جنرل کا وعدہ

06 دسمبر 2014

ای میل

تردید اور الزامات کے بجائے ہمیں اپنے گھر کو ٹھیک کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
تردید اور الزامات کے بجائے ہمیں اپنے گھر کو ٹھیک کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

پرجوش باتیں کرنا ایک چیز ہے مگر بلند و بالا دعوے کرتے ہوئے انتہائی احتیاط سے کام لیا جانا چاہیے۔ ہمارے آرمی چیف نے حال ہی میں امریکا میں اپنی ایک ہفتے طویل فوجی سفارتکاری کے دوران کہا "داعش کو پاکستان اور افغانستان میں آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی"۔

کیا یہ امریکا کے لیے خوشی کی بات ہے؟ کیا آرمی چیف پاکستان اور افغانستان سے سخت گیر طالبان اور ان کے حامیوں کو خود ساختہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجوﺅں کی صفوں میں شامل ہونے کے لیے مشرق وسطیٰ کا رخ کرنے سے روک سکتے ہیں؟ ہم آئی ایس کی وال چاکنگ تو مٹا سکتے ہیں مگر خودکش مشن پر جانے والے فرد کو روکنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ فوجی آپریشن "تمام گروپس کے خلاف بلاامتیاز کیا جا رہا ہے چاہے وہ حقانی نیٹ ورک ہو یا تحریک طالبان پاکستان یا کوئی اور"۔

انتہاپسندوں کے خلاف جنگ ان کے خاتمے تک جاری رکھنے کے وعدے سے ان کی صلاحیت کی آزمائش ہوگی کہ وہ کس طرح سیکیورٹی اداروں کے اندر موجود عناصر کو عسکریت پسند غیر ریاستی کرداروں اور مذہبی انتہاپسندوں سے الگ کرپاتے ہیں جنھیں طویل عرصے سے خطے کے تنازعات میں پراکسی کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔

آرمی چیف کا ایک اور بیان کہ آپریشن ضرب عضب صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ "یہ ہر طرح کی دہشتگردی کو شکست دینے کا تصور ہے"، زمینی حقائق کے خلاف ہے۔ اس فقرے کے ذریعے معاشرے کے اندر موجود عسکریت پسندانہ ذہنیت پر قابو پانے کے حوالے سے الجھن کو حل نہیں کیا جاسکتا۔

ناقص ریاستی پالیسیوں کے نتیجے میں تباہ کن مذہبی انتہاپسند طاقتیں بے لگام ہوئیں اور تشدد و عدم برداشت کے اسپانسرز تاحال داخلی تنازعات سے طاقت حاصل کررہے ہیں۔

دیوانگی کی حد تک پہنچی انتہاپسندی کا اظہار حال ہی میں لاہور کے مضافات میں اس وقت ہوا جب ایک مشتعل ہجوم نے ایک غریب و ان پڑھ عیسائی جوڑے پر توہین مذہب کے الزامات لگنے کے بعد چڑھائی کرتے ہوئے انہیں اینٹوں کے بھٹے میں زندہ جلا کر ہلاک کردیا۔ کیا ایک فوجی کارروائی اس ذہنیت کو شکست دے سکتی ہے؟ جنرل صاحب، بولنے سے پہلے سوچنا سیکھیں۔

گزشتہ ماہ کی فوجی سفارتکاری ممبئی حملوں کے چھ برس مکمل ہونے کے موقع پر ہی ہوئی تھی۔ علاوہ ازیں وزیراعظم نے بھی حال ہی میں نیپال میں ہونے والی سارک کانفرنس میں پاکستانی چہرے کو بدنما کرنے اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے نام پر کشمیر کے حقیقی تنازع کو سائیڈ ٹریک کرنے کے جارحانہ ہندوستانی منصوبے کے حوالے سے اہم سفارتی مشن مکمل کیا۔

وزیراعظم نے چند ہفتے قبل کہا تھا "پاکستان پر دہشت گردوں کے دفاع کا ہندوستانی پروپیگنڈا درحقیقت ہندوستان کی جانب سے اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کی ایک کوشش ہے، ہم دہشت گردی اور دہشتگردوں کا خاتمہ کر رہے ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "پاکستانی اداروں پر دہشت گردی کے الزامات جھوٹ سے زیادہ کچھ نہیں"۔

تاہم تردید اور الزامات کے بجائے ہمیں اپنے گھر کو ٹھیک کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

نومبر 2008 میں ممبئی حملوں میں مبینہ کردار پر گرفتار لشکر طیبہ کے سات افراد کے خلاف اڈیالہ جیل میں 'تیز رفتار ٹرائل والی انسدادِ دہشتگردی عدالت' میں ٹرائل انتہائی سست روی سے جاری ہے۔

اگرچہ ایف آئی اے کے خصوصی تحقیقاتی گروپ نے ملزمان پر فردِ جرم کے لیے پیشہ وارانہ انداز میں ثبوت اکٹھے کیے، لیکن مگر ٹرائل کا عمل ایف آئی اے پراسیکیوٹر کے قتل کے بعد سست رفتاری کا شکار ہوگیا اور کچھ گواہ اپنے اصل بیانات سے مکر گئے۔ اگر انصاف کا عمل جلد مکمل نہ ہوا تو اس کے نتیجے میں خاطرخواہ قومی شرمندگی کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ہر قسم کی دہشت گردی کو شکست دینے کے 'تصور' کا آغاز ہماری ملک کی اندرونی سیکیورٹی میں موجود فالٹ لائن سے ہونا چاہیے، جبکہ فرقہ وارانہ دہشت گردی پر قابو پانا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

