وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے رہنماؤں نے مجھے بتایا کہ ہمارا بندہ اپنے ساتھیوں سمیت مٹہ میں جنگ کرنے کے لیے نہیں گیا تھا، اپنی علیل بہن کی عیادت کرنے گیا تھا۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے 'اردو نیوز' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرا تو ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے، کئی لوگوں نے مجھ پر تنقید بھی کی ہے، میں ہمیشہ سے کہتا رہا ہوں کہ سوات میں دہشت گردی کے واقعات یا دہشت گردی کا مسئلہ اتنا بڑا نہیں، جتنا اس کو میڈیا میں اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے بعض سیاسی جماعتوں نے اٹھایا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے جو صحافی بھائی ہیں یہ بھی بعض اوقات کسی ایک جملے کو اٹھا کر اسی کو موضوع بحث بنا دیتے ہیں، اس سے پہلے اور بعد کے جملے کو سنتے ہیں، پڑھتے ہیں اور نہ اٹھاتے ہیں۔

بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ میرے حوالے سے بھی میڈیا پر بات غلط انداز میں کی گئی، میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ وہ کمانڈر یا وہ شخص اپنی بہن کی عیادت کرنے آیا تھا، میں نے یہ کہا تھا کہ کالعدم تنظیم طالبان کے بقول وہ جنگ کرنے نہیں بلکہ بہن کی عیادت کرنے کے لیے آیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سوات میں مظاہرہ، حکومت سے امن دشمن عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دوستوں نے طالبان کے بقول اڑا دیا، اور کہہ دیا کہ بیرسٹر محمد علی سیف کہہ رہا ہے، انہوں نے کہا کہ بیرسٹر سیف کو کیا پتا، بیرسٹر سیف نے ان کے ساتھ براہ راست تو بات نہیں کی تھی۔

بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ میں نے طالبان کے رہنماؤں سے بات کی تھی کہ آپ کے لوگ مٹہ میں آئے تھے، اور وہاں پر ان کی وجہ سے ٹینشن والی صورتحال پیدا ہوئی، مجھے ان کے بڑوں نے بتایا کہ ہمارا بندہ اپنے ساتھیوں سمیت مٹہ میں جنگ کرنے کے لیے نہیں گیا تھا، اس کی بہن کافی عرصے سے علیل تھی، اس کی عیادت کرنے گیا تھا، جس کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ میں آج بھی اسی بات پر قائم ہوں، بات کا بتنگڑ بنانا جن کا شوق ہے، بس وہ بناتے رہیں، میں نے جو کہنا تھا وہ کہہ دیا۔

بیرسٹر محمد علی سیف نے دعویٰ کیا کہ میں اکیلا بغیر کسی سیکیورٹی کے گیا تھا، مجھے تو وہاں پر کوئی دہشت گرد نظر نہیں آئے اور نہ ہی مجھے کوئی خطرہ محسوس ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں لوگوں سے درخواست کروں گا کہ وہ سوات میں آئیں، سوات میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، جہاں بھی جانا چاہیں جا کر انجوائے کریں، ان شا اللہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کی حفاظت کریں گے۔

مزید پڑھیں: سوات میں کوئی دہشت گرد نہیں، صورتحال قابو میں ہے، آئی جی خیبرپختونخوا

ترجمان خیبرپختونخوا حکومت نے کہا کہ میں یہ چاہوں گا کہ ہماری طرف سے بھی اور ان کی طرف سے بھی کوئی جارحانہ کارروائی نہ ہو، ہماری کوشش ہو گی کہ بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کو حل کریں۔

خیال رہے کہ 24 اکتوبر کو ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے سوال اٹھایا تھا کہ عسکریت پسندوں کی سوات میں واپسی کے وقت سیکیورٹی ادارے کہاں تھے؟ دہشت گردی کے خلاف سوات کے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اور شہریوں نے بڑی تعداد میں سڑکوں پر احتجاج کیا۔

سینیٹر افراسیاب خٹک کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے طالبان کے ساتھ کسی بھی طرح کی ڈیل اور مذاکرات کو مسترد کردیا ہے، انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں کی واپسی ایک ’نئی گیم‘ ہے اور امریکا اور برطانیہ، چین کو روکنے کے لیے پختون عوام کا خون بہانا چاہتے ہیں۔

لاہور میں ’افغان طالبان کے ساتھ ڈیل اور اس کا نتیجہ‘ کے عنوان پر اجلاس منعقد کیا گیا تھا جس میں سابق سینیٹر نے دعویٰ کیا کہ ایک ہزار سے زائد عوامی نیشنل پارٹی کے ارکان کو طالبان کی جانب سے قتل کیا گیا، لیکن ایک بھی ملزم کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا گیا۔

10 اکتوبر کو تحصیل چارباغ کے علاقے گلی باغ میں موٹر سائیکل سوار 2 مسلح افراد نے اسکول وین پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں ڈرائیور حسین احمد جاں بحق اور اسکول کے طلبہ زخمی ہو گئے تھے۔

مزید پڑھیں: سوات میں اسکول وین پر فائرنگ سے ڈرائیور جاں بحق، 2 طلبہ زخمی

فائرنگ کے واقعے کے بعد سوات اور خیبرپختونخوا کے دیگر علاقوں کے لوگوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، سیاسی کارکنان، سول سوسائٹی کے ارکان، اساتذہ اور طلبہ واقعے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے حملہ آوروں کا سراغ لگانے کا مطالبہ کیا۔

آئی جی خیبرپختونخوا نے کہا کہ سوات کے لوگوں نے 2007 میں دہشت گردی کی وجہ سے بہت مشکل اور سخت وقت کا دیکھا، وہ ان حالیہ واقعات کو برداشت نہیں کر سکتے، وہ دوبارہ 2007 اور 2008 جیسی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اس لیے وہ حملے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔

یاد رہے کہ 8 اکتوبر کو سوات میں بڑی تعداد میں لوگوں نے مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت سے امن دشمن عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی تو دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے ہم اسلحہ اٹھا سکتے ہیں۔

مظاہرین خوازہ خیلہ کی تحصیل مٹا چوک پر جمع ہوئے، اگست کے مہینے میں دہشت گرد سرگرمیاں دوبارہ منظر عام پر آنے کے بعد سوات میں متعدد احتجاج کیے جاچکے ہیں۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں