پاکستان میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات اور طویل انتظار کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری غیر حتمی نتائج آنے کے سلسلے کے دوران سوشل میڈیا پر میمز کی بھرمار ہوتی رہی، صارفین سیاسی شخصیات پر طنز و مزاح کی ٹوئٹس کرتے رہے۔

یاد رہے کہ 8 فروری کو عام انتخابات 2024 میں ملک بھر سے 12 کروڑ سے زائد ووٹرز نے قومی اور صوبائی اسمبلی کی 855 نشستوں پر اپنا حق رائے دہی کا استعمال کیاتھا۔

پولنگ کا آغاز صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہا لیکن الیکشن کمیشن کی جانب تاخیر سے نتائج جاری کیے گئے اور بالآخر 11 فروری کو ویب سائٹ پر مکمل نشستوں کے غیر حتمی نتائج جاری کیے گئے۔

اس دوران سوشل میڈیا پر میمز کی بھرمار رہی، صارفین سیاسی شخصیات پر طنز و مزاح کی ٹوئٹس کرتے رہے۔

لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 127 کے ابتدائی نتائج کے مطابق جب بلاول بھٹو جیتتے ہوئے نظر آرہے تھے تو ایک سوشل میڈیا نے طنزیہ ویڈیو شئیر کرتے ہوئے کہا کہ اگر بلاول بھٹو لاہور سے الیکشن جیت جاتے تو وہ شہر کو کچھ اس طرح بدل دیتے۔

عوام نے عام انتخابات کے نتائج کا طویل گھنٹے تک انتظار کیا، نتائج میں تاخیر پر بھی سوشل میڈیا پر میمز کی بھرمار رہی۔

ایک صارف نے تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستانی اس طرح بیٹھ کر عام انتخابات کے نتائج کا انتظار کررہے ہیں۔

اس بار عام انتخابات میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے پہلی بار ووٹ کاسٹ کیا تھا، اسی پر ایک صارف نے میم شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ پہلی بار ووٹ کاسٹ کرنے والے نوجوان این اے (قومی اسمبلی) اور پی اے (صوبائی اسمبلی) کو سمجھ نہیں پا رہے۔

ایک صارف نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کا ذکر کرتے ہوئے ویڈیو شئیر کی جس میں بظاہر ٹیسٹ پیپر کے نتائج میں ہنر مندی سے اصل مارکس 81 کو 84 لکھا جارہا ہے اور ساتھ میں A پلس گریڈ بھی دیا جارہا ہے۔

ایک اور صارف نے ویڈیو شئیر کی جس میں ایک شخص ووٹ سلپ دکھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ سندھ کے اندرون شہر میں الیکشن کے دوران کرسٹیانو رونالڈو اور لیونل میسی جیسے عظیم فٹ باؤلرز نے بھی ووٹ دیا ہے۔

الیکشن کے روز موبائل سروس اور انٹرنیٹ بند ہونے پر ایک صارف نے لکھا کہ انٹرنیٹ کی سست روی کی وجہ سے ’پرائم منسٹر آف پاکستان‘ ابھی تک انسٹال نہیں ہوا، نتائج کا اب تک انتظار ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں