سپریم کورٹ: تھر کول منصوبے میں بدعنوانی پر تحقیقاتی کمیٹی تشکیل

اپ ڈیٹ 11 اکتوبر 2018

ای میل

تھر کول منصوبے کی سائٹ —فائل فوٹو
تھر کول منصوبے کی سائٹ —فائل فوٹو

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے تھر کول پاور پروجیکٹ میں بدعنوانی پر کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے قومی احتساب بیورو (نیب) سے منصوبے میں بدعنوانی کی تحقیقات سے متعلق جواب بھی طلب کرلیا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے تھرکول پاور پراجیکٹ پر از خود نوٹس کی سماعت کی۔

معروف سائنسدان اور تھر میں زیر زمین گیس نکالنے کے منصوبے کے چیئرمین ڈاکٹر ثمر مبارک مند عدالت میں پیش ہوئے اور اس منصوبے سے متعلق تفصیلات عدالت کو بتائیں۔

ڈاکٹر ثمر مبارک نے بتایا کہ ’ہم نے 8 ارب 80 کروڑ روپے سے 100 میگاواٹ کا پلانٹ لگایا اور یہ منصوبہ سندھ حکومت کا تھا، جبکہ اکتوبر 2012 میں 90 کروڑ فنڈ ملا اور 15-2014 میں 8 میگاواٹ کے منصوبے مکمل ہوئے‘۔

مزید پڑھیں: تھر کول منصوبہ: 'اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ بچانا ممکن'

جس پر چیف جسٹس نے ڈاکٹر ثمر مبارک سے کہا کہ ’آپ اپنے منصوبے کی تعریف نہ کریں، ہمیں دیکھنا ہے کہ آپ نے کیا کیا ہے'۔

عدالت نے استفسار کیا کہ ’زیر زمین گیس پروجیکٹ پر 3 ارب 40 کروڑ روپے خرچ کرنے کے باوجود توانائی کی پیداوار صرف 8 میگاواٹ کیوں ہے؟

چیف جسٹس نے ڈاکٹر ثمر مبارک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا منصوبہ ناکام ہوگیا ہے آج تک صرف 8 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے جس پر سائنسدان کا کہنا تھا کہ منصوبہ ناکام نہیں ہوا بلکہ اس کی فنڈنگ رک گئی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس میں بہت لوگ ملوث ہوں گے، دیکھنا ہے کہ اتنا پیسہ کہاں گیا اور کس نے کھایا؟

یہ بھی پڑھیں: 'تھرکول منصوبے کے متاثرین کیلئے روزگار کے بہترین مواقع'

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں منصوبے کے حوالے سے رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ ایک پرجیکٹ 1320 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا جس پر ایک ارب 90 کروڑ ڈالر کی لاگت آئے گی جبکہ 330 میگاواٹ کے تین منصوبے زیرِ تکمیل ہیں اور ان پر ایک ارب 77 کروڑ ڈالر لاگت آئے گی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے یہ بھی بتایا کہ درآمدی کوئلے سے چلنے والا ایک پلانٹ پورٹ قاسم دوسرا ساہیوال میں لگا، دونوں 1320 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا اپنی رپورٹ میں کہنا تھا کہ اس منصوبے میں کل 6 بجلی کے پیداواری پروجیکٹ ہیں جن میں سے 4 سی پیک کا حصہ ہیں اور 2 پرائیویٹ ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پرائیویٹ کمپنیوں کے نام سلیم سنز اور لکی فاؤنڈیشن ہیں اور ان کا سی پیک سے تعلق نہیں ہے جبکہ سی پیک میں شامل کمپنیوں میں تھر کول پاور جنریشن، تھر کول انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ اور تھر نووا پروجیکٹ شامل ہیں، صدیق سنز لمیٹڈ اور لکی پاور کمپنی بھی سی پیک میں شامل ہے۔

مزید پڑھیں: تھرکول منصوبہ: یوسی جی ملازمین کا تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر احتجاج

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ امپورٹڈ کول پاور پروجیکٹ اور پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی کے بھی تھر کول پروجیکٹس ہیں۔

عدالت نے زیر زمین گیسوں سے بجلی کی پیداوار کے منصوبے میں بد عنوانی پر توانائی ماہرین اور سائنسدانوں پر مشتمل کمیٹی بنادی جبکہ سلمان اکرم راجہ اور شہزاد الہیٰ کو عدالتی معاون بھی مقرر کر لیا گیا۔

علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) سے منصوبے میں بد عنوانی کی تحقیقات سے متعلق جواب بھی طلب کرلیا۔

عدالت نے تھر میں زیرِ زمین گیس منصوبے میں ملازمین کو عدم ادائیگی کا بھی نوٹس لیتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