کراچی میں منکی پاکس کے مشتبہ مریضوں کی موجودگی کی تردید

اپ ڈیٹ 27 اپريل 2023
پاکستان میں منکی پاکس کا پہلا مصدقہ کیس 25 اپریل کو رپورٹ ہوا تھا — تصویر: رائٹرز
پاکستان میں منکی پاکس کا پہلا مصدقہ کیس 25 اپریل کو رپورٹ ہوا تھا — تصویر: رائٹرز

محکمہ صحت سندھ نے کراچی ایئرپورٹ پر آنے والے مسافروں میں منکی پاکس کے مشتبہ کیسز کی اطلاعات کی تردید کردی۔

وزیر صحت سندھ کی ترجمان مہر خورشید نے ایک بیان میں کہا کہ ’انتہائی غیر ذمہ دارانہ طور پر یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ کراچی میں ایئرپورٹ پر منکی پاکس کے کیس کا پتا چلا ہے، اس کی کوئی تصدیق نہیں ہے اور ہوائی اڈے کی انتظامیہ ایسی خبریں شیئر کرنے کے لیے مجاز نہیں ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت سندھ پوری تندہی سے کام کر رہا ہے اور کئی ہسپتالوں میں منکی پاکس کے مریضوں کے لیے آئسولیشن وارڈز بنائے گئے ہیں۔

ترجمان صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ برائے مہربانی بے بنیاد اور سنسنی خیز خبریں پھیلانے سے گریز کریں جس سے کمیونٹی میں خوف و ہراس پھیل جائے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لوگوں کے چہرے، شناخت، پتے ان کی رضامندی کے بغیر شیئر کرنا غیر اخلاقی ہے، چاہے وہ منکی پاکس کے تصدیق شدہ مریض ہوں یا نہیں۔

خیال رہے کہ نجی چینل ’جیو نیوز‘ کی ایک خبر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بیرون ملک سےکراچی آنے والے اب تک منکی پاکس کے تین مشتبہ مسافر سامنے آئے ہیں، جن میں دوران اسکریننگ منکی پاکس کی علامات پائی گئیں۔

خبر میں ڈائریکٹر محکمہ بارڈر ہیلتھ سروسز ڈاکٹر غلام مرتضیٰ شاہ کے حوالے سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ مسافروں کی مزید جانچ پڑتال آئسولیشن سینٹرز میں جاری ہے اور تصدیق ہونے پر مسافروں کو ایک سے دو ہفتے تک آئسولیشن سینٹر میں رکھا جائےگا۔

یاد رہے کہ پاکستان میں منکی پاکس کا پہلا مصدقہ کیس 25 اپریل کو رپورٹ ہوا تھا۔

مذکورہ مریض 17 اپریل کو سعودی عرب سے پاکستان آیا تھا اور ان میں بیماری کی علامات تھیں، جس کے باعث حکام کو ایئرپورٹ پر انتظامات کرنا پڑے اور ہسپتالوں میں آئسولیشن وارڈ بنا دیے گئے تھے۔

پنجاب بھر میں ہسپتال ہائی الرٹ

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نگراں صوبائی وزرائے صحت نے ملک میں حال ہی میں منکی پاکس کے دو کیسز سامنے آنے کے بعد پنجاب بھر کے سرکاری اور نجی شعبے کے ہسپتالوں کو ہنگامی اقدامات کرنے کے لیے الرٹ جاری کردیا۔

یہ ہدایات ہیلتھ سروسز کے ڈائریکٹر جنرل کے دفتر میں صوبائی وزرائے صحت بشمول پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم اور ڈاکٹر جمال ناصر کی مشترکہ صدارت میں منعقدہ اجلاس میں جاری کی گئیں۔

دونوں وزرائے صحت نے بریفنگ کے بعد وائرس پر قابو پانے کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا۔

ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتایا کہ لاہور میں منکی پاکس کے مریضوں کے علاج کے لیے بچوں اور بڑوں کے لیے بالترتیب چلڈرن ہسپتال اور جنرل ہسپتال مختص کیے گئے ہیں۔

انہوں نے تصدیق کی کہ پاکستان میں اب تک منکی پاکس کے دو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کی ڈین پروفیسر ڈاکٹر زرفشاں طاہر الرٹس اور دیگر معلومات کی فوکل پرسن ہیں۔

منکی پاکس کیا ہے؟

این آئی ایچ کے جاری کردہ الرٹ کے مطابق منکی پاکس ایک نایاب وائرل زونوٹک بیماری ہے جو منکی پاکس وائرس کے انفیکشن کی وجہ سے ہوتی ہے۔

اگرچہ منکی پاکس کے قدرتی ماخذ کا معلوم نہیں لیکن افریقی چوہے اور بندر جیسے غیر انسانی پریمیٹ وائرس کو رکھ سکتے اور لوگوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

یہ وائرس پھٹی ہوئی جلد، سانس کی نالی یا آنکھوں، ناک یا منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے۔

بخار کے ظاہر ہونے کے بعد ایک سے تین روز کے اندر مریض کے جسم پر خارش پیدا ہو جاتی ہے، جو اکثر چہرے سے شروع ہوتی ہے اور پھر جسم کے دوسرے حصوں میں پھیل جاتی ہے۔ بیماری کی دیگر علامات میں سر درد، پٹھوں میں درد، تھکن اور لیمفاڈینوپیتھی شامل ہیں۔

وائرس کے ظاہر ہونے کی مدت عام طور پر 7 سے 14 روز ہوتی ہے لیکن یہ 5 سے 21 روز تک بھی ہو سکتی ہے اور بیماری عام طور پر دو سے چار ہفتوں تک رہتی ہے۔

اس وائرس کا کوئی خاص علاج نہیں ہے لیکن چیچک سے بچاؤ کی ویکسی نیشن تقریباً 85 فیصد مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

علامات اور علاج

مائیکرو بائیولوجسٹ ڈاکٹر جاوید عثمان کے مطابق ایم پاکس کی علامات دو سے چار ہفتوں تک رہتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ منکی پاکس کے لیے کوئی خاص اینٹی وائرل علاج نہیں اور نہ ہی ابھی تک کوئی منظور شدہ ویکسین ہے، تاہم انہوں نےکہا کہ یہ بیماری عام طور پر جان لیوا نہیں ہوتی، شاذ و نادر صورتوں میں ہی ایسا ہو سکتا ہے جب کسی شخص کو نمونیا یا دماغ کے انفیکشن جیسی پیچیدگیاں پیدا ہوں جسے انسیفلائٹس کہتے ہیں۔

ڈاکٹر جاوید عثمان نے کہا کہ منکی پاکس سے متاثرہ مریض کو آئسولیٹ رکھنا چاہیے اور طبی عملے کو انفیکشن سے بچنے کے لیے دستانے اور ماسک پہننے چاہئیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ بیماری عام طور پر مہلک نہیں ہوتی اور لوگوں کو اس کی تشخیص کے بعد گھبرانا نہیں چاہیے۔

تبصرے (0) بند ہیں