ہیں۔
لکھاری کراچی میں مقیم ایک محقق ہیں۔

گزشتہ مہینے کراچی میں مسافروں کو درپیش مشکلات کو دُور کرنے کے لیے ایک نئی بس سرورس کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ بسیں 7 روٹس پر چلیں گی۔ اس وقت پہلے روٹ پر بسیں چلنا شروع ہوچکی ہیں جبکہ رفتہ رفتہ دیگر روٹس بھی فعال کردیے جائیں گے۔

اکثر مبصرین اس بس سروس کا مقصد آنے والے بلدیاتی انتخابات میں ووٹوں کے حصول کو سمجھتے ہیں کیونکہ سندھ میں 10 بسوں کے ساتھ اسی طرح کی ایک سروس 2018ء کے انتخابات سے قبل بھی شروع کی گئی تھی۔

حکومتی سبسڈی کے ساتھ اسی طرح کا ایک منصوبہ 2 دہائیوں قبل بھی شروع کیا گیا تھا۔ اس وقت بھی شہر میں کئی بس روٹس کا تعین کیا گیا تھا اور اس وقت کی سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی کی مدد سے شاندار مگر مہنگی بسیں درآمد کی گئی تھیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ بسیں کم سے کم ہوتی گئیں اور پھر ختم ہی ہوگئیں۔ ظاہر ہے کہ حکومتی سبسڈی کے ساتھ شہر میں ٹرانسپورٹ چلانا مشکل کام ہے، تاہم حکام نے اس سے کچھ نہیں سیکھا۔

شہری جب کبھی کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کی حالتِ زار کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو انہیں یہی جواب دیا جاتا ہے کہ ایک بار جب بس ریپڈ ٹرانسپورٹ (بی آر ٹی) مکمل طور پر فعال ہوجائے گی تو یہ مسائل بھی ختم ہوجائیں گے۔

اب تک گرین لائن پر سرجانی سے لے کر نمائش تک 80 بسیں چلائی جارہی ہیں۔ ریڈ لائن پر بھی کام کا آغاز ہوگیا ہے لیکن بدقسمتی سے اس کام کی سب سے زیادہ ’قابل ذکر‘ چیز درختوں کی کٹائی ہی رہی ہے۔ اس منصوبے پر کام کرنے والوں کے مؤقف کے برعکس اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ ان بسوں کے ذریعے سستے اور آرامدہ سفر کا خواب پورا ہوسکے گا۔

مزید پڑھیے: کراچی میں ٹرانسپورٹ کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟

اس حوالے سے کئی چیلنجز موجود ہیں۔ جب کراچی کی تمام 7 بی آر ٹی شروع ہوں گی اور اگر یہ شروع ہوتی ہیں تو اس وقت بھی یہ شہر کی 8 فیصد سے بھی کم سفری ضروریات کو ہی پورا کریں گی۔ ان کی تعمیر ایک خطیر رقم سے کی جارہی ہے اور کئی اداروں سے ان کے لیے قرضے بھی لیے گئے ہیں۔ ان بسوں کو چلانے کے لیے سالانہ بنیاد پر خطیر سبسڈی کی بھی ضرورت ہوگی جو حکومت کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔

جب یہ مالی بوجھ بہت زیادہ بڑھ جائے گا تب یہ بسیں بھی چلنا بند ہوجائیں گی۔ یہی کچھ 1996ء میں کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن اور پھر 1999ء میں کراچی سرکلر ریلوے کے ساتھ ہوا تھا۔

ہر کوئی پرانی کھٹارا بسوں پر تنقید کرتا ہے، لیکن دراصل ان بسوں کی اس حالت کے پیچے کئی عوامل ہیں۔ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، سڑکوں کی خراب حالت، پولیس کی جانب سے بھتہ لینا، بسوں کی مرمت کے لیے سرمائے کی محدود دستیابی اور نئی بسوں کی خریداری کے لیے قرض کا نہ ملنا بھی ان عوامل میں شامل ہیں۔

مزید پڑھیے: زبوں حالی کا شکار کراچی اور اس کے دم توڑتے بلدیاتی ادارے

ماضی میں کراچی کے تمام علاقے شہر کے مرکز، صنعتی زونز، تعلیمی اداروں اور صحت کے بڑے مراکز کے ساتھ بسوں کے ذریعے ہی منسلک ہوتے تھے جو شہریوں کو سستی اور پائیدار سفری سہولت فراہم کرتی تھیں۔

کراچی ڈیولپمنٹ پلان 85ء-1973ء کے لیے ہونے والے مطالعات میں یہ بات سامنے آئی کہ 70 فیصد شہری پبلک بسوں کا استعمال کرتے ہیں۔ فیڈرل بی ایریا کے مکینوں کے لیے بس روٹ 5 سی، 6، 6 اے اور 6 بی، نیو کراچی کے لیے 4 ایچ، فیڈرل کیپیٹل ایریا اور موسیٰ کالونی کے لیے 5 اے، 5 بی اور 5 ڈی، نارتھ ناظم آباد کے لیے 3، 2 کے، 2 ڈی اور 2، کلفٹن کے لیے 20، اورنگی ٹاؤن کے لیے 1 ڈی اور 1 سی وغیرہ مختص کیے گئے۔

