190 ملین پاؤنڈز ریفرنس: شہزاد اکبر، ملک ریاض و دیگر 5 ملزمان کے اشتہارات جاری

اپ ڈیٹ 08 دسمبر 2023
نیب نے یکم دسمبر کو عمران خان، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سمیت 8 افراد کے خلاف القادر ٹرسٹ کیس میں ریفرنس دائر کیا تھا — فائل فوٹو: اے ایف پی
نیب نے یکم دسمبر کو عمران خان، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سمیت 8 افراد کے خلاف القادر ٹرسٹ کیس میں ریفرنس دائر کیا تھا — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں عمران خان کے شریک ملزمان ملک ریاض حسین، ان کے بیٹے احمد علی ریاض، مرزا شہزاد اکبر، زلفی بخاری، فرحت شہزادی اور ضیا المصطفیٰ نسیم کو عدالت میں پیش نہ ہونے کی وجہ سے اشتہاری قرار دیے جانے کے بعد ان کے اشتہار جاری کردیے۔

سابق وزیر اعظم عمران خان کے مشیر مرزا شہزاد اکبر، معاون خصوصی زلفی بخاری کے علاوہ ضیاالمصطفیٰ، فرحت شہزادی عرف فرح گوگی کے اشتہار جوڈیشل کمپلیکس میں چسپاں کردیے گئے۔

ملزمان 6 جنوری کو اشتہار کے ذریعے احتساب عدالت میں طلب ہیں، احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے احکامات پر ملزمان کے اشتہارات جاری کیے گئے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں ملزمان ملک ریاض حسین، ان کے بیٹے احمد علی ریاض، مرزا شہزاد اکبر، زلفی بخاری، فرحت شہزادی اور ضیا المصطفیٰ نسیم کو عدالت میں پیش نہ ہونے کی وجہ سے اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغاز کردیا تھا۔

خیال رہے کہ 4 دسمبر کو ہونے والی گزشتہ سماعت میں عدالت نے ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

ریفرنس

یکم دسمبر کو نیب کی جانب سے دائر کردہ ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ ملزمان کو وضاحت دینے اور معلومات فراہم کرنے کے متعدد مواقع فراہم کیے گئے لیکن انہوں نے جان بوجھ کر بدنیتی کے ساتھ کسی نہ کسی بہانے سے معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔

مزید برآں، ان کے جوابات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کے پاس اپنے دفاع میں مذکورہ الزامات کو رد کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے، اس طرح ان سب نے قومی احتساب آرڈیننس کے تحت جرم کا ارتکاب کیا۔

اس میں مزید کہا گیا کہ اب تک کی تحقیقاتی کارروائیوں اور نتائج سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ملزمان نے ایک دوسرے کی ملی بھگت سے بدعنوانی کے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔

ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے ریاست کے لیے مختص فنڈز کی غیر قانونی منتقلی میں اہم کردار ادا کیا جس کا فائدہ بالآخر ملک ریاض کو ہوا۔

ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ شہزاد اکبر اور اثاثہ ریکوری یونٹ کے سربراہ نے ریاست کے لیے مختص فنڈز کے غیر قانونی ڈیزائن میں اہم کردار ادا کیا۔

ریفرنس میں بتایا گیا کہ ملک ریاض نے ریاست کے لیے مختص فنڈز کی منتقلی کے لیے دیگر مدعا علیہان کے ساتھ مدد کی اور سازش میں مکمل تعاون کیا۔

بشریٰ بی بی اور فرحت شہزادی نے بھی غیر قانونی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا جبکہ فرحت شہزادی عمران خان اور ان کی اہلیہ کے لیے فرنٹ ویمن کا کردار ادا کرتی تھیں۔

ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ 8 مشتبہ افراد کے خلاف کارروائی کرنا منصفانہ اور مناسب ہے کیونکہ ریفرنس کو درست ثابت کرنے کے لیے کافی مجرمانہ شواہد دستیاب ہیں۔

عدالت میں استدعا کی گئی کہ آٹھوں ملزمان پر مقدمہ چلایا جائے اور عدالت یا کسی اور جس کو ریفرنس سونپا گیا ہو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

ایف آئی اے کا مرزا شہزاد اکبر کی گرفتاری کے لیے انٹر پول کو خط

اس کے علاوہ ایف آئی اے نے مرزا شہزاد اکبر کی گرفتاری کے لیے انٹر پول کو خط لکھ دیا، سابق وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کو تھانہ سیکریٹریٹ کے مقدمے میں 2 دسمبر کو اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔

مرزا شہزاد اکبر کو سول جج احمد شہزاد گوندل کی عدالت سے اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔

شہزاد اکبر کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ سیکریٹریٹ میں 8 دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے، ان کے خلاف مقدمہ نمبر 156 فراڈ اور دیگر سنگین دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں