19 فروری کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں قلندرز اور گلیڈی ایٹرز کے درمیان میچ میں شرکت کے لیے آنے والی فریال نامی خاتون کو سیکیورٹی اہلکاروں نے گیٹ پر روک لیا، خاتون کے ہاتھوں میں بینر تھا جس پر فلسطین کے حق میں نعرے درج تھے۔

فریال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے غصے کا اظہار کرنے کرتے ہوئے لکھا کہ ’سیکیورٹی اہلکار مجھے ایسے روک رہے تھے جیسے میں اپنے ساتھ ہتھیار لے کر جا رہی ہوں۔‘

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں نے فریال کو روکتے ہوئے کہا کہ ’یہ بینرز اندر لے جانے کی اجازت نہیں ہے، یہ پولیٹیکل اور متنازع پیغام ہے، کچھ لوگوں کو بُرا لگتا ہے، اگر آپ اندر جانا چاہتی ہیں تو ان بینرز کو باہر چھوڑنا ہوگا‘۔

فریال نے ڈان کو بتایا کہ سیکیورٹی گارڈز کا برتاؤ بالکل مناسب نہیں تھا، ’ان کے رویے سے میرے ساتھ آئے چھوٹے بہن بھائی خوفزدہ ہوگئے تھے اس لیے میں نے بحث کرنا مناسب نہیں سمجھا‘۔

فریال نے کہا کہ سیکیورٹی گارڈز کو جو بولا گیا تھا انہوں نے وہ کیا، یہ ان کا کام ہے، پی ایس ایل کی ٹکٹس کے پیچھے لکھی شرائط میں سے ایک کے مطابق ’ایسے پوسٹرز، بینرز یا پلے کارڈز جن میں مذہبی، سیاسی، یا نسلی امتیاز کا متن یا تصاویر شامل ہوں، انہیں لے جانا سختی سے منع ہے۔‘

تاہم فریال کا پیغام فلسطین پر اسرائیل کے قبضے کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کے مطابق تھا۔

فلسطین کے معاملے پر حکومت کے واضح نقطہ نظر کے باوجود پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے تماشائیوں کو فلسطین کے حق میں بینرز لے جانے سے منع کرنے کا فیصلہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

جب کہ دوسری جانب یورپی فٹ بال میں فلسطین کی حمایت میں مظاہرے عام رہے ہیں، سیلٹک کی گرین بریگیڈ نے 17 فروری کو کلمارنک کے خلاف اپنے اسکاٹش پریمیئر شپ میچ کے دوران فلسطین سے یکجہتی کا اظہار کیا تھا، تاہم حال ہی میں کرکٹ ایشیا کپ کے دوران فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

تبصرے (0) بند ہیں