کچھ بسیں اور منی بسیں تو تقریباً پورا دن چلتی تھیں۔ بس چلانے والے بھی شہریوں کے ساتھ بہتر انداز سے پیش آتے تھے۔ بعض اوقات تو کنڈکٹرز کو ہدایت ہوتی تھی کہ وہ بزرگوں اور بچوں کی بس میں چڑھنے اور بس سے اترنے میں مدد کریں۔ خصوصی افراد کو بھی ترجیحاً سیٹ دی جاتی اور خواتین بھی نسبتاً کم خدشات کے ساتھ بسوں میں سفر کرتی تھیں۔

اس وقت نجی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بہت کم ہوتی تھیں، اپنے کام کی جگہوں یا تعلیمی اداروں میں جانے کے لیے کراچی کی بسیں ایک عمومی انتخاب ہوا کرتی تھیں۔ شہری دُور دراز جگہوں پر بھی بسیں بدل کر آسانی سے پہنچ جاتے تھے۔ ان بسوں کی وجہ سے شہر کے کم آمدن والے علاقے بھی شہری زندگی سے جڑے ہوتے تھے۔

مگر یہ بات قابلِ افسوس ہے کہ ٹرانسپورٹ پالیسی میں ان عام بسوں پر توجہ نہیں دی گئی۔ درحقیقت شہر میں کشیدہ حالات کے دوران عموماً توڑ پھوڑ اور جلائے جانے کا شکار بھی یہی بسیں ہوتی تھیں۔ اپنی انجمنوں کے ذریعے بس مالکان حکومت سے ان بسوں کا معاوضہ تو طلب کرتے تھے لیکن بار بار درخواستیوں کے بعد بھی انہیں اس معاوضے کا کچھ حصہ ہی ملتا تھا۔ اگر ہم انہیں سہولیات فراہم کرسکیں تو یہ بسیں حکومت پر مالی بوجھ بنے بغیر شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرسکتی ہیں۔

مزید پڑھیے: بی آر ٹی منصوبے اور ہماری خامیاں

ہماری موجودہ معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکام کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ ان بسوں کے حوالے سے اپنی پالیسی کو بہتر بنائیں۔ ٹرانسپورٹرز کے ساتھ بات چیت اور صورتحال کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ اس شعبے پر توجہ دے کر پبلک ٹرانسپورٹ کی بحالی کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

ٹرانسپورٹروں کو آسان قرضوں کی فراہمی، بسوں کے ٹرمینلز کی تیاری، ڈرائیوروں کی تعلیم اور تربیت، ٹریفک پولیس پر نظر رکھنے اور ہنگاموں کے دوران بسوں کو کسی قسم کے نقصان سے محفوظ رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ منی بسوں اور چنگچی رکشوں کو فیڈر روٹس پر چلایا جاسکتا ہے یوں بس اور منی بس مالکان ایک ساتھ کام کرسکتے ہیں۔


یہ مضمون 4 جولائی 2022ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

اپنی رائے دیجئے

7
تبصرے
1000 حروف
انجینیر خالد Jul 05, 2022 11:27am
بہترین تحریر
ابو عبداللہ Jul 05, 2022 04:11pm
کراچی کو منی بس ٹرانسپورٹ مافیا کی ملی بھگت سے بسوں کی سہولت سے محروم رکھا جاتا رھا ہے، اب تو کراچی کے شہری دوسرے شہروں اور گاؤں کے باشندوں کے رحم و کرم پر جی رھے ہیں۔ یہاں کا تو ایڈمنسٹریٹر بھی باھر سے آ تا ہے، اس شہر کا اللہ ہی حافظ ہے
یمین الاسلام زبیری Jul 05, 2022 10:29pm
بہت اہم مسئلہ ہے۔ میں نے کراچی کی سرکاری بسوں کی حالت دیکھی ہے کہ کیسے ان کے ساتھ ڈرائور اور کنڈیکٹر سلوک کرتے ہیں اور کیسے انتظٓمیہ لاہروایئ دکھاتی ہے۔ عرصہ دو سال کا ہوا کہ میں چٹاگانگ، بنگلہ دیش، گیا تھا۔ وہاں سائکل رکشوں کی بھر مار دیکھی، بسیں معمولی، بلکہ پرانی ٹاٹا کی تھیں، ائرکنڈیشنڈ نہیں تھیں۔ دراصل ان کی معیشت کو سائکل رکشا بہت بڑا سہارا دے رہا ہے۔ وہ نہ صرف تیل، بلکہ کل پرزے اور گاڑیوں کی درآمد پرڈالر میں خرچہ روکے ہوئے ہے۔ اس ملک کے سائکل رکشاٗوں کا وہاں کی معیشت کو سہارا ہے۔ ان کو سلام۔
nk Jul 06, 2022 01:41am
PPP's carrot and vote policy will fail.
Adnan Alam. Jul 06, 2022 11:35am
Abhi tak to ye buses MaShaAllah bhar kr chal rahi hai. Is ma khasara ho hi nahi sakta. han agar Conductor or deriver dandi na maray to.
Salazar Jul 06, 2022 02:35pm
I spent my childhood hanging from the buses. We used to take 4K and 4J in the 80s. Even then every year or so, there would be a brouhaha of KCR being put into operations with grand plans of extension. This is problem is perpetuated due to the transport mafia, incompetent and corrupt city planners and administration. Sorry to say, there's no hope.
nk Jul 06, 2022 10:56pm
Karachi needs and calls its resident to have their input in every decision the incompetent Sindh govt. takes. City planners should bring the mainstream residents in planning this city.