طالبان کے رویے پر مایوسی کے باوجود امریکا 'منجمد اثاثوں' سے متعلق مذاکرات پر رضامند

اپ ڈیٹ 23 اگست 2022
<p>طالبان نے جون میں دوحہ مذاکرات میں امریکی تجاویز پر جوابی تجاویز پیش کیں—فائل فوٹو: اے ایف پی</p>

طالبان نے جون میں دوحہ مذاکرات میں امریکی تجاویز پر جوابی تجاویز پیش کیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کابل میں القاعدہ کے مارے گئے رہنما کی موجودگی، طالبان اور افغان سینٹرل بینک کے رویے کے باوجود افغانستان کے غیر ملکوں میں موجود اربوں ڈالر کے منجمد اثاثوں کے اجرا سے متعلق مذاکرات اور بات چیت کو آگے بڑھائے گی۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق افغانستان کی تباہ شدہ معیشت کو بحال کرنے میں مدد کرنے کے اقدام پر عمل درآمد کرنے کا فیصلہ انسانی بحران سے متعلق واشنگٹن کے بڑھتے ہوئے خدشات کو نمایاں کرتا ہے جب کہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ موسم سرما کے قریب آتے ہی ملک کی تقریباً 4 کروڑ آبادی میں سے نصف افراد کو خوراک کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

رائٹرز کی گزشتہ ماہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی کوششوں کا بنیادی نکتہ یہ منصوبہ ہے کہ غیر ملکی قبضے میں موجود افغان مرکزی بینک کے اربوں ڈالر کے اثاثوں کو مجوزہ سوئس ٹرسٹ فنڈ میں منتقل کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کا افغان مرکزی بینک کے منجمد اثاثے جاری کرنے سے انکار

منصوبے کے تحت رقوم کا اجرا عالمی بورڈ کی مدد سے کیا جائے اور اس عمل میں طالبان کو نظرانداز کیا جائے جن میں سے بہت سے رہنماؤں پر امریکی اور اقوام متحدہ کی پابندیوں عائد ہیں۔

طالبان نے جون کے آخر میں دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں ان تجاویز پر جوابی تجاویز پیش کیں۔

سی آئی اے کے ڈرون حملے میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کے مارے جانے کے 12 روز بعد امریکی محکمہ خارجہ اور خزانہ کے 2 حکام نے 11 اگست کو ایک بریفنگ کے دوران نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر آزاد تجزیہ کاروں کو بتایا تھا کہ وہ مذاکرات میں پیش رفت کی سست رفتارسے پیدا مایوسی کے باوجود بات چیت کو جاری رکھیں گے۔

مزید پڑھیں: امریکا اور افغانستان کے درمیان اختلافات کے باوجود منجمد اثاثے جاری کرنے پر اہم پیش رفت

ذرائع کے مطابق امریکی عہیدار نے کہا کہ طالبان اور افغان مرکزی بینک (ڈی اے بی) تیزی سے کام نہیں کر رہے، طالبان آرام سے بیٹھے ہیں جو کہ اشتعال انگیز طرز عمل ہے۔

محکمہ خارجہ نے اس بریفنگ سے متعلق کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے جب کہ باخبر امریکی ذرائع نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے اس نے بریفنگ میں کی گئی بات چیت کی تصدیق کی۔

امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے نے عالمی ٹرسٹ فنڈ قائم کرنے کے لیے امریکی حکومت کے منصوبے کو تبدیل نہیں کیا اور اس منصوبے پر کام اُسی رفتار اور تیزی کے ساتھ جاری ہے جو کہ ڈرون حملے سے قبل تھی۔

یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان کا بدترین زلزلے کے بعد منجمد اثاثے جاری کرنے کا مطالبہ

افغان وزارت خارجہ، وزارت اطلاعات اور ڈی اے بی نے فوری طور پر ان تجاویز پر رد عمل دینے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

دوسری جانب، امریکی حکام نے ٹرسٹ فنڈ کے قیام سے متعلق منصوبے پر سوئٹزرلینڈ اور دیگر فریقین کے ساتھ بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔

افغانستان میں معاشی اور انسانی بحران اس وقت مزید بدتر شکل اختیار کر گیا جب واشنگٹن اور امداد فراہم کرنے والے دیگر ممالک نے 15 اگست 2021 کو کابل پر طالبان کی حکومت آنے کے بعد اپنی امداد روک دی۔

مزید پڑھیں: منجمد افغان اثاثوں کی 9/11متاثرین میں تقسیم افغان عوام پر ظلم ہے، حامد کرزئی

یہ بیرونی امداد افغان حکومتی بجٹ کا 70 فیصد حصہ بنتی تھی، طالبان نے ملک پر دوبارہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے جب کہ 20 سال کی جنگ کے بعد امریکا اور اس کے اتحادی ملک چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے

واشنگٹن نے مختلف پابندیوں کے ذریعے افغان کرنسی اور افغانستان کے بینکنگ نظام کو مفلوج کردیا تھا جب کہ امریکی فیڈرل ریزرو بینک آف نیویارک میں اس کے7 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کر دیے تھے، فروری میں جو بائیڈن نے اس رقم میں سے افغانستان کی بحالی کے لیے نصف رقم مختص کرنے کا حکم دیا تھا۔

امریکی فیڈرل ریزرو بینک آف نیویارک میں افغانستان کے7 ارب ڈالر کے اثاثوں کے علاوہ دیگر ممالک کے پاس اس کے 2 ارب ڈالر کے اثاثے ہیں۔

ابتدائی طور پر، جو بائیڈن انتظامیہ کے اس مجوزہ منصوبے کے تحت منجمد 3.5 ارب ڈالرز کے اثاثے مجوزہ ٹرسٹ فنڈ میں جاری کیے جائیں گے۔

تبصرے (0) بند ہیں