صوبہ بلوچستان میں 7 روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز آج سے ہوگا جہاں پہلے مرحلے میں 5 سال سے کم عمر 12 لاکھ 60 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) کے کوآرڈینیٹر سید زاہد شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ صوبے کے 18 اضلاع کی 593 یونین کونسلز میں پولیو مہم چلائی جائے گی۔

سید ازہد شاہ نے کہا کہ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے تقریباً 5 ہزار ٹیمیں تعینات کی جائیں گی، ہائی رسک والے علاقوں میں بھی پولیو مہم شروع کرنے کے لیے تمام انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

صوبے کے 18 اضلاع میں پشین، قلعہ عبداللہ، چمن، بارکھان، مستونگ، چاغی، ڈیرہ بگٹی، دکی، قلعہ سیف اللہ، لورالائی، نوشکی، حب، جعفرآباد، نصیر آباد، شیرانی، صحبت پور، موسیٰ خیل اور ژوب شامل ہیں۔

کوآرڈینیٹر سید زاہد شاہ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں گزشتہ 2 سال سے پولیو کیس رپورٹ نہیں ہوا، تاہم پولیو کا آخری کیس رواں سال 27 جنوری کو ضلع قلعہ عبداللہ سے رپورٹ ہوا تھا۔

اس کے علاوہ اپریل 2021 سے صوبے کے کسی بھی ماحولیاتی نمونے میں پولیو وائرس نہیں پایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے فرنٹ لائن ورکرز کی کوشش اور محنت قابل تعریف ہے، تاہم ہمیں وائرس کو روکنے اور اپنے بچوں کو اس وائرس سے پاک کرنے کیلئے مزید محنت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ملک کے دیگر علاقوں اور افغانستان میں پولیو وائرس کی موجودگی بلوچستان کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

انہوں نے والدین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ مہم کے دوران پولیو ورکرز کے ساتھ تعاون کریں۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے ہیں، پولیو ورکرز کی حفاظت کے لیے بلوچستان لیویز فورس، پولیس اور فرنٹیئر کور تعینات کیے جائیں گے،

زاہد شاہ کا کہنا ہے کہ مذہبی اسکالرز بھی ان والدین کو پولیو کے قطرے پلانے پر راضی کررہے جو عام طور پر اپنے بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ روٹین امیونائزیشن پولیو کے خاتمے کے اقدامات کا اہم حصہ ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم نہ صرف اس بیماری کے خلاف ویکسینیشن کے لیے مناسب وسائل فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ دور دراز علاقوں میں روٹین امیونائزیشن سروس کی فراہمی کو بڑھانے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں