اسرائیلی فوج کا فلسطینی بچے کے سامنے اس کے والد پر تشدد، ویڈیو وائرل

اپ ڈیٹ 06 نومبر 2019

ای میل

ویڈیو پر عوامی غم و غصہ دیکھتے ہوئے اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ وہ واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ — فائل فوٹو/اے پی
ویڈیو پر عوامی غم و غصہ دیکھتے ہوئے اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ وہ واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ — فائل فوٹو/اے پی

اسرائیلی فوج کا نہتے فلسطینیوں پر تشدد کا سلسلہ جاری ہے جہاں ایک فلسطینی پر تشدد کی ویڈیو پر وائرل ہوگئی جس پر سخت غصے کا اظہار کیا گیا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں 2 اسرائیلی فوجیوں کو ایک فلسطینی شہری پر اس کے بچے سامنے بندوق تانتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

ایرانی نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ویڈیو کے سامنے آنے پر فلسطینی سوشل میڈیا صارفین میں غم و غصہ بڑھ گیا ہے۔

مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں پیش آنے والے واقعے کی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اسرائیلی فوجی پہلے نہتے فلسطینی پر چلا رہے ہیں اور چلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ 'یہ بچہ فوجیوں پر پتھر پھینک رہا ہے' جس پر والد نے کہا کہ 'یہ پتھر کیسے پھینک سکتا ہے یہ تو صرف 5 سال کا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے زیر حراست سینئر مسلمان عہدیدار کو رہا کردیا

اسرائیلی فوجی نے جواب دیا کہ 'ہاں یہ پتھر برسا رہا ہے اور تمہارے سارے دوست پتھر برسارہے ہیں، اس کی جتنی بھی عمر ہے مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں'۔

اسی دوران ایک اور اسرائیلی فوجی نے فلسطینی شخص کو مارنا شروع کردیا جس پر مذکورہ شخص کہہ رہا ہے کہ 'مجھ پر ہاتھ نہیں اٹھاؤ'۔

جب مذکورہ شخص اپنے بچے کے ساتھ واپس جانے لگا تو ایک اور فوجی نے فلسطینی شخص پر بندوق تان لی۔

اس واقعے نے کئی افراد کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ہے جس پر اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ وہ واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: اسرائیل نے عالمی مانیٹرنگ گروپ کو کام سے روک دیا، ترکی کی مذمت

واضح رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ اسرائیلی فوج کی فلسطینیوں پر تشدد کرتے ہوئے ویڈیو سامنے آئی ہو۔

گزشتہ ہفتے ہی اسرائیلی فورسز کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں اسرائیلی پولیس افسر کو غیر مسلح فلسطینی نوجوان پر فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

اسرائیلی پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ واقعہ ایک یا ڈیڑھ سال قبل پیش آیا تھا اور افسر کو فلسطینی شخص پر تفریح کے لیے ربڑ کی گولی چلانے پر گرفتار کیا جاچکا ہے۔