بمشکل ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہوگا جب لشکرِ جھنگوی (ایل جے) کے عسکریت پسندوں کی جانب سے ملک میں شیعہ برادری کو نشانہ نہیں بنایا جاتا ہوگا۔ جھنگ 1980 کی دہائی کے اوائل میں فرقہ وارانہ نفرت کا مرکز اس وقت بن گیا تھا جب شعلہ بیان مولوی حق نواز جھنگوی کی بریلویوں کی خلاف زہر انگیز تقریریں ضیاء دور میں اچانک شیعہ مخالف ہوگئی تھیں۔

حق نواز جھنگوی اور ان کے ساتھ تین دیگر افراد نے 1985 میں انجمن سپاہ صحابہ کی بنیاد رکھی جس کا نام بعد میں تبدیل کر کے سپاہ صحابہ پاکستان کردیا گیا۔

سال 1990 میں حق نواز جھنگوی کے قتل کے بعد ریاض بسرا، ملک اسحاق، اکرم لاہوری اور غلام رسول نے کالعدم سپاہ صحابہ (جو اب اہل سنت و الجماعت کے نام سے کام کررہی ہے) کے اندر لشکرِ جھنگوی کے نام سے ایک عسکری ونگ تشکیل دیا۔

ریاض بسرا کو لاہور پولیس نے 1992 میں گرفتار کرلیا تھا مگر وہ 1994 میں عدالتی حوالات سے فرار ہوگیا اور اس کے بعد 2002 میں اپنی گرفتاری و ہلاکت تک 'مقدس' قتل و غارت میں لگا رہا۔ دوسری جانب غلام رسول بھی پنجاب پولیس کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچا۔

اس گروپ کے باقی بچ جانے والے دو افراد اطلاعات کے مطابق تاحال جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے فرقہ وارانہ حملوں کے ماسٹرمائنڈ بنے ہوئے ہیں۔

2008 کے شروع میں کوئٹہ کنٹونمنٹ کی سخت سیکیورٹی والے حراستی مرکز سے لشکر جھنگوی کے دو سخت گیر عسکریت پسند سیف اللہ کرد اور داﺅد بادینی کے فرار کے بعد بلوچستان کی شیعہ ہزارہ برادری بھی جان لیوا حملوں کا ایک ہدف بنی ہوئی ہے۔

مگر آخرکار ان دونوں مفرور ملزمان میں سے ایک کو حال ہی میں گرفتار کرلیا گیا ہے اور یہ ایک اہم پیشرفت ثابت ہوسکتی ہے۔

ٹی ٹی پی تاحال ملک میں بیشتر پرتشدد حملوں کی ذمہ دار ہے اور حال ہی میں لندن سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ، جس میں پاکستان کو گلوبل ٹیررازم انڈیکس میں تیسرے نمبر پر رکھا گیا ہے، کے مطابق یہ تنظیم "سال 2000 سے اب تک 778 حملے کرنے کی دعویدار ہے۔"

سال 2013 سب سے پرتشدد ثابت ہوا جس کے دوران 1933 واقعات میں 2345 افراد ہلاک ہوئے، اور رواں سال جون میں شمالی وزیرستان ایجنسی میں فوجی آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ اگرچہ تاخیر سے ہوا، مگر یہ ضروری تھا۔ اس کے نتائج اب تک اطمینان بخش تو قرار دیے جارہے ہیں، مگر اس جنگ کا خاتمہ جلد ہونے والا نہیں۔

فاٹا میں ٹی ٹی پی اور اس کے اتحادیوں کے خلاف فوجی آپریشن کے ساتھ آئی ڈی پیز کی بحالی، اقتصادی مواقع اور فوجداری نظام انصاف کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح موثر سرحدی کنٹرول اور مناسب انتظامی سسٹمز بھی تشکیل دیے جانے چاہیئں۔

بلوچستان میں ریاستی رٹ کو قانون کی حکمرانی کے ذریعے نافذ کیا جانا چاہیے اور اس مقصد کے لیے پولیس کے دائرہ اختیار کو توسیع دی جانی چاہیے تاکہ فرنٹیئر کور اپنی توجہ سرحدی کنٹرول پر مرکوز کرسکے۔ اسی طرح کراچی آپریشن میں مجرموں کے بجائے جرم کے خاتمے پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔ تشدد تشدد کو جنم دیتا ہے، اور بے رحمی کو پروان چڑھاتا ہے

یہ نہ صرف ایک خطرناک رجحان ہے، بلکہ ایک تباہ کن انتہا بھی ہے۔

قومی سلامتی پالیسی، انسداد دہشت گردی حکمت عملی یا انسداد انتہاپسندی منصوبے کی عدم موجودگی کے باعث فوج وہی کرنے کی کوشش کررہی ہے جس کی اسے تربیت دی جاتی ہے، یعنی ریاست کے دشمن سمجھے جانے والے عناصر کو مار دینا۔

بدقسمتی سے دلوں اور ذہنوں کو صرف اسلحے کے بل پر نہیں جیتا جاسکتا۔ سماجی اقتصادی انصاف، قانون کی حکمرانی اور انفرادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے سے ہی بتدریج فرق پیدا ہوگا۔

انگلش میں پڑھیں۔


لکھاری سابق پولیس افسر ہیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 1 دسمبر 2014 کو شائع ہوا۔