پی ٹی آئی حکومت کا پہلا سال، مہنگائی کی شرح 11.63 تک پہنچ گئی

اپ ڈیٹ 05 ستمبر 2019

ای میل

ایک سال میں تازہ دودھ اور دہی کی قیمت میں 7،7 روپے فی کلو اضافہ ہوا — فائل فوٹو/ ٹوئٹر
ایک سال میں تازہ دودھ اور دہی کی قیمت میں 7،7 روپے فی کلو اضافہ ہوا — فائل فوٹو/ ٹوئٹر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے پہلے سال میں ملک بھر میں مہنگائی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا اور اس کی شرح 11.63 فیصد تک پہنچ گئی۔

ادارہ شماریات کی جانب سے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق اگست 2018 کے مقابلے میں اگست 2019 میں ملک بھر میں مہنگائی کی شرح 5.84 سے بڑھ 11.63 فیصد ہوگئی۔

اعداد و شمار کے مطابق ایک سال میں 10 کلو گرام گندم 29 روپے اور آٹے کا 10کلوگرام کا تھیلا 39 روپے مہنگا ہوا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی حکومت کے دوران مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ

علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے سال میں باسمتی چاول کی قیمت میں 6 روپے فی کلوگرام اضافہ ہوا۔

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق اگست 2018 تا اگست 2019 تک گائے کا گوشت فی کلو گرام 45 روپے اور بکرے کا گوشت 84 روپے فی کلو گرام مہنگا ہوا جبکہ زندہ برائلر مرغی کی قیمت میں 61 روپے اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق ایک سال میں تازہ دودھ اور دہی کی قیمت میں 7، 7 روپے فی کلو اضافہ ہوا اور ڈھائی کلو گرام کوکنگ آئل 82 روپے مہنگا ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: مہنگائی 5 سال کی بلند ترین شرح 9.4 فیصد تک پہنچ گئی

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مسور کی دال 12روپے، مونگ کی دال 57، ماش کی دال 34 اور چنے کی دال 13 روپے فی کلو مہنگی ہوئی جبکہ ایک کلو گرام چینی کی قیمت میں 20 روپے تک اضافہ ہوا۔

ادارہ شماریات کے مطابق ایک برس میں لہسن 133 روپے فی کلو، آلو 7 روپے، پیاز 23 روپے اور ٹماٹر 12 روپے فی کلو مہنگے ہوئے۔

اعداد و شمار کے مطابق ایک سال میں 200 گرام چائے کی قیمت میں 16 روپے تک اضافہ ہوا جبکہ سگریٹ کا پیکٹ 25 روپے مہنگا ہوا۔

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق اگست 2018 کے مقابلے اگست 2019 میں شہری علاقوں میں گیس 114.64 فیصد مہنگی ہوئی جبکہ بجلی کی قیمت میں 0.79 فیصد اور لیکیوفائیڈ ہائیڈروکاربنز ( ایل پی جی) کی قیمت میں 15.19 فیصد کمی آئی ۔

اس کے ساتھ ہی گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں برس اگست میں مرغی کی قیمت میں 75.27 فیصد اور گوشت کی قیمت میں 12.05 فیصد اضافہ ہوا۔

مزید پڑھیں: آئندہ چند برسوں تک مہنگائی کی شرح بلند رہنے کا امکان

مونگ کی دال 46.32 فیصد، ماش کی دال 29.52 فیصد، مسور کی دال 13.53 فیصد اور چنے کی دال 11.42 فیصد مہنگی ہوئی۔

ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں برس اگست میں چینی 33.8 فیصد، کوکنگ آئل 19.79 فیصد، ویجیٹیبل گھی 17.13 فیصد اور پاؤڈر ملک 10.91 فیصد مہنگا ہوا۔

اگست 2018 کے مقابلے میں اگست 2019 میں سگریٹ 37.96 فیصد، ڈاکٹر کی فیس میں 14.98 فیصد اور ادویات کی قیمت میں 17.2 فیصد اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق گاڑیوں کے ایندھن کی قیمت میں 23.43 فیصد اضافہ اور گاڑیوں کا ساز و سامان 23.66 فیصد مہنگا ہوا۔

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں برس دیہی علاقوں میں پیاز 62.51 فیصد، آلو 28.08 فیصد، مرغی 56.48 فیصد، کوکنگ آئل 21.01 فیصد اور ویجیٹیبل گھی 15.8 فیصد مہنگا ہوا۔

علاوہ ازیں اس عرصے میں چینی کی قیمت میں 37.34 فیصد، ماش کی دال کی قیمت میں 31.39 فیصد، مونگ کی دال کی قیمت میں 50.79 فیصد اضافہ ہوا۔

سال 2018 کے مقابلے میں 2019 میں دیہی علاقوں میں سگریٹ 32.37 فیصد جبکہ ڈاکٹر کی فیس میں 17.12 فیصد اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق گاڑیوں کے ساز و سامان کی قیمت میں 19.53 فیصد، گاڑیوں کے ایندھن کی قیمت میں 23.18 فیصد اضافہ ہوا جبکہ لیکویفائیڈ ہائیڈروکاربنز (ایل پی جی ) کی قیمت میں 2.36 فیصد کمی آئی۔

ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں برس 2019 میں دیہی علاقوں میں انڈوں کی قیمت میں 1.64 فیصد، چنے کی قیمت میں 1.51 فیصد اور بجلی کی قیمت میں 0.79 فیصد کمی آئی۔