سارہ قتل کیس: مرکزی ملزم شاہنواز امیر کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 4 دن کی توسیع

اپ ڈیٹ 29 ستمبر 2022
ملزم شاہنواز نے 27 ستمبر کو اپنی اہلیہ کو مبینہ طور پر قتل کردیا تھا— فوٹو: طاہر نصیر
ملزم شاہنواز نے 27 ستمبر کو اپنی اہلیہ کو مبینہ طور پر قتل کردیا تھا— فوٹو: طاہر نصیر

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ انعام قتل کیس کے مرکزی ملزم شاہنواز امیر کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 4 دن کی توسیع کردی۔

سارہ انعام قتل کیس کے مرکزی ملزم شاہنواز امیر کا جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر آج ان کو سول جج محمد عامر عزیز کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ملزم اور مقتولہ سارہ انعام کے خاندان کے وکلا پیش نہ ہو سکے۔

مزید پڑھیں: سارہ انعام قتل کیس: ایاز امیر کو بری کردیا گیا

سماعت شروع ہوتے ہی پراسیکیوٹر نے عدالت سے مرکزی ملزم شاہنواز امیر کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 5 دن توسیع کی استدعا کی۔

پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ ’ملزم کو مقتولہ سارہ انعام کی طرف سے حاصل ہونے والے پیسوں سے متعلق مزید تفتیش کرنی ہے‘۔

اس دوران عدالت نے استفسار کیا کہ ملزم کو پولیس تحویل میں کتنے دن رکھا گیا ہے، جس پر سرکاری افسر نے جواب دیا کہ ملزم 5 دنوں سے پولیس کی تحویل میں ہے۔

بعد ازاں عدالت نے ملزم شاہنواز امیر کے جسمانی ریمانڈ میں 4 دن کی توسیع کردی۔

شاہنواز امیر کو گزشتہ ہفتے اپنی کینیڈا کی شہریت رکھنے والی اہلیہ سارہ انعام کو مبینہ طور پر قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

سارہ انعام کے قتل کا واقعہ اسلام آباد کے شہزاد ٹاؤن میں شاہنواز امیر کے فارم ہاؤس میں پیش آیا تھا جہاں ملزم کے ساتھ ان کی والدہ ثمینہ شاہ بھی رہائش پذیر تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: سارہ قتل کیس: مجرم کو سزائے موت ہونی چاہیے، والد انعام رحیم

دریں اثنا، مرکزی ملزم کے والد سینئر صحافی اور سیاست دان ایاز امیر کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پولیس کو ہدایت کی جائے کہ وہ میرے مؤکل کا موبائل فون واپس کردے۔

تاہم پراسیکیوٹر نے کہا کہ موبائل فون فرانزک کے لیے بھیجا گیا ہے کیونکہ ایاز امیر نے تفتیش کاروں کو بتایا تھا کہ ان کے موبائل فون میں واقعے سے متعلق ایک تصویر ہے۔

دلائل سننے کے بعد عدالت نے ایاز امیر کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد موبائل فون واپس کردیا جائے گا۔

واضح رہے کہ عدالت نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی مقامی عدالت نے کینیڈین خاتون کے قتل کیس میں ثبوتوں کی عدم موجودگی کے باعث سینئر صحافی ایاز امیر کو مقدمے سے بری کیا تھا۔

مزید پڑھیں: سارہ قتل کیس: مرکزی ملزم کی والدہ کا ضمانت قبل از گرفتاری کیلئے عدالت سے رجوع

تاہم، عدالت نے پولیس کو ہدایت کی تھی کہ اگر کیس سے متعلق ایاز امیر کے خلاف کوئی ثبوت ملتا ہے تو عدالت سے اجازت لینے کے بعد انہیں گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

'سارہ قتل کیس'

خیال رہے کہ اسلام آباد پولیس نے 23 ستمبر کو ایاز امیر کے بیٹے کو اپنی کینیڈین شہری بیوی کو مبینہ طور پر قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا جس کے ایک روز بعد اس کیس میں معروف صحافی کو بھی گرفتار کرلیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: شاہنواز امیر کا جسمانی ریمانڈ منظور، ایاز امیر کے وارنٹ گرفتاری جاری

پولیس نے بتایا کہ 22 ستمبر کی رات کسی تنازع پر جوڑے کے درمیان سخت جھگڑا ہوا تھا، بعد ازاں جمعہ کی صبح دونوں میں دوبارہ جھگڑا ہوا جس کے دوران ملزم نے خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر سر پر ڈمبل مارا۔

اس کے نتیجے میں خاتون کو گہرا زخم آیا اور وہ بےہوش ہوکر فرش پر گر گئیں، تاحال اس بات کا تعین نہیں ہوسکا کہ خاتون کی موت سر پر چوٹ لگنے سے ہوئی یا ڈوبنے سے ہوئی کیونکہ سر پر چوٹ کے بعد وہ باتھ ٹب میں گری تھیں اور ملزم نے پانی کا نل کھول دیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں