کام کی جگہ پر ہراسانی: ڈی جی پیمرا ملازمت سے برطرف، 25 لاکھ روپے جرمانہ عائد

01 اکتوبر 2022
<p>صدر نے ملزم پرعائد جرمانہ 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر 25 لاکھ روپے کردیا—فائل فوٹو: ڈان</p>

صدر نے ملزم پرعائد جرمانہ 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر 25 لاکھ روپے کردیا—فائل فوٹو: ڈان

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف وفاقی محتسب کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے پیمرا کے ڈائریکٹر جنرل (اپیل کنندہ) ملازمت سے برطرف کرنے کی سزا سنادی ساتھ اس پرعائد جرمانہ 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر 25 لاکھ روپے کردیا۔

ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ بات کسی بھی معقول شک سے بالاتر ہے کہ خاتون ملازم کو ملزم کی جانب سے زبانی، فحش، جنسی اور توہین آمیز تبصروں اور مطالبات کے ذریعے ہراساں کیا گیا۔

صدر نے کہا کہ جب بھی اس طرح کے معاملات کو منظر عام پر لائے گئے اور ثابت ہوئے انہوں نے خواتین کے لیے کام کرنے کے شک و شبے سے بالاتر محفوظ ماحول کو یقینی بنانے کے لیے سخت استثنیٰ لیا اور قانون کا پوری طاقت کا استعمال کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: ہراسانی کے خلاف طلبہ کے احتجاج کے بعد لیکچرار معطل

انہوں نے مزید کہا کہ اس کا مقصد ان خواتین کی عظیم اقتصادی صلاحیت کو بروئے کار لانا تھا جو کام کی جگہ پر ہراساں کیے جانے کے خوف کی وجہ سے مستفید نہ ہوسکیں۔

صدر نے حکم دیا کہ معاوضے کی رقم تنخواہ کے بقایا جات (اگر کوئی ہے)، پنشن کی رقم یا اپیل کنندہ کے کسی دوسرے ذریعے (جائیداد) سے ورک پلیس ایکٹ 2010 میں خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ کی دفعہ 4(i)(d) کے تحت وصول کی جائے اور شکایت کنندہ کو ملزم کے باعث درپیش مشکلات کے بدلے معاوضے کے طور پر دی جائے۔

صدر کی جانب سے اس تاریخی فیصلے کا اعلان ملزمان، شکایت کنندہ اور ان کے وکلا کی ذاتی طور پر طویل سماعتوں کے علاوہ شواہد کو درست کرنے اور گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے اور کیس کی پوری کارروائی کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔

مزید پڑھیں: ’جنسی ہراسانی‘ کیا ہے اور پاکستانی قانون اس حوالے سے کیا کہتا ہے؟

فیصلے میں صدر نے کہا کہ ملزم نے شکایت کنندہ کو وفاقی محتسب کی جانب سے مقدمے کی کارروائی کے دوران بھی، اپنی معطلی کی مدت میں، آئی جی پولیس، اسلام آباد اور ڈی جی (ایف آئی اے)، سائبر کرائم میں شکایت کنندہ کے خلاف درخواستیں دائر کرکے ہراساں کرنا جاری رکھا جو شکایت کنندہ کے لیے شدید ذہنی اذیت اور اس کی ساکھ داؤ پر لگانے کا سبب بنا۔

صدر نے مزید کہا کہ ملزم کا مذکورہ فعل پاکستان کے قوانین بالخصوص پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف ویمن ایٹ ورک پلیس ایکٹ 2010 کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح ہراسانی کے خلاف ہمت کر کے مقدمہ درج کرانے والی خواتین کی حوصلہ شکنی کی گئی۔

اپنے حکم نامے میں صدر نے لکھا کہ خواتین ہمارے معاشرے کا 50 فیصد سے زیادہ ہیں اور ممکنہ طور پر ہراساں کیے جانے کی وجہ سے آزادانہ کام کرنے سے قاصر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: گزشتہ 4 سالوں میں ہراسانی کے کیسز میں غیر معمولی اضافے کا انکشاف

صدر کا مزید کہنا تھا خواتین کے لیے عوامی مقامات محدود ہیں، تعلیمی مواقع جو کہ ان کا حق ہے کچھ معاملات میں والدین انہیں تعلیمی اداروں میں ہراساں کیے جانے کے خوف کی وجہ سے اس حق سے محروم کر دیتے ہیں کیونکہ وہ ’لڑکیوں/خواتین کے اداروں‘ کی تلاش میں ہوتے ہیں۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ .اس کے نیتجے میں ہمارے معاشرے میں خواتین زیادہ تر کم تعلیم یافتہ، شدید بے روزگار، مالی طور پر مجبور، مناسب وراثت سے محروم ہیں اور ترقیوں کے وقت ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔

مقدمے کے قائم کردہ حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے صدر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ حکم نامے پر مکمل عمل درآمد کرے اور مقررہ مدت کے اندر اندر رجسٹرار وفاقی محتسب کو عملدرآمد رپورٹ فراہم کرے۔

تبصرے (0) بند ہیں