منشیات اسمگلنگ کیس: رانا ثنااللہ کا مزید عدالتی ریمانڈ منظور

09 اکتوبر 2019

ای میل

رانا ثنا اللہ کو منشیات اسمگلنگ کیس میں گرفتار کیا گیا تھا—فائل فوٹو: ڈان نیوز
رانا ثنا اللہ کو منشیات اسمگلنگ کیس میں گرفتار کیا گیا تھا—فائل فوٹو: ڈان نیوز

لاہور کی انسداد منشیات گردی عدالت نے منشیات اسمگلنگ کیس میں مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کے عدالتی ریمانڈ میں 9 روز کی توسیع کردی۔

ساتھ ہی عدالت نے ملزم کو دوبارہ 18اکتوبر کو عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم دے دیا جبکہ رانا ثنااللہ پر فرد جرم عائد کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری کردیے۔

انسداد منشیات گردی کی عدالت میں ڈیوٹی جج خالد بشیر نے کیس کی سماعت کی، اس دوران مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر کو پیش کیا گیا جبکہ اینٹی نارکوٹس فورس (اے ایف ایف) کی جانب سے خصوصی پراسیکیوٹر چوہدری کاشف جاوید پیش ہوئے۔

مزید پڑھیں: رانا ثنااللہ کو جیل میں گھر کا کھانا دینے کی درخواست مسترد

اس دوران اے این ایف پراسیکیوٹر نے ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کی استدعا کی۔

تاہم ملزم کے وکیل اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ نے کہا کہ فوٹیجز محفوظ کرلی گئیں ہیں اور ان کے ضائع ہونے کا ہمارا اندیشہ ختم ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ بیگ نکالا اور اس کے خفیہ خانے سے منشیات نکالنے کا کہا گیا، یہ تمام کہانی جھوٹی ہے، رانا ثنااللہ کا موقف سی سی ٹی وی فوٹیجز کے بعد سچ ثابت ہوا، باقی تو یہاں جنگل کا قانون ہے۔

اس پر اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ اس ریکارڈ کو عدالت میں پیش کیا جائے، یہ جو کارروائی ہو رہی ہے کس قانون کے تحت کارروائی کی جارہی ہے، اگر ڈیوٹی جج ٹرائل سن سکتا ہے تو پھر ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی جائے۔

اے این ایف کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ باہر جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے لیکن اس کیس کو ہائی جیک کیا جا رہا ہے۔

اسی دوران ملزم کے وکیل کی جانب سے کہا گیا کہ یہ بشیر بوٹا گاما نہیں یہ ریاست کی نمائندگی کرتے ہیں، جس پر اے این ایف پراسیکیوٹر نے عدالت میں شاعری کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام، یہ قتل بھی کردیں تو چرچا نہیں ہوتا'۔

اس پر ملزم کے وکیل نے کہا کہ یہ تو واٹس ایپ پر تباہی پھیر دیتے ہیں جبکہ 2 کلومیٹر پر تو ہائی کورٹ ہے، اس پر اے ایف ایف کے وکیل نے کہا کہ 2 سے 3 منٹ کے فاصلے پر پراسیکیوشن کو جھوٹا قرار دیا جارہا ہے۔

عدالت میں دلائل دیتے ہوئے اے این ایف پراسیکیوٹر نے بتایا کہ سیف سٹی اتھارٹی کے مطابق 30 دن تک ڈیٹا ختم ہوجاتا ہے جبکہ راناثنا اللہ کے معاملے میں ان کی درخواست 30 روز گزرنے کے بعد دی گئی اور ڈیٹا بھی محفوظ رہا، باقی دنیا کے ساتھ 30 دن اور ان کے ساتھ 39 دن یہ کیا معاملہ ہے۔

اے این ایف پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ جس نے یہ سی سی ٹی وی فوٹیجز محفوظ کی ہیں، اس پر بھی جرح کی اجازت دی جائے، ٹرائل سے پہلے ٹرائل نہ کروایا جائے، پہلے ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی جائے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کوئی فوری نوعیت کا معاملہ نہیں ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز محفوظ ہو گئی ہیں، جس پر ملزم کے وکیل نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 10 اے لوگوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے جبکہ ریاست ماں ہوتی ہے۔

ملزم کے وکیل نے کہا کہ پی ٹی اے کا نمائندہ آکر کہہ دے کہ یہ سی ڈی آر محفوظ رہیں گی تو ہم مان لیں گے، راناثنااللہ کے فون کی سی ڈی آر نہیں دی جارہی، وہاں بھی ریڈ الرٹ لگایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: منشیات کیس: رانا ثنااللہ نے درخواست ضمانت واپس لے لی

اس پر اے این ایف پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم کی ریاست میں ایک بندے کی قیمت میں 20 کروڑ بندوں کو بچانا ہے، اس پر عدالت میں شیم شیم کے نعرے لگنا شروع ہوگئے جس پر پراسیکیوٹر نے اعتراض کیا۔

پراسیکیوٹر کی بات پر ملزم کے وکیل نے کہا کہ میرے خیال میں اب عدالتیں ہی ایک فورم رہ گئی ہیں، جہاں لوگ اپنا اظہار کرسکتے ہیں، اس پر جج خالد بشیر نے ریمارکس دیے کہ آپ اپنے ساتھ 5 سے 7 افراد کو لے آیا کریں ورنہ ہم حکم کردیں گے۔

اس پر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اگر یہ چاہتے کہ رانا ثنا اللہ کا ٹرائل ہو اور لوگوں کو پتہ چلے کہ رانا ثنااللہ منشیاب اسمگلنگ میں ملوث ہیں تو سی سی ٹی وی فوٹیجز خود پیش کرتے۔

بعدازاں عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد ملزم راناثنااللہ کو مزید عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